کراچی میں ایک مرتبہ پھر طوفانی بارش سے تباہی، کم از کم 23 افراد ہلاک
کراچی میں صبح سے مون سون کی طوفانی بارش کے باعث سڑکیں دریا، گلیاں ندیاں بن گئیں، پانی کے بپھرے ریلے گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، بسوں کو بہا لے گئے، فولادی کنٹینر کھلونوں کی طرح ڈول گئے، بعض جگہ سڑکوں پر پھنسے شہریوں کے لیے کشتی سروس شروع کرنا پڑی۔

کراچی میں ایک مرتبہ پھر طوفانی بارش سے تباہی، مختلف حادثات میں کم از کم 23 افراد ہلاک
گلستانِ جوہر میں آسمانی بجلی کا نشانہ بننے والی ایک رہائشی عمارت کی بیرونی دیوار گرنے کے واقعے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مرتبہ پھر طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے اور پولیس کے مطابق جمعرات کو شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کراچی میں موسلادھار بارش کا تازہ سلسلہ جمعرات کی صبح شروع ہوا اور حکام کے مطابق شام تک 130 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے جبکہ بارش کا یہ سلسلہ جمعے تک جاری رہ سکتا ہے۔
کراچی شہر کے متعدد علاقوں میں منگل کو ہونے والی شدید بارش کے بعد اب تک بحالی کا کام نہیں ہو سکا تھا اور جمعرات کو ہونے والی شدید بارش نے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

سندھ حکومت نے شہر میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر جمعے کو تعطیل کا اعلان کیا ہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ شہر میں سکولوں کی عمارتوں میں متاثرین کو رکھنے کے انتظامات کیے جائیں جبکہ پی ڈی ایم اے وہاں متاثرہ لوگوں کو کھانا اور ضروری اشیا مہیا کرے۔

آسمانی بجلی گرنے سمیت مختلف حادثات میں 23 افراد جان سے گئے، محکمہ موسمیات نے کل بارش کا امکان ظاہر کردیا۔کراچی میں ہونے والی حالیہ بارشوں کے دوران کئی ریکارڈ ٹوٹ گئے اور کئی نئے بن گئے۔
شہر قائد میں بارشوں کا نصف صدی کا ایک ریکارڈ ٹوٹ گیا، 53 سال قبل جولائی 1967 میں کراچی میں 429

ملی میٹر بارش ہوئی تھی، تاہم رواں ماہ میں اب تک 442 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے۔محکمہ موسمیات کے 89 سالہ ریکارڈ میں سب سے زیادہ بارشیں 1967 کے مون سون سیزن میں ہی ہوئی تھیں۔


