حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات کادوسرا دور،بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)کمشنر آفس راولپنڈی میں حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات کا دوسرا دور بھی ہوا ،جماعت اسلامی نے 9 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کررکھا ہے،حکومت نے مذاکرات کے دوسرے راونڈ سے پہلے سفارشات لینے کیلئے تکنیکی کمیٹی بنائی تھی،۔مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی کی جانب سے پرامن دھرنا جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا جبکہ حکومتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہم بھی چاہتے ہیں بجلی، پٹرول سستا ہو، تنخواہ داروں پر ٹیکس ختم کرانے کی کوشش کریں گے۔مزاکرات میںبات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ،مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج ہمارے مذاکرات کا دوسرا راونڈ تھا، ہمارے کسی ایک نقطے پر انہیں اختلاف نہیں،ملک کے عوام کو مایوس نہیں کریں گے ،راولپنڈی میں پرامن دھرنا جاری ہے، مزدور اور تاجر سب ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، ملک میں دہشت گردی کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج مذاکرات کا دوسرا راونڈ ہوا،چھٹے روزبھی مری روڈ پر باوقار دھرنا جاری ہے،لوگ سخت دھوپ،بارش،حبس میں قومی مقاصد کیلئے موجود ہیں،دھرنے کے لیے قوم کی تائید حاصل ہے، ملک میں آئینی،پارلیمانی بحران ہے دہشتگردی سے عوام پریشان ہیں۔جماعت اسلامی نے قومی ایجنڈے کو ترجیح دی اور دھرنا جاری ہے، حکومت نے مذاکرات کی دعوت دی، امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دھرنا اور مذاکرات دونوں جاری رکھیں گے، ہم نے واضح طور پر کہا کہ عوام بجلی کے بل ادا نہیں کر سکتے۔لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ لوگ آئین، جمہوریت اور ملک کے مستقبل سے مایوس ہو رہے ہیں،حکومت نے مذاکرات کے لیے کہا ہم نے پیشکش قبول کی، آج ٹیکنیکل نمائندگی موجود تھی،حکومت کے پاس مطالبات رد کرنے کی گنجائش نہیں تھی،حکومتی ٹیکنیکل کمیٹی نے ہمارے نکات سے اتفاق کیا، بجلی قیمت میں کمی اوراصل لاگت وصول کرنیکی بات کی ہے۔اضافی ٹیکسز کے متعلق ٹیکنکل کمیٹی ممبران سے ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ نجی،سرکاری تنخواہ دارطبقے پرٹیکسسزکا اضافی بوجھ مسلط کردیاگیا،حکومت کواس سے کچھ وصول نہیں ہو رہا یہ اضافہ واپس کیا جائے،انتظامی اخراجات کو کم کیا جائے،ملک میں ایک لاوا پھٹنے کو تیار بیٹھا ہے،بیوروکریسی نمائندگان کوکہا عوام کے جذبات سمجھیں۔نائب امیر جماعت اسلامی نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز( آئی پی پیز ) کے متعلق گفتگو میں بتایا کہ آئی پی پیز کے معاملے کا فرانزک آڈٹ کیا جائے،ہمارے کسی ایک نقطے پر انہیں اختلاف نہیں،کہا گیا ہیکہ اس پر مثبت پیشرفت کریں گے،ہم نے واضح کیا کہ دھرنا جاری رہے گا،ملک کے عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔اہوں نے کہاکہ حکومت کو واضح کر دیا ہے کہ دھرنا جاری رکھا جائے گا، کمیٹی میں سے کمیٹی نکلے گی تو پھر کمیٹی چوک ہی نکلے گا۔ اگر حکومت کی غیر سنجیدگی نظر آئے تو ہم مذاکرات ختم کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج پورے عالم اسلام کیلئے بڑا صدمہ ہے، اسماعیل ہنیہ کو شہید کر دیا گیا اور اسرائیل نے اسے تسلیم بھی کیا ہے، اسماعیل ہانیہ کی شہادت فلسطینیوں کو نیا جذبہ دے گی، پاکستان میں روزگارنہیں اور دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ جو آپ کی ڈیمانڈ ہے ہم بھی یہی چاہتے ہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ بجلی، پٹرول اور آٹا سستا ہو، اگر ہم بہتری لا سکے تو ضرور لائیں گے، ان کے جو 3 سے 4 مطالبات ہیں ان پر ہم ضرور بات چیت کریں گے۔امیرمقام نے کہا کہ ضرورکوشش کریں گے کہ بجلی، پٹرول اور تنخواہ داروں پر ٹیکس ختم کریں، ہم چاہتے ہیں کہ دھرنا جلد ختم ہو، ہمارے پاس جتنے وسائل ہیں ان کیمطابق اس مسئلے کو حل کریں گے، آج ہماری ٹیم نے ان سے مشاورت کی، ہر ایک مسئلے پر تفصیلی بات ہوئی۔امیر مقام نے کہا کہ ہم نے جماعت اسلامی کو کہا کہ آپکی اور ہماری ڈیمانڈ ایک ہی ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ملک کے اندر خوشحالی ہو، ہم نے کہا ہمارے پاس 100 روپے ہیں اسی میں رہ کر بات ہوگی، ہم نے جماعت اسلامی کو کہا ہے ہم ٹیکنیکل لوگ سامنے لے کر آئیں گے۔امیرمقام کا کہنا ہے کہ ہم ایف بی آر، پاورڈویژن اور دیگر اداروں کے لوگوں کو شامل کریں گے،ہماری ٹیکنیکل کمیٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان بات چیت ہوئی ہے، ہم امید رکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی سے مذاکرات مثبت ہوں گے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا دھرنا ختم ہونا چاہیے،ہم اپنے وسائل میں رہ کر جو کر سکے تو وہ کریں گے ۔حکومت کی نمائندگی کرنے والے لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی برکت سے ہماری جماعت اسلامی سے ملاقات ہوتی ہے، عوام کے ریلیف کیلئے پہلے بھی کام کر رہے ہیں اورجاری رہیگا، ہم چاہتے ہیں جماعت اسلامی کے تحفظات دورکیے جائیں اوردھرنا ختم ہو،انہوں نے کہا ہے کہ امید ہے جماعت اسلامی سے مذاکرات کے مثبت نتائج آئیں گے، جماعت اسلامی کا دھرنا مثبت رویے کے ساتھ ختم ہونا چاہئے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جماعت اسلامی سے آج خوشگوار مذاکرات ہوئے، وزیراعظم بھی چاہتے ہیں کہ عوام کو ریلیف دیا جائے، ہمیں امید ہے کہ مذاکرات مثبت ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سے بات چیت آگے بڑھے گی، جلد مثبت نتیجے پر پہنچیں گے، جتنے وسائل ہیں اس سے بڑھ کرعوامی خدمت کریں گے، عوام کو جو ریلیف دیا جا سکتا ہے دیں گے۔طارق فضل چودھری نے کہا کہ آج بھی بات ہوئی کسی کو فری بجلی دی جا رہی ہے اسے بند کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مفت بجلی استعمال نہیں کر رہا۔مذاکرات کے لیے حکومتی وفد میں مشیر وزیراعظم امور کشمیر امیر مقام، ممبر قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری شریک ہوئے جبکہ عطااللہ تارڑ فون پر رابطے میں رہے۔اس کے علاوہ حکومتی ٹیکنیکل کمیٹی میں اسپیشل سیکریٹری پاور ڈویژن راشد مجید اور ممبر ایف بی آر میر بادشاہ بھی مذاکرات میں شریک تھے۔دوسری جانب جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت مذاکراتی ٹیم کے سربراہ لیاقت بلوچ کررہے تھے۔واضح رہے کہ جماعت اسلامی کا راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دھرنا 6 روز سے جاری ہے، اور قیادت کی جانب سے حکومت کو 10 مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔


