منشی عبدالکریم ایک قصہ ایک سبق

انگریزی میں کہاوت ہے کہ ڈونٹ فارگیٹ دا پاسٹ یعنی اپنے ماضی کو مت بھولیں. مگر ہمارے اصل اربابِ اختیار ہمیشہ اپنے ماضی کو بھول کر وہی غلطیاں کرتے آئے ہیں جو انکے آباؤ اجداد کرتے آرہے ہیں.
منشی عبدالکریم کی زندگی ارباب اختیار کے لیے ایک سبق آموز کہانی ہے. چلیے ایک نظر تاریخ کے ان پنوں پر ڈالتے ہیں جہاں نوکر شاہی کا تذکرہ محلوں کے اوراق سے ملتا ہے. 1887 میں جب ملکہ برطانیہ کی گولڈن جوبلی منائی جا رہی تھی تب ہندوستان سے دو نوکروں کو چن کر برطانیہ کی ملکہ کی خدمت کے لیے بھجوایا گیا. دونوں نوکر میجر جنرل Dennhey کے اختیار میں آگئے. میجر جنرل Denhhey نے 23 جون 1887 کو Windsor کے frogmore House میں دونوں نوکروں کو ملکہ کی خدمت میں ناشتے کے وقت پیش کیا, اس کا تذکرہ ملکہ نے اپنی ڈائری میں اس طرح کیا ہے, “بخش کے علاوہ دوسرا زیادہ صاف رنگ, زیادہ جوان, زیادہ لمبا اور زیادہ سنجیدہ مزاج تھا, عبدل کا باپ انڈیا میں ایک ڈاکٹر تھا.. ان دنوں نے میرے قدموں کو بڑے ادب سے چومہ”.
ملکہ نے کچھ دن غوروفکر کے بعد یہ احساس کیا کہ یہ دونوں ہندوستانی نوکر بڑے تحمل مزاجی سے ملکہ کے لیے ویٹری کرتے تھے اور یہ اس کام کے ماہر تھے. ملکہ کا کسی بھی ہندوستانی سے پہلی بار واسطہ پڑا تھا.. 3 اگست 1887 میں ملکہ نے اپنے خط میں لکھا,” میں کچھ ہندوستانی الفاظ اپنے نوکروں کے ساتھ بولنے کے لیے سیکھ رہی ہوں. میرے لیے زبان اور ہندوستان کے لوگ بہت دلچسپی کا باعث ہیں کیوں کے اس سے پہلے میں کبھی کسی ہندوستانی سے اصل میں نہیں ملی.” 20 اگست کو ملکہ نے ہندوستان کی کڑی کھائی جو اس بہت مزیدار لگی اور ہندوستان کی کڑی ملکہ کے مینیو کا مستقل حصہ بن گئی. 30 اگست کو ملکہ نے عبدالکریم سے برودا کی مہا رانی چمنا بائی کو سلام کرنے کے لیے کچھ اردو کے الفاظ بھی سیکھے.
1887 سے 1888 تک عبدالکریم نے انگریزی پر عبور حاصل کرلیا جس کو جان کر ملکہ کو بہت خوشی ہوئی اور عبدالکریم کو ویٹری سے پرموٹ کر کے اپنا منشی بنا دیا مگر پرموشن ملنے کے باوجود اسٹیٹس نہیں بدلا اور ملکہ کی وفات تک عبدل ویٹری اور خدمت گزاری ہی کرتا رہا.
ملکہ کے ایک خط میں عبدل کے لئے اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کیا گیا تھا ملکہ کے بقول عبدل ایک ذہین, بہت اچھا, نیک, نرم مزاج اور بہت ہی زیادہ متقی انسان تھا. ملکہ وکٹوریہ فلسفے, سیاست اور عملی زندگی پر عبدل سے باتیں کیا کرتی تھی. عبدل اپنی ہر بات میں اللہ کی مرضی کا تذکرہ ضرور کیا کرتا تھا ملکہ نے اپنے سب سے پسندیدہ نوکر John Brownie کا کمرہ بھی عبدل کی نذر کردیا تھا.
نومبر 1888, میں عبدل کو چار مہینے کی چھٹی دی گئی, عبدل انڈیا میں ملکہ سے خط و کتابت بھی کرتا رہا اور ایک خط میں اس نے اپنے باپ کی ریٹائرمنٹ کے دن قریب آنے کا تذکرہ کرتے ہوئے پینشن جاری کرنے کی گزارش کی ملکہ نے وائسرائے آف انڈیا کو خط لکھتے ہوئے عبدل کے باپ کی پینشن فوری جاری کرنے کا حکم دیا.
عبدل کی واپسی پر شاہی گھرانہ اس کی ملکہ کے ساتھ قربت پر بہت حسد کا شکار ہوگیا. اب عبدل کو اس کی اوقات میں رکھنے کے لیے اسے احساس بھی کرایا جانے لگ گیا تھا مگر وہ بیچارہ اپنے آپ کو شاہی گھرانے کا فرد سمجھنے لگ گیا تھا. ملکہ کے سامنے جب بھی عبدل کی خامیاں پیش کی جاتی تو ملکہ اس کو نظر انداز کر دیا کرتی تھی.
کچھ عرصے بعد عبدل جب بیمار پڑ گیا تو ملکہ نے اپنا ذاتی معالج عبدل کی تیمارداری کے لیے لگا دیا اور خود بھی روز عبدل کی خیریت دریافت کرنے اس کے پاس جایا کرتی تھی. عبدل کی صحتیابی تک اس کا بہت خیال رکھا گیا اور عبدل سمیت کسی بھی ہندوستانی نوکر کا خیال ملکہ نے اپنی ذمہ داری سمجھیں.
ملکہ نے 1890 میں عبدل کی پینٹنگ بنوائی, ملکہ وکٹوریہ اپنی گرتی صحت کے باعث اس بات پر فکر مند رہنے لگی کہ میرے بعد شاہی خاندان عبدل کے ساتھ کیا سلوک کرے گا. اس لئے انعام و اکرام, نوازشیں عبدل کو دی جانے لگی اور عبدل کو کئی زمینیں بھی انعامات کے طور پر دی گئی. عبدل نے اپنے لئے ملکہ سے ‘نواب’ کا خطاب مانگا جسے شاہی خاندان کی مخالفت کے باعث رد کردیا گیا اور عبدل کو ‘کمانڈر آف وکٹوریہ آرڈر’ کا خطاب دے دیا گیا.
1901 میں ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد ملکہ کے بیٹے کنگ ایڈورڈ سیون نے عبدل کو نوکری سے نکال کر انڈیا واپس بھجوا دیا. 1909 میں عبدل بھی اپنی گرتی صحت کی وجہ سے بیماری سے مر گیا مگر پھر ایڈورڈ سیون نے عبدل کے پاس موجود تمام ملکہ وکٹوریہ اور شاہی خاندان کے خطوط کو اپنے پاس منگوا کر جلا دیا تھا اور عبدل کی ریٹائرمنٹ کی پنشن بند کروا کر اس کے ساتھ ساتھ زمین بھی چھین کر اس کے خاندان کو مفلسی میں رہنے پر مجبور کردیا تھا. عبدل کہ خاندان 1947 میں کراچی ہجرت کرکے آ گیا اور آج بھی یہی آباد ہے.
آج ارباب اختیار کو سمجھنا چاہیے کہ آپ جتنا مرضی بھی دنیا کے اصل حکمرانوں کے لئے ویٹری, نوکرشاہی یا خدمت گزاری کیوں نہ کر لی مگر ایک دن عبدل کی طرح آپ کے لئے بھی ایک دن دل لگی ختم ہوجائے گی اور تمام انعام و اکرام آپ سے چھین لیے جائیں گے اور آپ کو بھی مفلسی پر رہنے کے لئے مجبور کر دیا جائے گا, اتنا مجبور کے ہوسکتا ہے کہ آپ کے اپنے ملک میں آپ کے لئے رہنے کی بھی کوئی جگہ نہ بچے اور آپ کو بھی کہیں اور ہجرت کرکے گمنامی کی زندگی گزارنی پڑے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں