معیشت نہ ایک دن میں بگڑی، نہ دھرے گی
اداریہ
اپوزیشن معیشت کی زبوں حالی سے واقف ہے گزشتہ چار دہایؤں میں اسی نے ملک پر راج کیا۔ اسے معلوم ہے کہاں غلطی ہوئی؟ کس نے کی؟۔۔۔۔مگرکیوں کی؟۔۔۔۔اس سوال کا جواب سب جانتے ہیں مگر زبان پر لانے کی سکت نہیں۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ نیب کی جانب سے گزشتہ20 سال سے مسلسل احتساب ہو رہا ہے مگر ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔اپوزیشن کہتی ہے: یہ احتساب نہیں، انتقام ہے؛اس کی دلیل یہ ہے کہ صرف اپوزیشن پیشیاں بھگت رہی ہے۔ حکومت میں بیٹھنے والے قدرے سکون سے ہیں۔ہلکے پھلکے انداز میں نیب کے سامنے حاضر ہوئے۔ کچھ دن نیب کی کسٹڈی میں گزارے اور واپس آ کر وزارتیں سنبھال لیں۔ مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو شکایت ہے کہ موجودہ حکومت نے 40کروڑ روپے روک کرپونے دو ارب کا نارووال اسپورٹس کمپلیکس منصوبہ برباد کر دیا۔یہاں سے اولمپیئن کھلاڑی تیار ہوکر ملک کے لئے تمغے لاتے۔پی پی پی کے چیئرمین پی ٹی آئی اور نیب ے خلاف ایک لمبی چوڑی فہرست میڈیا کے روبرو پیش کر رہے ہیں انہیں شکایت ہے کہ ان کے لگائے گئے الزامات پر نیب کوئی ایکشن نہیں لیتا۔حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر اپنے مخصوص لب و لہجے میں چیئرمین پی پی پی کو مناظرے کا چیلنج دے رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں نے پی پی پی سے بی بی شہید کی وصیت منظر عام پر لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔دیکھیں پی پی پی اس کے جواب میں پی ٹی آئی کو کون سا چیلنج دیتی ہے۔نون لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل پر میزبان کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف جوکچھ کیا جائے گا وہ کم از کم 6ماہ بعد ہی ممکن ہوگا۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ اس دوران کورونا کی صورت حال واضح ہو جائے گی۔ادھر جمیعت علمائے اسلام کی قیادت کو شکایت ہے کہ اپوزیشن لیڈر واپسی کے بعد سے قرنطینہ میں ہیں اے پی سی کے معاملہ میں انہوں نے کچھ نہیں کیا۔
عام آدمی کا حافظہ اتنا کمزور نہیں جتنا سیاست دانوں نے سمجھ رکھا ہے اور نون لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے فلور پر اپنے قائد (اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو) یقین دلایا تھا کہ وہ فکر نہ کریں عوام دو چار دن میں سب کچھ بھول جائیں گے مگر ان کا خیال غلط نکلا۔ اسے الیکٹرانک میڈیا کے سر ڈالیں یا کوئی دوسرا نام دیں، عوام 6سال بعد بھی نہیں بھولے۔مراد سعید جیسے ہی مائیک سنبھالتے ہیں اپوزیشن ہال سے باہر نکل جاتی ہے۔کل تک یہی اپوزیشن اقتدار میں تھی اور ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے اور پیٹ پھاڑنے کی دھمکیاں دے رہی تھی۔ ایک دوسرے کو سیکیورٹی رسک اورمودی کایار ہونے کے طعنے دے رہی تھی۔آج آنِ واحد میں سب کچھ بھلا کر ایک دوسرے کو جگر کا ٹکڑا نہیں بنایا جا سکتا۔جمیعت تنہا طاقت کاجو مظاہرہ کر سکتی تھی اس نے کر دکھایا۔ایک جانب انتظامیہ سے کئے گئے معاہدے کو نبھایا اور دوسری طرف اپنے کارکنوں پر کوئی حرف نہیں آنے دیا۔ حالات عالمی سطح پر پریشان کن ہیں۔کورونا کا تجربہ دنیا کے لئے نیا ہے۔کوئی نہیں جانتا اگلے لمحے کیا رونما ہو سکتا ہے؟سائنس دان ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔خود وائرس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ موسم اور ماحول کے مطابق خود کو تبدیل کر لیتا ہے اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ جو دوا ایک جگہ کارگر ہوگی ضروری نہیں کہ وہی دوادو سری جگہ بھی اتنی ہی کارآمد ہو۔کبھی خبر آتی ہے علاج دریافت کر لیا گیا ہے پھر کہا جاتا ہے ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے گویا ایک قدم آگے دو قدم پیچھے والی بات ہے۔ کورونا کی موجودگی میں کسی سیاسی تحریک کے لئے ماحول سازگار نہیں۔پاکستان میں جمہوریت ابھی بلوغت تک نہیں پہنچی تجرباتی منازل طے کر رہی ہے۔چار دہائیوں کے دوران جوڑ توڑ کی تربیت نے ایک نئی نفسیات کو پروان چڑھایا ہے۔سیاست دان عوام کی جانب نہیں دیکھتے اسلام آباد جانے کے لئے راولپنڈی سے پروانہئ راہداری لیتے ہیں۔
بزرگوں کا کہنا ہے جو بوؤگے وہی کاٹو گے۔کیکر بونے والوں کو کانٹوں اور چیونٹوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یہ کوئی راز نہیں کہ عام آدمی کی رائے لینے کا رواج ابھی پاکستان میں شروع ہی نہیں ہوا۔سب جانتے ہیں سب اس طرز جمہوریت کو برا کہتے ہیں مگر کابینہ کی فہرست انتخابات سے بہت پہلے رات کی تاریکی میں عوام سے چھپ کرکسی اور کی مشاورت سے طے کرنے کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ انہیں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ایسی ہی فہرست کوئی دوسرا بھی اپنی جیب میں چھپائے گھوم رہا ہے۔ یہی وجہ ہے اپوزیشن کی بڑی جماعت قرنطینہ سے باہر آنے کو تیار نہیں اور دوسری بڑی جماعت کی قیادت پر فردِ جرم عائد کرنے کے لئے عدالت دوسری مرتبہ ویڈیو لنک کا بندوست کر رہی ہے۔ان حالات میں معیشت کے بگاڑ یا سدھار کا معاملہ ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ سب جانتے کہ جو معیشت چار دہائیوں میں بگڑی یا بگاڑی گئی ہے اسے سدھرنے میں بھی طویل وقت لگے گا۔چار دہائیاں نہ سہی ایک دہائی تو یقینا لگ جائے گی۔اس لئے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں صرف دہن نہیں بگڑا اس کے ساتھ ہی ذہن بھی بگڑ چکا ہے۔اجتماعی مفادات کا خیال سابق چیئرمین نیب کے دور والے نیب کے ساتھ 6فٹ نیچے دفن ہوچکا ہے۔انفرادی اور ذاتی مفاد ابھرکر غالب آگیا ہے۔اجتماعی مفادات والی سوچ کو قبر سے کھود کر باہر نکالنا ہوگااگر اس میں زندگی کی کوئی رمق ہوئی تو ٹھیک ورنہ نئے سرے سے بہت کچھ کرنا ہوگا۔سب حقیقت شناس مرض کی شدت اورحدت سے واقف ہیں۔اسی لئے سب کے ہاتھوں میں تسبیح اور لبوں پر دعائیہ کلمات ہیں:
”خدا خیر کرے‘ خدا خیر کرے!“


