علاقے کی نامور شخصیت میر شادین بندی موک نے نصیر خان نوری کو ولی ہی پایا
تحریر: رزاق نادر
زیر نظر مضمون کے ابتداءمیں ہی یہ اعتراف کرتا چلوں کہ تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میری معلومات بہت محدود اور مختصر سی ہیں کیونکہ حصول علم کے دوران تاریخ نہ تو میرا مضمون رہا ہے اور نہ ہی اس میں میری کوئی سپیشلائزیشن ہے اور نہ ہی اس پر مجھے عبور حاصل ہے مختصر یہ کہ اپنی ذاتی معلومات کیلئے ایک ادنیٰ بلوچ لکھاری کی حیثیت سے بلوچ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے تاکہ احباب میں نرا جاہل نہ کہلاﺅں اور اب پیرانہ سالی میں کچھ سچائیاں اور زمینی حقائق میرے احاطہ علم میں آ گئیں ہیں اور دل کر رہا ہے کہ انکو آپ قارئین کی نذر کروں تاکہ آپ ان سے باخبر رہیں اور آپ ہی کی توسط سے یہ حقائق اور سچائیاں آنے والی نسل اور مورخ تک پہنچ جائیں جو ضروری چھان بین کے بعد ان کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دے اور محفوظ کر لے تاکہ یہ سچائیاں اورزمینی حقائق سب پر عیاں ہوں بلکہ یہ نظر بھی آئیں تاکہ خان اعظم میر نصیرخان نوری کے بارے میں موجود غلط معلومات یکسر مسترد ہوں اور سچائی ابھر کر سامنے آئے تاکہ بلوچ تاریخ میں درج مبینہ مغالطے اور جھوٹے دعوے دور ہوں اور اس طرح ایک ادنیٰ لکھاری کی حیثیت سے میرا ضمیر بھی مطمئن ہو جائے کہ میںنے دستیاب معلومات اور زمینی حقائق جو کسی طرح مجھ تک پہنچی تھیں وہ میں نے خلوص دل کے ساتھ من و عن اپنے لوگوں تک بلاکم و کاست پہنچایا اور اپنا فرض ادا کیا البتہ کسی فلاسفر کی اس بات سے میں ضرور متفق ہوں کہ تاریخ کم از کم کسی فلاسفر کو لکھنا چاہئے کیونکہ فلاسفر منطق و برہان سے لکھتا ہے اس لئے کہ اس کے پاس سوال ہوتا ہے جو جواب کا متقاضی ہوتا ہے جبکہ دوسرے لکھنے والے واقعات کو بغیر کسی تحقیق اور تفتیش کے بس لکھتے ہی چلے جاتے ہیں اور صرف سطحی کتابی حوالوں پر اکتفا کر کے تاریخ لکھتے ہیں جس سے تاریخ مسخ ہونے کا سو فیصد اندیشہ ہوتا ہے اب بھلا انگریز جاسوس جیسے ہنری پٹنگر وغیرہ جن کا ایک مخصوص مشن تھا اور اس کی انجام دہی اور تکمیل کیلئے جوبلوچستان آئے تھے تا کہ وہ اپنے مخصوص مشن کی روشنی میں اپنا معتصبانہ ، جانبدارانہ بیانیہ تحریر کرتے رہے تاکہ لوگ حیران و پریشان ہوں اور مغالطے میں رہیں کیا وہ باتیں اور واقعات درست اور صحیح ہو سکتے ہیں؟ جو شخص مخبر اور جاسوس ہے اپنا نام و نسب اور کام و پیشہ صحیح نہیں بتاتا وہ کیا خاک ہماری تاریخ درست بیان کرےگا اور ہم بھی اتنے جاہل اور نکمے ہیں کہ ان کی باتوں کو ہم جہالت میں حوالے بناتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے تاریخ لکھ ڈالی ہے نتیجتاً”مغالطے اور اندیشہ ہی جنم لیتے رہتے ہیں جو قیامت تک ختم نہیں ہو سکتے اور اس طرح آنے والے نا اہل ‘چالاک بادشاہ اور حکمران ان مغالطوں اور اندیشوں کو اپنے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کر کے سادہ لوح عوام کو حسب ضرورت گمراہ کرتے رہتے ہیں اور پھرخصوصا” جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا دورہے جو درست اطلاع اور انفارمیشن پر کم اور پروپیگنڈہ اور جھوٹ پر زیادہ مبنی ہوتا ہے اس سے ہم جیسے پسماندہ اور سادہ لوگ کیا خاک فیض حاصل کر سکیں گے ۔
محترم قارئین اس ضروری ،طویل اور لمبے تعارف کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں تو قارئین کرام میری محدود اور واجبی معلومات کے مطابق بلوچ خانیٹ کی ابتداءمیر میرو خان اورمیر قمبر خان سے ہوئی ان کی حکمرانی اور سربراہی میں دارالخلافہ سوراب نغاڑ ہوا کرتا تھا جب خانیٹ کی جغرافیائی حدود اور سرحدیں متنازعہ اور غیر واضح تھیں جس کا انجام غالبا© برا ہوجدگال جنگ پر منتج ہوا جس میں میرو خان نے داد شجاعت دیتے ہوئے وطن کے دفاع میں جام شہادت نوش کیا مگر ان کے ایک جانثار اور وفادار غلام گوشو نے ان کے شیرخوار بچے میر بجار اور ان کی بیوہ بی بی مہناز کو بچایا اور بحفاظت مستونگ پڑنگ آباد پہنچا دیا کیونکہ بی بی مہناز کا تعلق مستونگ سے تھا تاکہ میر بجار زندہ و سلامت رہے اور اپنے شہید والد کا بھیروبدلہ لے سکے اور اپنے نوزائیدہ وطن یعنی بلوچستان کو دشمنوں کے قبضے سے آزاد کرے اور استحکام بخشے جو ہرحاکم کا فرض منصبی ہوتا ہے اس لئے کہ وطن ننگ و ناموس ہوتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور رضا سے ایسے ہی ہوا اور میر بجار نے نہ صرف اپنے دشمنوں سے شہید باپ کا بدلہ لیا بلکہ مقبوضہ علاقہ بھی ان سے چھڑا لیا اورعلاقے پر اپنی حاکمیت کو بحال کیا اور برقرار رکھا اوریوں بلوچ خانیٹ پھر سے بحال ہوا ۔
پھر حکومت احمد زئی خاندان کے حصے میں آئی دارالخلافہ نغاڑ سوراب سے مستقلا”قلات شفٹ ہوا پھر عبداللہ خان قہار (وقاب کوہی ) نے اپنی حکمرانی کے دوران خانیٹ و بلوچستان کے جغرافیائی حدود کو اپنی انتھک محنت اور کوششوں سے بہت حد تک بحال کیا مگر اس جدوجہد میں ان کی جان چلی گئی اور وہ بھی شہید ہو گئے تبھی تو انہوں نے اپنے اشعار میں کہا کہ
کوہنگ ءا ِے کو ھیںِ قلات
کسی پتی میراث نہ انت
ماپہ سگاراں ِگپتگاں
کوٹ ءُ قلاتانی وا جہاں
اور پھر حکمرانی کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ خان اعظم میر نصیر خان نوری بلوچستان کے خان اور حکمران بن گئے اور انہوں نے بھی اپنے جد یعنی وقاب کو ہی کی مروجہ پالیسیوں کو من و عن برقرار رکھا اور بلوچستان کے قدرتی جغرافیائی حدود کو بحال کر دیا اور احمد شاہ ابدالی یعنی احمد خان کے سوال پر کہ ” آپ بحیثیت خان بلوچستان کے حدود کو کہاں تک مانتے ہیں اور شمار کرتے ہیں “ چنانچہ ان کے اس سوال کے جواب میں خان اعظم نے فرمایا کہ جہاں جہاں بلوچی زبان بولی جاتی ہے اور جہاں بلوچ آباد ہیں میں اس جگہ یا قطع زمین کو بلوچستان اور خانیٹ کا حصہ سمجھتا ہوں اور مانتا ہوں اور یہی تاریخی بات اور خان معظم کا جواب جو خالصتا” بلوچستان کے جغرافیائی حدود پر مبنی اور منحصر ہے جو میرے زیر نظر مضمون کا لب لباب ہے اور خان اعظم میر نصیر خان نوری پر عائد الزامات و تاریخی مغالطوں اور شائبوں کا فوری‘ منطقی اور مدلل جواب ہے کیونکہ میرے نزدیک ریاستیں جغرافیہ سے بنتی اور بگڑتی ہیں جس سے دیگرنزاعی معاشی ، سیاسی اور معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں اورمعاشرے میں نفوذ کرجاتے ہیں ۔تمام جنگوں کے اصل اوربنیادی اسباب زیادہ تر جغرافیائی حدود ہی رہے ہیں مگر خان اعظم میر نصیر خان نوری کے معاملے میں قصہ ہی کچھ برعکس اورالٹ ہے فاروق بلوچ رقمطراز ہیں کہ ”الغرض جتنے بھی مورخین ہیں تقریبازیادہ تر کیچ پر حملے کی مذہبی توجیحات بیان کرتے ہیں جن کو فاروق بلوچ اپنی کتاب میں مسترد بھی کرتے ہیں اور مزید لکھتے ہیں کہ نصیر خان نوری ایک جہاندیدہ‘ پر عزم ، ہوشیار اور لائق حکمران اور سیاستدان تھے مگر مخالف تاریخ دانوں کو یہ باتیں سرے سے نظر ہی نہیں آئیں اور وہ بس ایک ہی لکیر پیٹے رہے ہیں اور ان کوخان اعظم جنونی اور تنگ نظر ہی نظر آتے رہے ہیں نہ جانے کیوں یہاں تک کہ آخری خان میر احمد یار خان بھی ان مورخوں میں شامل ہیں اب سوال تو یہ ہے کہ جب وہ ہوشیار تھے ، لائق و دور اندیش حکمران تھے اور ولی ہونے کے ناطے منصف حکمران بھی تھے پھر بلوچ قوم و عوام مذہب کے معاملے میں لبرل اور آزاد خیال تھے ان کے درمیان سماجی ہم آہنگی ، روابط اور رشتے داریاں بھی تھیں اب ایسے آزاد خیال اور لبرل معاشرے میں حاکم اوربلوچ خان میں تنگ نظری کہاں سے آئی یہ بات کم از کم ہماری سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ وہ خان اور حاکم عوام میں ولی بھی مانے اور جانے جاتے تھے مگر ہمارے مورخوں کے نزدیک یہی ولی برگزیدہ اور پہنچے ہوئے شخص اور حکمران یکایک تنگ نظری پر اتر آتے ہیں اور اپنے ہی عوام اور باغیرت قبائل کے خلاف شمشیر بدست ہوتے ہیں اور ان کا قتل عام کرتے ہیں اور ان کو مولی گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دیتے ہیں یہ سوچے اور سمجھے بغیر کہ یہ ان ہی کے معزز سیال اور معتبر قبائل ہیں ان کی رعایا اور عوام ہیں۔ ان کے دست و بازو ہیں اور ان کے درمیان ایسا کوئی نزاعی مسئلہ بھی نہیں جس کی وجہ سے بات قتل و غارت تک جا پہنچی جبکہ ہر طرف امن و شانتی کا ماحول ہے مگر ان کے ولی حاکم ہیں کہ جنگ و جدل پر تلے ہوئے ہیں اورمکران کے بلوچ بھائیوں کو قتل کرنے کے درپے ہیں چنانچہ بلوچ خان اعظم اپنی بڑھک کے برعکس سلطنت کے دیگر تمام اہم اور منصبی امور چھوڑ چھاڑ کر مکران کے ذکریوں کو مسلمان ، مومن اورنمازی بنانے میں اپنی ساری قوت صرف کرتے ہیں مگر جھالاوان کے ذکریوں کو کچھ نہیں کہتے بلکہ ہندوﺅں اور سکھوں کی ناراضی بھی ان کو قبول نہیں اور ان کو نوازتے رہتے ہیں کیونکہ وہ ان کی رعایا اور عوام ہیں ان کیلئے آئین نصیری بھی بناتے ہیں مگر مکران کے ذکریوں کے معاملے میں وہ بہت سخت گیر نظر آتے ہیں بلکہ جنگی جنون میں مبتلا ہیں اور بقول فاروق بلوچ اور جب ملت اسلامیہ کے چشم و چراغ اور فاتح دہلی اور پانی پت یعنی احمد شاہ ان کے اس منفی اور غیر انسانی عمل پر ان کو فی الفور مکران خالی کرنے کا حکم دیتے ہیں تو وہ یعنی خان اعظم چوں بھی نہیں کرتے اور یوں لگتا ہے کہ ہمارے بلوچ خان اعظم اور ولی کو احمد خان جتنی سیاسی بصیرت اور وژن نہ تھی جس کے سامنے انہوں نے ”بلوچ اور بلوچی“کی بڑھک ماری تھی مگر بلوچ تاریخ دانوں کی نظر میں وہ اب اس بھڑک بازی سے غالباً منحرف ہو چکے تھے بلکہ بے بس نظر آ رہے تھے یہ ساری باتیں عقل و دانش ، سیاسی ویژن اور بصیرت اور آداب حکمرانی کی صریحاًخلاف ہیں جبکہ ساری دنیا مانتی ہے کہ حکمرانی خالصتا” ایک نفسیاتی مسئلہ ہے اور اسی بنیاد پر حاکم اور بادشاہ عوام سے ڈیلنگ کرے تو بہتر ہے مگر ہمارے تاریخ دانوں کے نزدیک ایک ہمارے خان اعظم ہیں کہ ان کو یہ معمولی بات سمجھ میں نہیں آتی اور وہ تیغ برُان اور نیزے کی نوک پر اپنی رعایا کو کو مسلمان اور مومن بنانا چاہتے ہیں جبکہ نص ِ قرآنی ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں اور ہدایت من جانب اللہ ہے اور جوہدایت طلب کرتا ہے اسے ہدایت مل بھی جاتی ہے مگر یوں لگتا ہے کہ بلوچ مورخین نے نصیر خان نوری پر لکھتے وقت مذکورہ تمام باتوں کو خاطر میں نہیں لایا بس مذہب کی لکھیر ہی پیٹتے رہے اورکسی طرح یہ ثابت کر ہی دیا کہ اپنی حکمرانی کے دوران ان کی دانش کی سوئی ذکر اور نماز پر اٹکی ہوئی تھی اور وہ اسی پر بضد اور قائم تھے ان باتوں کو پڑھنے کے بعد کوئی شخص اس نتیجے پر پہنچے گا کہ خان اعظم سماجی انصاف کے معاملے میں دھرا معیار رکھتے تھے بلکہ ولی ہی نہ تھے اور ڈکٹیٹرہٹلر کے وزیر پروپیگنڈہ گوئبلز کے جانشین تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میر نصیر خان نوری بلوچوں کے انتہائی اہل حکمرانوں میں سے تھے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سلطنت اور خانیٹ کو استحکام بخشا اس کے سرحدوں کو بحال کر کے ان کو محفوظ کیا اور ایک پراگندہ اور منتشر بلوچ قبائل کو مجتمع کر کے قوم کی لڑی میں پھرو دیا اور اس کے قومی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا اب کوئی شخص یا لکھاری ان خوبیوں کو نہ مانے اور ان کو یکسر مسترد کرے اور ان کو مذہبی جنون میں مبتلا حاکم قرار دے تو ہم اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں جبکہ انہی مورخوں میں ایک سینئر مورخ میر نصیر خان ایک جگہ رقمطراز ہیں کہ ”بلوچ کٹر “ مذہبی قوم نہیں ہے ہر مذہب کے ماننے والے کے ساتھ اس کا بھرتاﺅ شریفانہ ہے اور ہمدردانہ ہے مذہب کے نام پر وہ کسی سے نہیں جھگڑتا پھر ہمارا سوال یہ ہے کہ خان اعظم نصیر خان نوری جیسے مدبر ، بصیرت ، افروز اور وژنری حکمران کی سائیکی بلوچ عوام کی سائیکی کے بالکل برعکس کیسے اور کیوں تھا یقینا اس کا جواب نفی میں ہے انہی سطور میں میں یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ سید محمد جونپوری نے کبھی امام مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا البتہ وہ عبادت میں ذکر باالجہر یعنی اونچی آواز میں ذکر کرنے کے قائل ضرور تھے اور اس بات کو ذکری فرقے نے اپنی عبادات میں اپنایا اور وہ گول دائرے میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر اب بھی اونچی آواز میں کرتے ہیں مختصر یہ کہ نصیر خان نوری جو بلوچوں میں ولی اور پہنچے ہوئے شخص جانے اور مانے جاتے تھے انہوں نے محض اپنی حکمرانی کی خاطر مذہب کو آلہ کار نہیں بنایا بلکہ میرا دعویٰ ہے کہ بلوچ ہونے کے ناطے اور پھر اچھی بلوچ روایات (Values) کی روشنی میں وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے بلکہ اس بات کو گناہ کبیرہ میں شمار کرتے تھے اور دین برحق کے معاملے میں ہر ادنیٰ بلوچ کی سوچ یہی ہے کیونکہ یہاں معاملہ سچ اور جھوٹ سے جڑا ہوا ہے بلوچ ثقافت جو اچھی اقدار سے بھی وابستہ ہیں اور بلوچ میار بلوچ کوڈ کا بھی حصہ ہے اور بلوچ کہاوت بھی ہے کہ ”لٹ ئَ بجن پہ برات ءبلے ھبر ئَ ِبکن پہ حدا “ یعنی جہاں تک لڑائی اور جنگ کا تعلق ہے بلوچی غیرت کو مد نظر رکھ کر بھائی کی خاطر لڑو مگر جب معاملہ سچائی پر آ کر ٹھہرے تو بات خدا لگتی کہنا یعنی بات ہمیشہ اللہ کے فرمان کے مطابق کرنا اور کبھی بھی جانبدار ی سے کام نہ لینا“اور یہی امر ایک سچے مسلمان بلکہ مومن دوسرے لفظوں میں اچھے بلوچ کی علامت ہے جو بلوچ کوڈ اور آئین نصیری کی بنیادی خصوصیات یا Featuresمیں سے بہت اہم خصوصیت ہے اور پوری بلوچ تاریخ اسی ایک دائرے کے اردگرد گھومتی ہے ۔
قارئین واضح رہے کہ راقم تحصیل مشکے گجر کا مستقل اور مقامی باشندہ ہے جہاں میر نصیر نوری کاتاریخی مسجد تھا مگر کم فہم ہالیان مشکے نے نہ صرف اس کشادہ ، خوبصورت اور پرفضاءمسجد کو شہید کرا دیا بلکہ اس کے اردگرد ایستادہ کیکر (گز ) کے بڑے بڑے اور خوبصورت اشجار کو جن پر ہر وقت خوبصورت پرندے چہچہارہے ہوتے تھے ان کی اردگرد کی فضاءسے چہکار ہمہ وقت محسور کن ماحول طاری رہتا تھا اور پھر اس حیرت انگیزا ور خوشگوار رومانی ماحول میں جو شخص اس مسجد میں نماز ادا کرنے کیلئے داخل ہوتا تھا اس پر ایک قسم کا وجد طاری ہوتاتھا اور وہ نمازی انجانے میں اپنے آپ کو انتہائی روحانی بلندیوں پر فائز محسوس کرتا تھا اور اس پرا یک گو نہ کیف و سرور اور اطمینان کی کیفیت طاری ہوتی تھی مگر نادانوں نے ان کو کاٹ کر سوزن کے طور پر استعمال کیا جبکہ اس وقت ہم بچوں کو عقیدتا”اجازت نہ تھی کہ ان اونچی درختوں پر خوبصورت پرندوں کا شکار کریں چنانچہ درختوں کی کٹائی کے بعد ان نادانوں نے مسجد کی زمین پر قبضہ کرلیا ایک دن گناہگار راقم نماز ادا کرنے کیلئے مذکورہ مسجد میں گیا اور مسجد کا پرانا منظر ذہن میںرکھ کر لوکیشن دیکھا تو بے حد صدمہ ہوا یقین کریں مسجد شریف لیاری کی تنگ و تاریک ایریاز جیسے کلری ، بغدادی اور کلاکوٹ کا منظر پیش کر رہا تھا پھرمیں نماز ادا کئے بغیر وہاں سے چلاآیا اور کسی دوسرے مسجد میں نماز ادا کیا میرے اس گستاخانہ عمل پر اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے کیونکہ مجھے یوں لگا جیسے مسجد شریف کے اردگرد اداسی چھائی ہوئی ہے جو مجھ گناہ گار سے برداشت نہیں ہوپارہا تھا بہرحال یہ میرے ذاتی احساسات ہیں اور میں غلط بھی ہو سکتا ہوں جس پراللہ پاک مجھے معاف فرمائے۔
روایت یہ ہے کہ مکران سے واپسی پر خان اعظم میر نصیر خان نوری یہیں سے گزرے تھے اور مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا اور آگے منزل کی جانب روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ نوکجو شادین زئی پہنچے جو مشکے گجر سے شمال مشرق کی جانب 12میل کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں یعنی نوکجو شادینزئی میں ایک معزز شخص میر شادین بھی موجود تھے اور شام ہو چکی تھی سائے گہرے ہو رہے تھے ایسے موقع پر بلوچ میار آڑے آئی اور انہوں نے مناسب سمجھا کہ وہ خان اعظم کو مہمان ٹھہرائیں چنانچہ انہوں نے خان صاحب کو بتایا اور مشورہ دیا کہ چونکہ رات ہو گئی ہے اور مضافات اور قریب و وجوار میں کوئی ایسی آبادی والی اور کوئی جگہ بھی نہیں جہاں وہ لاﺅلشکر کے ساتھ رات قیام کر سکیں لہذا وہ یعنی خان اعظم میر نصیر خان نوری ان کے مہمان ٹھہریں اور ان کو خدمت کا موقع دیں تاکہ وہ یعنی میر شادین اور ان کے لوگ ان کی محفل اور مجلس سے فیض یاب ہوں اور ان کے قیام سے اس کو اور اس کے گاﺅں کے لوگوں کو خیروبرکت نصیب ہو۔ میر شادین خود برگزیدہ اور عبادت گزار شخص تھے ان کی درخواست پر خان اعظم نے ان سے دریافت کیا کہ میر آپ معاشی لحاظ تنگ دستبلوچ ہیں آپ میرے اتنے بڑے لاﺅ لشکر کو طعام اور چارہ مہیا کر سکیں گے انہوں نے اثبات میں جواب دیا چونکہ وہ سخی اور درویش صفت انسان تھے اس لئے اللہ پاک نے ان کی مدد فرمائی اس طرح میر شادین شادینزئی خان اعظم کی خاطر مدارت میں سرخرور اور کامیاب ہوئے اگلی صبح روانگی سے قبل خان اعظم میر نصیر خان نوری نے میر شادین سے کہا کہ وہ اس خدمت کے عوض میں ان سے کچھ مانگیں اور طلب کریں جیسے کہ وہ یعنی میر شادین بھی معزز اور مڑہ دار بلوچ تھے انہوں نے عرض کیا خان اعظم اپنی قید میں محصور اور مقید بندیوں اور قیدیوں کو رہا کریں چنانچہ خان اعظم میر نصیر خان نوری نے تمام گرفتار قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا اور آزادی عطا کر دیا اس دن کے بعد میر شادین (بندی موک) کے نام سے علاقے میں مشہور ہوئے اور آج بھی وہ اسی معزز اور معتبر نام سے جانے جاتے ہیں کوئی بھی معتبر شخص یا مورخ بہ نفس نفیس آ کر اس واقعے کی تصدیق بھی کر سکتا بلکہ صدائے عام ہے ”یا ران نکتہ دان کیلے “۔
اب جو سوال پڑھنے والوں کے ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ کہ ایک مذہبی مہم کے بعد خان اعظم کو کیا ضرورت تھی کہ وہ ایک ایسے شخص کا مہمان ٹھہریں جس کے ہم مذہب بھائیوں کو انہوں نے تہہ تیغ کر دیا تھا جبکہ وہ شخص یعنی میر شادین ذکری فرقے کے غیر معمولی اور نمایاں شخصیت تھے یعنی مشہور شخص تھے اور ان کی عبادت گزاری کایہ عالم تھا کہ اس مخصوص عبادت کرنے کی جگہ(کولو)یعنی عبادت کی مخفی اور تنگ جگہ جو آج بھی موجود اور ہے اور ذکری فرقے کے لوگ اس کے تقدس اور تبرک کو دل سے اب بھی مانتے ہیں اور اس کو بہت اہم جگہ اور عبادت خانہ تصور کرتے ہیں ۔چلیں انجانے اور بے خبری میں وہ یعنی خان اعظم میر نصیر خان نوری ذکری فرقے کے معتبر کے پاس ٹھہرے مگرمیر شادین کے کہنے پر انہوں نے قرار دیئے گئے مرتد اور ملحد قیدیوں کو کیوں رہا کیا؟اس لئے کہ اس کے دین کے دشمن معتبر یعنی میر شادین ”بندی موک“ کہلائیں؟ اور مشہور ہوں اور اس کے فرقے کا دائرہ مزید وسیع ہو اور وہ فرقہ ختم ہونے کی بجائے مزید پھلے پھولے اور اس کو استحکام اور نصرت نصیب ہو یہ تو دشمنی نہیں ہوئی بلکہ گلوریفکیشن یعنی پذیرائی اور تعریف و توصیف ہوا اب کوئی مورخ یہ بتائے کہ بدترین دشمن کی کوئی کیونکر پذیرائی کرے؟ یہ کوئی وژن یا سیاسی بصیرت تو نہیں بلکہ بہت بڑی حماقت ہے ان واقعات کو سننے اور پڑھنے کے بعد آدمی حیرت و استجاب میں پڑ جاتا ہے کہ یہ کیسا حکمران ہے جو کبھی بلوچ اور بلوچی کی بنیاد پر اپنے خانیٹ جغرافیائی حدود کو واضع کرتا ہے مگر اگلے لمحے انہی لوگوں کوبلاوجہ تہہ تیغ بھی کرتا ہے پھر یہ ستم بھی ملاحظہ ہو کہ انہی کافر اور ملحد ذکری بلوچوں کو اپنے دستہ خاص میں بھی شامل کرتے ہیں واضح رہے کہ ساجدی ، میروانی ، کوتوال وغیرہ ذکر فرقے کے جزولایفنک ہیں یہ ساری باتیں یاد اور Contradictory ہیں اس لئے غلط ہیں اور ان متضاد باتوں کی تصدیق مشہور مورخ و محقق ڈاکٹر بلوچ نے بھی اپنی کتاب کےا ہے کتاب کے صفحہ نمبر96میں لکھتے ہیں کہ ان کی چپقلش ذاتی و مذہبی نہیں تھی بلکہ معاشی اور جغرافیائی تھی جو حکمرانی سے جڑا ہوا ہے لہذا وہ یعنی خان اعظم میر نصیر خان نوری خان بلوچ کے لقب میں ہی اچھے لگتے ہیں کیونکہ وہ ایک حاکم اور بادشاہ ہیں اور حکمرانی کے آداب و اطوار کے ساتھ اچھے لگتے ہیں ۔
مزید یہ کہ خان اعظم میر نصیر خان نوری کے پنجگور کا حملہ مذہبی پس منظر میں کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ پنجگور میں سنی مسلمانوں یعنی نمازی فرقے کی بھاری اکثریت ہے اور ذکری فرقے کے لوگ وہاں بہت کم اور خال خال ہی نظر آتے ہیں پھر پنجگور پر میر نصیر خان نوزی کا حملہ چہ معنی دارد جبکہ سارے مورخین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ بلوچ ایک آزاد خیال اور لبرل قوم اور راج ہے تو پھر اس آزاد خیال اور لبرل قوم کا ویژنری حکمران کیونکر استعداد مذہبی جنون اور انتہاءپسندی میں مبتلا ہے لہذا مذکورہ بیانیہ زمینی حقائق اور سچائیوں کے بالکل برعکس ہے اس لئے لغو اور بے معنی ہے بلکہ صریحا” یا وہ گوئی ہے جس کو عقل تسلیم نہیں کرتی پس قارئین سے گزارش ہے کہ وہ مذکورہ بیانیہ پر سنجیدگی سے سوچیں اور غور کریں اور چاہیں تو اپنی آراءسے ہمیں مستفید فرمائیں اور ہماری اصلاح فرمائیں تاکہ مغالطے اور اندیشے دور ہوں ، والسلام


