میکاولی پالیسی اور گوادر کا مستقبل

تحریر:جیئند ساجدی
سیاسیات کے بانی میکا ویلی کی سیاست اور وعدے کے حوالے سے ایک مشہور کہاوت ہے کہ ”وعدہ کرنا ماضی کی مجبوری ہوتی ہے اور وعدہ خلافی کرنا موجودہ حالات کی مجبوری ہوتی ہے“ اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ اگر مجبوری کی حالت میں ماضی میں وعدہ کیا تھا تو حال کی مجبوری کی وجہ وعدہ توڑنے میں کوئی برائی نہیں کیونکہ وعدہ کیا ہی کسی مجبوری کی وجہ سے تھا۔سیاسیات کے جدیدو قدیم دانشور دوغلے پن کی سیاست کو میکاولی پالیسی کہتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ اکثر طاقتور بادشاہوں یا طاقتور ریاستوں نے جب بھی خود سے کمزور سیاسی قوتوں سے معاہدے کئے تو میکاولی پالیسی کے تحت ہی کئے چاہے وہ معاہدے انہوں نے کاغذی شکل میں کئے ہوں یا لفظی صورت میں۔ اس کی سب سے واضح مثال آج کی عالمی طاقت امریکہ کی ہے امریکہ کی میکاولی پالیسی اتنی پرانی ہے جتنی امریکہ کا بطور آزاد ریاست کی تاریخ۔1778ء میں جب امریکی رہنماء برطانوی سامراج سے آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے تھے تو اس وقت یورپی نژاد امریکی رہنماؤں کو یہ خیال آیا کہ مقامی امریکی جنہیں ریڈ انڈین بھی کہا جاتا ہے ان مقامی امریکیوں کی مدد کے بغیر برطانوی سامراج کو شکست دینا مشکل ہوگا۔اس لئے سفید فام امریکی رہنماؤں نے مقامی امریکی رہنماؤں سے مشترکہ جدوجہد کی درخواست کی اور معاہدہ پر دستخط بھی ہوئے جس کے تحت انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد وہ لیپانی قوم (ریڈ انڈین) کو امریکی یونین کے اندر ایک خودمختار درجہ دینگے۔ اور ان کو کانگریس میں بھی نمائندگی دیں گے جنگ کے دوران امریکہ کے OHIO ریاست میں ریڈ انڈین لیڈرs White Eyeسفید فام امریکی اور مقامی امریکی سپاہیوں کی کمانڈ کر رہے تھے۔ لیکن جنگ کے بعد جب White Eyes کی ضرورت ختم ہو گئی تو سفید فام امریکی رہنماؤں کے حکم پر سفیدفارم امریکی سپاہیوں نے White Eyes کو قتل کر دیا۔ نہ تو معاہدے کے تحت مقامی امریکیوں کو امریکی یونین میں کوئی خودمختار حیثیت ملی اور نہ ہی ان کو کانگریس میں کوئی نمائندگی ملی۔ یہ مقامی امریکی آج بھی امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔سرد جنگ کے دوران بھی امریکی رہنماؤں نے میکا ولی پالیسی کو قائم و دائم رکھا۔ 1956ء میں امریکہ نے ریڈیو فری یورپ (RFE) نامی اپنے ایک ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے یورپ کے تمام کمیونسٹ ممالک بالخصوص ہنگری میں کمیونسٹ حکومتوں اور ان کے سربراہ سوویت یونین کے خلاف پروپیگنڈہ کیااور کمیونسٹ حکومت مخالف ہنگری کے رہنماؤں کو یہ باور کروایا کہ جنگ کی صورت میں امریکہ ہنگری کے باغی رہنماؤں کی ہر طرح سے مدد کرے گا۔ 1956ء میں جب وہاں بغاوت ہو گئی اور ہنگری کے اس وقت کے کمیونسٹ حکومت کی مدد کیلئے سوویت آرمی بھی ہنگری میں داخل ہو گئی تو امریکہ نے ہنگری رہنماؤں کو بغاوت پر اکسانے کے بعد ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور اس دوغلے پن کا دفاع ایک امریکی رہنماء نے کچھ اس طرح کیا کہ ہنگری کی آزادی کیلئے ہم تیسری عالمی جنگ نہیں چھیڑ سکتے۔ 1960ء کی دہائی میں اسوقت کے عراق کے صدر عبدالرحیم قاسمی بھی سوویت یونین سے قربت کی غلطی کر بیٹھے جس کے نتیجے میں امریکہ نے عراق میں حکومت مخالف باتھ پارٹی (جس سے صدام حسین کا تعلق تھا)اور عراقی کردوں کو اسلحے سے لیس کیا۔ کردوں نے عبدالرحیم قاسمی کی حکومت کے خاتمے کیلئے امریکی اسلحے سے مسلح جدوجہدکی اور بہت سی قربانیاں دیں۔ لیکن 1963ء میں عبدالرحیم قاسمی کے قتل کے بعد جب باتھ پارٹی حکومت میں آئی تو امریکہ نے کردوں کو نئی حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔1954ء میں پاکستان نے بھی امریکہ کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کئے جسے SEATO کہتے ہیں لیکن 1971ء کی جنگ میں امریکی بحریہ نے خلیج بنگال میں پھنسے ہوئے پاکستانی سپاہیوں کی کوئی مدد نہیں کی۔اس معاہدے کی خلاف ورزی کی امریکہ نے کچھ یوں وضاحت کی تھی کہ دفاعی معاہدے کے تحت اگر سوویت پاکستان پر حملہ کرتا تو امریکہ پاکستان کی مدد کرتا بھارت کے حملے کی صورت میں نہیں۔ گلف جنگ (1991) کے وقت صدام حسین کا یہ خیال تھا کہ اس کا پرانا اتحادی امریکہ اس کے کویت حملے کو نظر انداز کر دے گا لیکن صدام حسین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کے بعد گلف جنگ میں امریکہ نے اس کی مخالفت کی۔ ایک دفعہ پھر سے عراقی کردوں اور جنوبی عراق کے شیعہ کو صدام حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا لیکن جب صدام نے اپنے فوجی کویت سے واپس بلا لئے تو امریکہ نے کردوں اور شیعہ رہنماؤں کو صدام حسین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور دونوں کو امریکی دھوکے کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی۔کردوں نے شاہد امریکی میکاولی پالیسی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور شام و عراق میں داعش کے خلاف پھر سے امریکہ کے اتحادی بن گئے۔ لیکن کچھ عرصہ قبل ہی امریکہ نے ان کو کرد مخالف ترکی کے صدر طیب اردگان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔اسی طرح طالبان مخالف افغان رہنماؤں کو استعمال کرنے کے بعد کچھ روز قبل امریکہ نے طالبان سے معاہدہ کر لیا اور یوں لگتا ہے کہ اب افغان حکومت کے رہنماء طالبان کے رحم و کرم پر ہونگے لہذا تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے کہ کمزور اور طاقت کے درمیان معاہدے کاغذ کے ٹکڑوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتے۔طاقتور کسی مجبوری کے تحت یا سیاسی چال بازی کے تحت کمزور سے معاہدہ تو کر لیتا ہے لیکن معاہدہ کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی معاہدہ صرف دو برابر کی طاقتوں میں ہی ہو سکتا ہے صدر پرویز مشرف نے آئین کے بارے میں یہ الفاظ بیان کئے تھے کہ آئین محض کاغذ کا ٹکڑا ہے جسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے کچھ روز قبل قومی اسمبلی میں گوادر کی مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے بل منظور ہوا جس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ گوادر میں شناختی کارڈز حاصل کرنے کا حق صرف گوادر کے مقامی افراد کو حاصل ہوگا پاکستان اور بلوچستان کے کس دوسرے اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی گوادر کا شناختی کارڈ نہیں دیا جائیگا۔ اس کی وضاحت بلوچ قوم پرست رہنماء سردار اختر مینگل نے کچھ اس طرح کی کہ سی پیک منصوبے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ملک بھر سے آ کر گوادر میں آباد ہونگے اور گوادر کے لوگ اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے اس لئے باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو گوادر سے شناختی کارڈ کا اجراء نہ ہو گا۔ یہ بات تو درست ہے کہ سی پیک کے بعد گوادر کے مقامی افراد اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بات ثابت ہوتی ہے کہ جس شہر میں بندرگاہ ہو وہاں کی آبادی دوسرے شہروں کی آبادی کی نسبت زیادہ تیز رفتاری سے بڑھتی ہے جیسے کے قیام پاکستان کے بعد سب سے زیادہ کراچی شہر کی آبادی بڑھی کیونکہ وہاں بندرگاہ تھا اور جہاں بندرگاہ ہوتا ہے لوگ روزگار کے مواقعوں کی وجہ سے وہاں کا رخ کرتے ہیں۔Far East میں سنگاپور کی آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا اسی طرح بندرگاہ ہونے کی وجہ سے چین کے دو شہروں بیجنگ اور شنگھائی کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا یہ بات تو طے ہے کہ گوادر کے عوام اپنے شہر میں ہی اقلیت میں تبدیل ہو جائیں گے لیکن یہ خیال کرناکہ مذکورہ بل کی منظوری سے باہر سے آئے ہوئے افراد کو شناختی کارڈ حاصل کرنے کا حق اور ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں ہوگا تو یہ بات مضحکہ خیز ہے۔ آنے والے وقت میں جب گوادر میں آباد کاروں کی تعداد زیادہ ہو گی تو اس بل کے خاتمے کیلئے نئی قانون سازی بھی ہو سکتی ہے یہ بل بھی غالباً میکا ولی پالیسی کے تحت پاس ہوا ہے جس کا مقصد گوادر کے عوام کے عدم تحفظات کو دور کرنا ہے تاکہ وہ آباد کاروں کی آمد سے کوئی سیاسی مزاحمت نہ کریں۔یہ بل آج کی مجبوری ہے اور بعد میں آبادکاروں کیلئے نئی قانون سازی کر کے ان کو شناختی کارڈز اور ووٹ کا حق دینا کل کی مجبوری ہو جائیگی۔ قانون بنانا توڑنا یا معاہدے کرنے اور توڑنا یہ طاقتور کیلئے کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔گوادر میں ایک ایسا ہی معاہدہ 1783ء میں نوری نصیر خان نے سلطنت اومان کے ایک باغی شہزادے سے کیا تھا جس کے تخت نشین ہو جانے کے بعد شہزادہ گوادر پھر سے ریاست قلات کو لوٹا دے گا لیکن جب وہ شہزادہ واقعی تخت نشین ہوا تو معاہدہ میکاولی پالیسی کے تحت توڑ دیااور گوادر 1958ء تک اومان کا ہی حصہ رہا۔زبانی معاہدہ تو نواب بگٹی اور مشرف کی کابینہ کے کچھ ممبران کے درمیان بھی طے پا گیا تھا لیکن اس معاہدے کو پرویز مشرف نے کتنی اہمیت دی وہ سب کو معلوم ہے جس طرح مشرف نے آئین کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ محض کاغذ کے چند ٹکرے ہیں کل کو کوئی طاقتور شخص اسلام آباد سے بیٹھ کر یہی کہے گا یہ بل محض کاغذ کا ٹکڑا ہے جسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہیے۔

میکاولی پالیسی اور گوادر کا مستقبل” ایک تبصرہ

  1. بالکل ایساہی ہوگا..گوادر کے بارے میں آج دانشور طبقہ اور خود طاقتوروں کا خیال ہی یہی ہے کہ وہ پاکستان یعنی وفاق کا حصہ ہے اور اسے سلطنت عمان سے خریدا گیاہے….
    برحال گوادر کامستقبل مقامی باشندوں کیلئے بہت دردناک ہوگا.

اپنا تبصرہ بھیجیں