عبدالباسط مینگل کا قتل، پولیس اور ڈی سی کی جانب سے عدم تعاون کیخلاف لواحقین کی پریس کانفرنس

خاران (نمائندہ انتخاب ) گزشتہ دنوں پنجگور میں خاران کے رہائشی عبدالباسط مینگل کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کرنے اور بیوی کو زخمی کرنے اور پولیس اور ڈی سی کی جانب سے عدم تعاون کیخلاف اُنکے لواحقین سرفراز تگاپی عطاء اللہ مینگل نظر مینگل اور بلوچ وومن فورم کے عقیدہ بلوچ اور آلیہ بلوچ نے خاران پریس کلب میں سول سوسائٹی کے رہنماوں کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ عبدالباسط مینگل قتل کیس کا ہماری جانب سے باقاعدہ ایف آئی آر سٹی پولیس تھانہ پنجگور میں درج کی گئی ہے اور ہماری نشان دہی پر پنجگور پولیس نے 5 قاتل بھی گرفتار کرلیے ہیں جن میں دو مرکزی مجرمان میں سے ایک کا جائے وقوع پر موجودگی کے چشم دید گواہ جبکہ دوسرے کا سی سی ٹی وی فوٹیج میں بندوق کے ساتھ صاف تصاویر اور ویڈیو موجود ہے عبدالباسط مینگل کے چوری شدہ موباہل کا لوکیشن گرفتار مجرم مجاز کے بیٹے کی چوکیداری کی جگہ نشاندہی کررہاہے جو کہ پنجگور پی ٹی سی ایل کا چوکیدار ہے موباہل کا لوکیشن سانحہ کے دوسرے دن نو بجے تک اس کی چوکیداری والے ایریا میں ظاہر کررہا تھامگر پنجگور پولیس نے ابھی تک نہ اسے گرفتار کیا ہے نہ ہی شہید کا موبائل برآمد کیا ہے تمام تر ثبوتوں اور چشم دید گواہوں کے بیانات کے باوجود ضلعی انتظامیہ پنجگور اور پنجگور پولیس کیس میں پیشرفت کرنے سے قاصر ہیں اور کیس کے متعلق نہ ہمارے ساتھ تعاون کررہا ہے نہ گرفتار قاتلوں کے بارے میں اپنا موقف پیش کررہا ہے حتیٰ کہ ہمیں مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا کہ کہ تمام گرفتار قاتلوں کو پنجگور پولیس رات کو حوالات سے نکال کر ان کو انکے گھر بھیجتا ہے اور صبح واپس لاک اپ میں بند کرتا ہے ڈپٹی کمشنر پنجگور اور ایس پی پنجگور کا قاتلوں کو بچانے کا اس سے زیادہ کیا ثبوت چاہیے کہ 10 دن گزرنے کے باوجود ہمیں ایف آئی آر کی کاپی تک نہیں دی جارہی ہے ضلعی انتظامیہ پنجگور اور پنجگور پولیس کی جانب سے غیرسنجیدگی اور گرفتار قاتلوں کے ساتھ جانبداری ، نرم رویہ اختیار کرنے پر ہمیں خدشہ ہے کہ سیاسی پریشر کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ پنجگور اور پنجگور پولیس حسب ضابطہ قانونی کاروائی سے گریزاں ہیں جس پر ہم آج کے پریس کانفرنس کے توسط وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، ایم پی اے خاران صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی چیف سیکرٹری بلوچستان ، آئی جی پولیس بلوچستان ، کمشنر مکران ڈویژن اور ڈی آئی جی مکران سمیت تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ پنجگور میں عبدالباسط مینگل کا بیدردی کے ساتھ قتل اور اس کے اہلیہ کو زخمی کرنے والے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ضلعی انتظامیہ پنجگور اور پنجگور پولیس کو حسب ضابطہ قانونی کاروائی کرنے کے لیے پابند کریں اور ڈپٹی کمشنر پنجگور اور ڈی پی او پنجگور کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ عبدالباسط مینگل قتل کیس میں گرفتار قاتلوں کے سروں سے اپنا دست شفقت اٹھا کر پیشہ ورانہ تفتیش کے ذریعے تمام تر ثبوتوں اور گواہوں کے ذریعے کیس میں پیش رفت کرکے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے قرار واقعی سزا دی جائے انہوں نے مزید کہاکہ اگر ایک ہفتے کے اندر ہمارے مطالبات پر ڈپٹی کمشنر پنجگور اور ڈی پی او پنجگور نے عملدرآمد نہیں کیا تو سول سوسائٹی خاران اور آل پارٹیز خاران کے تعاون سے ہمارا احتجاج مرحلہ وار سخت سے سخت ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں