بلوچ طلباءبازیابی کیس انوارالحق کاکڑ تیسری بارعدالت طلب

اسلام آباد ( آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے خلاف درخواست پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ پیش نہ ہوسکے عدالت نے آئندہ سماعت پر نگران وزیراعظم، نگران وزیر دفاع اور نگران وزیر داخلہ کو ایک بار پھر طلب کرلیا۔عدالت نے کہاہے کہ دہشتگردی تو چھوڑیں، ان کے خلاف تو منشیات، قتل، چوری سمیت کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں، 2 برس میں عدالت کے سامنے ان گمشدہ افراد سے متعلق کوئی دستاویزات یا معلومات شیئر نہیں کیے۔جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں آپ نے بیان حلفی دی کہ آج کے بعد کوئی بندہ لاپتہ نہیں ہوگا، اسلام آباد کے ایف سیسکس سے ایک بندہ بغیر ایف آئی آر کے لاپتا ہے، وزیراعظم کو بلانے کا مقصد یہ تھا کہ ریاست کے وزیراعظم اپنے کام میں ناکام کیوں ہے،انھوں نے یہ ریمارکس پیرکےروزدیے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے خلاف درخواست پر جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ نگران وزیراعظم کہاں ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نگران وزیراعظم اس وقت کراچی میں ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ نگران وزیروں اور دیگر کو بلایا تھا۔ وہ کہاں ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نگران وزیر دفاع اور وزارت داخلہ بھی مصروف ہیں۔ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ آفیشل مصروفیت کے باعث ہائی کورٹ میں پیش نہ ہوسکے ۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفیشل مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہوئے۔صحافی کے مزید سوالات پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیراعظم کا ترجمان نہیں ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں