دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ
اسلام آباد: حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی ہدایات کی روشنی میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف قانون متعارف کرادیا۔بدھ کو تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں سے نکالنے کیلیے کوششیں جاری ہیں جس کے لیے حکومت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم متعارف کرائی،حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی ہدایات کی روشنی میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے افراد کیلیے قوانین متعارف کرائے ہیں۔انسداد دہشتگردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں کی گئی ترمیم کے تحٹ شیڈول فور میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے اور شیڈول 4 میں شامل افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے گا۔نئی ترمیم کے تحت مشتبہ دہشت گرد کو قرض دینے والے شخص کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ ہوگا اور مشتبہ دہشت گرد کو قرض دینے والے ادارے پر پانچ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ کسی کو دہشت گردی کیلیے بیرون ملک بھیجنے میں مدد و مالی اعانت پر بھی جرمانے ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں ترمیم کے بعد کالعدم تنظیم یا نمائندے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد منجمد کی جائیں گی اور جائیداد کی تصدیق نہ ہونے پر عدالتی دائرہ کار سے باہر جائیداد قرق ہوگی۔ترمیم کے تحت منجمد کیے گئے اثاثہ جات کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی نکالا جائے گا اور انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم سینیٹ سے منظور کرائی جائیں گی۔


