ہراسگی سکینڈل، میرے خلاف کچھ نہیں، اسی وجہ سے سابق رجسٹرار اور ٹرانسپورٹ افسر کو معمولی سزا دی گئی، جاوید اقبال

جامعہ بلوچستان میں ہراسگی سکینڈل کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں جامعہ کے سنڈیکٹ اجلاس کی سفارشات پر غیر ملکی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ بلوچستان کے سابق وائس چانسلر جاوید اقبال نے اس سکینڈل میں ملوث ہونے کے حوالے سے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یونیورسٹی سیاست کا نشانہ بناتے ہوئے یہ مسئلہ پیدا کیا گیا۔

’یونیورسٹی کی اندرونی سیاست کی وجہ سے اس معاملے کو میرے خلاف اچھالا گیا۔‘

یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے کے الزامات منطر عام پر آنے کے بعد جب اس حوالے سے احتجاج نے زور پکڑ لیا تھا تو سابق وائس چانسلر جاوید اقبال نے اپنے عہدے سے تحقیقات مکمل ہونے تک علیحدگی اختیار کی تھی۔

لیکن بعد میں ان کو ہٹا کر پہلے یونیورسٹی میں ایک قائمقام وائس چانسلر اور بعد میں پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان کی مستقل وائس چانسلر کی حیثیت سے تقرری کی گئی۔

سنڈیکیٹ کے فیصلے پر پروفیسر جاوید اقبال نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تاحال سنڈیکیٹ کے اجلاس کے نکات سامنے نہیں آئے ہیں اور کسی بھی طالب علم کو ہراساں کرنا بری بات ہے لیکن جہاں تک یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے کی بات ہے تو اس حوالے سے بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے میرے خلاف کچھ بھی نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی کے رجسٹرار اور ٹرانسپورٹ آفیسر کو سالانہ تنخواہ میں اضافہ روکنے کی معمولی سزا دی گئی ہے۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں