ریاستی طاقت کے سوا کسی کو تشدد کا اختیار نہیں، جنگ نہ آج بلوچ کو فائدہ دے سکتی ہے نہ پچاس سال بعد، سرفراز بگٹی
کوئٹہ(آن لائن)وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چاہے اس کے لیے انہیں کوئی بھی قربانی دینی پڑے، انہوں نے کہا کہ جو عناصر بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں وہ بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں جنگ نہ آج بلوچ کو فائدہ دے سکتی ہے، نہ دس سال بعد، نہ پچاس سال بعد بلکہ اس کے نتیجے میں صرف خون بہے گا دہشت پھیلے گی اور نقصان ہوگا۔ وزیر اعلی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ ان دہشتگردوں کے سامنے کبھی سرنڈر نہیں کریں گے اور ہر میدان میں ان کا مقابلہ کریں گے انہوں نے کہا کہ بعض دوست انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیتے ہیں مگر وہ انہیں سمجھاتے ہیں کہ ان کے اندر بھی ایک انا ہے ایک ذمہ داری کا احساس ہے جو اللہ تعالی اور آئین پاکستان نے انہیں سونپی ہے بدھ کے روز انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے ایوان میں بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ آئین انہیں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا میر سرفراز بگٹی نے موسی خیل میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک خاتون کے سامنے اس کے شوہر اور بیٹے کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا اور وہ یہ فیصلہ نہ کر سکی کہ ایک چادر جو اس کے پاس تھی وہ اپنے شوہر پر ڈالے یا بیٹے کی لاش کو ڈھانپے آئین پاکستان مجھے اس مظلوم عورت کے ساتھ کھڑا ہونے کا درس دیتا ہے وزیر اعلی نے کہا کہ وہ مسلسل بلوچ قوم پاکستان کے عوام اور بین الاقوامی دنیا کو اس غلط فہمی سے نکالتے رہیں گے کہ مذہب کے نام پر تشدد تو دہشتگردی کہلاتا ہے لیکن جب یہی تشدد قوم پرستی یا سیاسی نعروں کے نام پر ہو تو اسے کسی طور پر درست قرار کہا جائے ، ریاستی طاقت کے سوا کسی کو تشدد کا اختیار نہیں اور جو بھی فرد یا گروہ ریاست کے خلاف تشدد کرے گا وہ دہشتگرد کہلائے گا، چاہے وہ کسی بھی نام یا جواز کے تحت ہو، اپنے خطاب میں وزیر اعلی نے واضح کیا کہ وہ ان عناصر کو للکارتے رہیں گے، ان کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے اور بلوچ قوم کو حقائق سے باخبر کرتے رہیں گے تاکہ ان کے ذہنوں میں کوئی ابہام باقی نہ رہے وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان کے امن و امان پر رائے دینے والے اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو یہاں کے باشندے نہیں بلکہ باہر بیٹھ کر تجزیے کرتے ہیں دوسری جانب ہماری حکومت زمینی حقائق سے آگاہ ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشتگردی کو حکومتوں نے اپنی جنگ نہیں سمجھا نتیجتا ریاستی ادارے تنہا لڑتے رہے اور قربانیاں دیتے رہے مگر ہماری حکومت نے اس جنگ کو اپنایا ہے اور دہشتگردوں کا مقابلہ پوری قوت سے کیا ہے وزیر اعلی نے کہا کہ دہشتگردی کی عالمی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ دہشتگرد صرف اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب سول حکومت غیر فعال ہو ریاست کو فعال، متحرک اور جواب دہ بنانا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے انتظامی اصلاحات کا مکمل پلان ترتیب دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی کی ان تمام خرابیوں کو دور کرنے کا عزم کر رکھا ہے جن خرابیوں کے باعث عوام حکومت سے نالاں رہے اب ہم ہر دفتر کو فعال کریں گے، ہر آسامی کو پر کریں گے، اور ایک مربوط مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے ہر ملازم اور ہر محکمے کی کارکردگی کو جانچیں گے وزیر اعلی نے کہا کہ ہم عوام کے دروازے تک پہنچیں گے ان کی شکایات سنیں گے، ان کے مسائل حل کریں گے، انہوں نے کہا کہ 3200 بند اسکولوں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے، صحت کے متعدد بند مراکز فعال کر دیے گئے ہیں، ایک سال میں 16000 سے زائد بھرتیاں عمل میں لائی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ میں مزید وہ تمام اسکول جہاں اساتذہ موجود نہیں مکمل فعال کر دیے جائیں گے اور تمام بنیادی صحت مراکز بھی فعال ہوں گے تعلیم، صحت، روزگار، شہری سہولیات اور بیرون ملک ملازمتوں کے مواقع کے لیے جامع حکمت عملی وضع کی گئی ہے، جس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا ترقیاتی بجٹ کے مثر استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 100 فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ کیا گیا ہے جو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے انہوں نے کہا کہ رواں سال بھی اس تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا، تمام محکمے اپنی کارکردگی دکھائیں گے، تمام ترقیاتی منصوبے عوامی فلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اس سال پی ایس ڈی پی میں بڑی اصلاحات کی گئی ہیں، غیر ضروری اور ناکارہ اسکیمیں ختم کر دی گئی ہیں اور روزگار و معاشی ترقی پر توجہ دی گئی ہے تمام منصوبوں کی مثر مانیٹرنگ کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے امن و امان کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ و ساز و سامان فراہم کیا جا رہا ہے، تھانے اور چیک پوسٹیں ازسرِنو تعمیر کی جا رہی ہیں، اور پراسیکیوشن کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی کے خلاف آخری حد تک جائیں گے چاہے اس کے لیے جتنے بھی وسائل درکار ہوں وزیر اعلی نے بجٹ میں شامل متعدد فلیگ شپ منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انٹرپرائز ڈویلپمنٹ پروگرام، سیف سٹی پراجیکٹس، شمسی توانائی، صنعتی زونز، اسکول، اسپتال، بس ٹرمینلز، کیڈسٹرل لینڈ سیٹلمنٹ، امن و ہم آہنگی کے پروگرام، پیپلز ٹرین سروس، ائیر ایمبولینس، پنک اسکوٹی اسکیم، یوتھ پالیسی، بی ٹی ای وی ٹی اے اسکیم، اسکالرشپ فنڈ، عوامی انڈومنٹ فنڈ اور میونسپل سروسز کی بہتری کے منصوبے شامل ہیں انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جا رہا، بلکہ بعض ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے تاکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے وزیر اعلی نے بلوچستان کے ہر ضلع کے ترقیاتی منصوبے تفصیل سے بیان کیے جن میں سڑکیں، اسپتال، ڈیم، تعلیمی ادارے، انڈسٹریل اسٹیٹس، برن ہسپتال، زراعت، پینے کے صاف پانی کے منصوبے، کھیلوں کے میدان، سیاحت، امن و امان، روزگار اور دیگر منصوبے شامل ہیں انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے بلوچستان کے ہر گوشے کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں اور ان کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا شہدا پیکج کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلی نے اعلان کیا کہ دہشتگردی کے واقعات میں سویلین شہدا کے معاوضے کو پندرہ لاکھ سے بڑھا کر پچیس لاکھ کر دیا گیا ہے جبکہ فورسز کے شہدا کے معاوضے کو چالیس لاکھ مقرر کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح شہدا کے لیے پلاٹ کی رقم دس لاکھ سے بڑھا کر بیس لاکھ کر دی گئی ہے وزیر اعلی نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ یہ بجٹ ان کے لیے ایک زینہ ہے، منزل نہیں۔ انہوں نےکہاکہ”میں نے اپنے عوام کو سینے سے لگانا ہے، میں نے دہشتگردوں کے خوابوں کو خاک میں ملانا ہے، میں نے اپنے بچوں کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینا ہے، میں نے پاکستان دشمن قوتوں کو ہر میدان میں شکست دینی ہے اور اپنے لوگوں، اپنے صوبے اور اپنے ملک کو تاریک راہوں سے بچانا ہے انہوں نے کہا کہ بعض لوگ انہیں خاموشی کا مشورہ دیتے ہیں، مگر وہ ایک بلوچ ہیں اور ان کی ضد اور انا انہیں کبھی خاموش نہیں بیٹھنے دیتی انہوں نے خطاب کا اختتام مرحوم اشفاق سبقت کی نظم سے لیے گئے اشعار پر کیا اور کہا:۔جب دنیا کے بت خانوں میں اصنام کی پوجا جاری ہو جب ایک انسان کی عظمت پر اک پتھر کا دم بھاری ہو جن من کی جمنا میلی ہو اور روح میں اک بیزاری ہو جب جھوٹ کے ان بگھوانوں سے ایمان پر لرزہ طاری ہو۔اس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو ہم اہلِ حرم ہیں، اب ہم سے یہ کفر گوارا کیسے ہوہم لوگ اناالحق بولیں گے، ہم لوگ اناالحق بولیں گے جب را کے ایک اشارے پر میرے دیس پہ حملہ ہوتا ہو جب غیروں کے ہتھیاروں تلے میرے پیارے جان سے جاتے ہوں۔جب اپنے ظالم جابر کی عظمت کا قصیدہ لکھتے ہوں ۔جب حق کی باتیں کہنے پر انسان کی زبانیں کٹتی ہوںس حال میں ہم دیوانوں سے تم کہتے ہو خاموش رہو جس دور میں کعبے والوں کو گرجے کے نظارے بھاتے ہوں۔جس دور میں مشرق والے بھی مغرب کے ترانے گاتے ہوں۔جس دور میں مسلم لیڈر بھی کچھ کہنے سے گھبراتے ہوں۔جس دور میں ہمدم غیرت کے اسباب عدم ہو جاتے ہوں اس دور میں ہم دیوانوں کو تم کہتے ہو خاموش رہو وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ ہرگز خاموش نہیں رہیں گے حق و سچ بولتے رہیں گے اور مفاد عامہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس بجٹ کو ترقی، امن، خدمت اور فلاح کا آغاز بنائیں گے تاکہ بلوچستان کا ہر شہری، ہر بچہ اور ہر کونہ امید، روشنائی اور خوشحالی کا گہوارہ بنے۔


