اکثریتی قوم پرستی اور انٹرا اسٹیٹ کنفلیکٹس

تحریر: جیئند ساجدی
ماہر تعلیم کے مطابق تنازعات کی تین اقسام ہوتی ہیں، ایک کو اندرونی تنازعات یا ”انٹرا اسٹیٹ کنفلیکٹ“ کہتے ہیں۔ اس میں دونوں فریق ایک ہی ملک کی سرحدوں کے اندر لڑ رہے ہوتے ہیں، دوسرے تنازع کو دو ریاستی تنازع یا ”انٹر اسٹیٹ کنفلیکٹ‘ کہتے ہیں جس میں دو بین الاقوامی ریاستیں ملوث ہوتی ہیں اور تیسرے طرز کی جنگ کو بین الاقوامی تنازع کہتے ہیں جس میں مختلف ممالک ملوث ہوتے ہیں۔ اس کی مثال پہلی اور دوسری عالمی جنگیں ہیں۔ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان تینوں تنازعات کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے، بہت سی اندرونی جنگیں آگے چل کر دو ریاستی جنگیں اور بین الاقوامی جنگیں بنی ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ انٹرا اسٹیٹ کنفلیکٹ کی نوعیت سے واقف نہیں ہیں۔
سوئیڈن کے تحقیقی ادارے اسٹاک ہوم انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ریسرچ (SIPRI) کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد اکثر جنگیں اور تنازعات انٹر اسٹیٹ تنازعات ہوئی ہیں جبکہ بین الاقوامی اور انٹر اسٹیٹ جنگیں کافی کم ہوئی ہیں۔ اسی بات کی تصدیق اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کی اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ دنیا کو سب سے بڑا مسئلہ بین الاقوامی یا دو ریاستی جنگوں سے نہیں بلکہ اندرونی جنگوں یا انٹرا اسٹیٹ تنازعات سے ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی پروفیسر مانٹ سیرٹ گبرنو لکھتی ہیں کہ انٹرا اسٹیٹ تنازعات کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں اور اس میں ملوث فریقین کے عزائم بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اکثر ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں یورپی سامراجوں کی حکومتیں تھیں جب انہوں نے اپنی پرانی کالونیوں کو آزادی دی تو انہوں نے کچھ کثیر القومی ریاستیں بنائیں جس میں مختلف زبان، ثقافت اور مذہب کے لوگ ان کی مرضی کے بغیر شامل کیے گئے۔ انہی ریاستوں میں دو قسم کے نیشنلزم نے جنم لیا ایک کو ماہر تعلیم اکثریتی نیشنلزم کہتے ہیں اور دوسرے کو اقلیتی نیشنلزم۔ ان کثیر القومی ریاستوں میں ایک لسانی گروہ اپنی آبادی کی وجہ سے وسائل اور ریاستی اداروں پر اپنی اجارہ داری قائم کرتا ہے جبکہ اقلیتی لسانی گروہ کو ریاستی اداروں اور وسائل میں ایک مناسب حصہ نہیں ملتا اور وہ خود کو دوسرے درجے کے شہری محسوس کرتے ہیں اور ریاست کو استحصالی قوت قرار دیتے ہیں۔ ان کے دو عزائم ہوتے ہیں یا تو ریاست ان کے علاقوں کو خودمختاری دے یا مکمل آزادی۔ اکثریتی لسانی گروہ سے تعلق رکھنے والے قوم پرست ان اقلیتی گروہوں کو کمزور اور کھوکھلا سمجھتے ہیں اور بعض اوقات سیاسی حل کے بجائے طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے اس سے ایک انٹرا اسٹیٹ تنازع جنم لیتا ہے۔ اس کی مثال سری لنکا میں تامل اقلیتی اور سنہالی اکثریتی جنگ تھی۔ تامل رہنماﺅں نے سری لنکن ریاست پر یہ الزام عائد کیا کہ ریاست کے زیادہ وسائل سنہالی علاقوں پر لگا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے صرف سنہالی زبان کو ہی ملک کی قومی زبان قرار دیا، اس کی ایک اور مثال سابقہ سوڈان کی تھی جو 2011ءمیں دو بین الاقوامی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا۔ شمال میں اکثریت عربوں اور مسلمانوں کی تھی جبکہ جنوب میں افریقی نژاد سیاہ فام اور عیسائی مذہب کے پیروکار رہتے تھے۔ جنوبی سوڈان کے لوگوں کو یہ خدشات تھے کہ تیل ان کے علاقے سے نکل رہا ہے لیکن اس سے فائدہ صرف عربوں کو ہورہا ہے، اسی لیے انہوں نے ایک تحریک چلائی جو 2011ءمیں آزاد جنوبی سوڈان کی شکل میں ختم ہوئی۔
آزادی اور خودمختاری کے علاوہ بعض انٹرا اسٹیٹ تنازعات کا مقصد نظام کی تبدیلی ہوتا ہے، اس کی مثال عرب اسپرنگ ہے جہاں لوگ مکمل طور پر ریاست توڑنا نہیں چاہتے تھے بلکہ اپنے ملک میں بادشاہت اور آمریت کے بجائے جمہوری نظام لانا چاہتے تھے۔ انٹرا اسٹیٹ کنفلیکٹ کی ایک اور اہم وجہ اقوام متحدہ کی کمزوریاں ہیں، اقوام متحدہ کی جو ترکیب ہے اس میں صرف دو ریاستوں کے درمیان جنگیں حل ہوسکتی ہیں جبکہ ریاستی عناصر اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان جنگوں کو حل کرنے کی کوئی ترکیب نہیں، اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں اتنی سکت بھی نہیں کہ وہ کسی طاقتور ریاست یا کسی طاقتور بین الاقوامی ریاست کو یا طاقتور ریاست کے کلائنٹ اسٹیٹ کو قائل کرے کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور سیاسی طریقے سے مسئلے کو حل کریں۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ انٹرا اسٹیٹ تنازعات کو لیکر متعلقہ ریاستیں اور اقوام متحدہ سنجیدہ نہیں، اقوام متحدہ کی سنجیدگی بس یہی ہے کہ انہوں نے اپنی ایک رپورٹ میں ان تنازعات کو دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے جبکہ وہ ریاستیں جو ان تنازعات میں ملوث ہیں غالباً ان کو انٹرا اسٹیٹ تنازعات کے خطرناک نتائج کا ادراک نہیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اکثر بین الاقوامی اور دو ریاستی جنگیں ابتدا میں انٹرا اسٹیٹ تنازعات تھیں، مثال کے طور پر پہلی عالمی جنگ جو ابتدا میں ایک انٹرا اسٹیٹ تنازع تھا۔ 1914ءتک بوسنیا اور آسٹریوی سلطنت کا حصہ تھا جس کا بادشاہ جرمن تھا اور جرمنی اس کا بڑا اتحادی تھا جبکہ اس کے پڑوس میں قائم سربیا ایک آزاد ریاست تھی اور سربیا کا مقصد تمام سلاو اقوام کی سرزمین کو متحد کرکے ایک سلاو قومی ریاست بنانا تھا۔ اس میں بوسنیا، البانیہ، کوسوو، کریشیا شامل تھیں اس کی وجہ سے آسٹریا اور سربیا کے درمیان بوسنیا کو لے کر ایک تنازعہ تھا۔ 1914ءمیں آسٹریا کے ولی عہد شہزادے جب بوسنیا گئے تو ان کو ایک سلاو قوم پرست نے قتل کردیا، اس کا الزام آسٹریا نے سربیا پر لگا دیا اور اس پر جنگ مسلط کردی، اس کے رد عمل میں روس نے سربیا کی حمایت کی جس کی وجہ یہ ہے کہ روس بھی سلاو قوم سے ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ اس نے آسٹریا پر حملہ کردیا اور جرمنی جو آسٹریا کا حمایتی تھا اس نے اپنے سپاہی آسٹریا کی مدد کیلئے بھیج دیے اس کے رد عمل میں جرمنی کے قدیم حریف فرانس اور برطانیہ نے اپنے قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر روس کی حمایت کی اور جرمنی کیخلاف اعلان جنگ کیا لہٰذا یہ ایک انٹرا اسٹیٹ کنفلیکٹ سب سے بڑی بین الاقوامی جنگ کا سبب بنی۔
1971ءمیں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک سیاسی تنازع تھا جسے اس وقت کے صدر یحییٰ خان نے طاقت کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں بنگالیوں نے ہندوستان کا رخ کیا اور اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ جنگ اب پاکستان کا اندرونی مسئلہ نہیں اس کے اثرات ہندوستان میں آرہے ہیں تو وہ اس جنگ کا حصہ بن گئیں تو مشرقی پاکستان کا انٹرا اسٹیٹ کنفلیکٹ دو ریاستی تنازع بن گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن گیا۔
1991ءمیں سابق یوگوسلاویہ میں ایک اندرونی جنگ شروع ہوئی جس کی وجہ یہ تھی کہ موجودہ بوسنیا، کوسوو، کرویشیا اور البانیہ نے یہ الزام عائد کیا کہ ان کی حیثیت ریاست میں دوسرے درجے کے شہری کی ہے اور اقتدار سربوں کے ہاتھ میں ہے۔ چونکہ یوگو سلاویہ یورپ کا وہ واحد ملک تھا جس نے امریکی اطاعت کو ماننے سے انکار کیا اور نیٹو میں شمولیت اختیار نہیں کی تو مغرب یوگوسلاویہ کے اس اندرونی تنازع کا حصہ بن گیا اور یوگوسلاویہ پر جنگ مسلط کردی اور یہ ایک انٹرا اسٹیٹ تنازعہ پھر سے ایک بین الاقوامی تنازع بن گیا۔
2008ءمیں جارجیا اور اس کے صوبے ابخازیہ کے درمیان ایک تنازع تھا چونکہ جارجیا روس کے بہت قریب ہے اور مغرب کا حمایت یافتہ ملک ہے اور نیٹو کا ممبر بننے کا خواہشمند ہے تو روس اپنے قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر اس تنازع کا حصہ بن گیا اور جارجیا پر حملہ کردیا، اب ابخازیہ جارجیا کا حصہ نہیں اور عملاً ایک آزاد ریاست ہے لیکن بہت سے یورپی ممالک اس کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔
کشمیر تنازع کافی پرانا تنازع ہے، کشمیر کو بھارت اپنا اندرونی مسئلہ تصور کرتا ہے اور اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے جبکہ پاکستان کشمیر کو دو ریاستی مسئلہ تصور کرتا اور پورے کشمیر کا دعویدار ہے اور اسے اپنی شہ رگ تصور کرتا ہے۔ ان دونوں ریاستوں کے درمیان مسلح کشمیری تنظیمیں ہیں جو آزادی حاصل کرنے کیلئے بھارت کیخلاف مسلح جدوجہد کررہی ہیں۔ بھارت ان تنظیموں کو پاکستان کی پراکسی قرار دیتا ہے۔
2021ءمیں بھارت نے آرٹیکل 370 کو جو کشمیر کو بھارت کے اندر ایک خصوصی سیاسی حیثیت دیتا ہے اسے مکمل طور پر ختم کردیا، بھارت کی حکومت نے بھی دوسرے کثیر القومی ریاستوں کی مرکزی حکومتوں کی طرح کشمیری قوم پرستوں کو کمزور اور کھوکھلا سمجھا اور یہ ارادہ ظاہر کیا کہ طاقت کے ذریعے یہ اندرونی مسئلہ حل ہوجائے گا۔ حال ہی میں کشمیر کے مقام پہلگام میں 26 سیاحوں کو قتل کیا گیا جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا اور پاکستان میں فضائی حملے بھی کیے لہٰذا چار دن تک یہ انٹرا اسٹیٹ کنفلیکٹ ایک انٹر اسٹیٹ کنفلیکٹ بن گیا۔ غالباً بھارت اور پاکستانی سرکاری کو دنیاوی اور اپنی تاریخ کا درست ادراک نہیں کہ دنیاوی تاریخ میں بہت سی خطرناک جنگیں ابتدا میں ایک چھوٹی نوعیت کی انٹرا اسٹیٹ تنازعات تھیں بعد میں وہ بین الاقوامی اور دو ریاستی تنازعات بن گئیں اور بہت سی تباہیوں کا سبب بنیں، اس سے قبل بھی 1965ءمیں جب ایوب خان نے کشمیر کو آزاد کرانے کیلئے آپریشن جبرالٹر نامی مہم کا آغاز کیا تو یہ انٹرا اسٹیٹ تنازع ایک انٹر اسٹیٹ تنازع بن گیا جب بھارت نے لاہور میں حملہ کردیا۔ کارگل کے وقت بھی یہ ممالک جنگ کے کافی قریب آئے تھے۔ عین ممکن ہے کہ اگر اس اندرونی مسئلے کا حل نہیں نکلا تو بھارت کا اٹوٹ انگ اور پاکستان کی شہ رگ ان ریاستوں کی تباہی کا سب سے بڑا بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں