بیلجیم کو کانگو کی آزادی کے رہنما کا دانت واپس کرنے کا حکم

بیلجیم کی ایک عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ افریقی ملک کانگو کی آزادی کے مقتول رہنما پیٹریس لُومُمبا کا چوری شدہ دانت ان کے خاندان کو واپس کیا جائے۔ قتل کے بعد لُومُمبا کے دو دانت بیلجیم کے ایک پولیس اہلکار نے چرا لیے تھے۔
پیٹریس لوممبا، کونگو کی بیلجیم سے آزادی کے ہیرو، جنہیں صرف چھتیس برس کی عمر میں قتل کر دیا گیا تھا

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ملکی دفتر استغاثہ کے حکام نے جمعرات دس ستمبر کے روز بتایا کہ ایک ملکی عدالت نے اب یہ حتمی حکم جاری کر دیا ہے کہ لُومُمبا کے قتل کے بعد ان کے چرا لیے گئے دو دانتوں میں سے ایک دانت ان کے موجودہ لواحقین کو واپس کیا جائے۔ دوسرے مسروقہ دانت کی کسی کو کوئی خبر نہیں ہے۔

پیٹریس لُومُمبا چھوٹے سے یورپی ملک بیلجیم کی نوآبادی کانگو کی آزادی کے رہنما تھے، جو بعد میں کچھ عرصے کے لیے آزاد کانگو کے پہلے وزیر اعظم بھی رہے تھے۔ انہیں 1961 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

قتل کے بعد ان کی جسمانی باقیات سے یہ دو دانت بیلجیم کے ایک پولیس اہلکار نے اس لیے چرا لیے تھے کہ دشمن کو زیر کر لینے کے بعد حاصل کیے گئے اعزاز کے طور پر انہیں اپنے پاس رکھ سکے۔

یٹریس لوممبا کی گرفتاری کے بعد اور ان کے قتل سے ایک روز قبل لی گئی یہ تصویر ان کی چند آخری تصاویر میں سے ایک ہے

لُ
آج سے قریب چھ عشرے قبل لُومُمبا کی گرفتاری کے وقت فوجیوں نے ان کی پٹائی بھی کی تھی۔ پھر کانگو کے ان علیحدگی پسندوں نے ان پر تشدد کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا، جنہیں سابقہ نوآبادیاتی طاقت بیلجیم کی حمایت حاصل تھی۔

لُومُمبا کا یہ دانت کئی برسوں تک بیلجیم کے ایک سابقہ پولیس اہلکار جیرارڈ سوئٹے کے قبضے میں رہا تھا، جس نے ایک بار اسے ایک جرمن ٹیلی وژن کے صحافی کے ساتھ انٹرویو میں دکھایا بھی تھا۔ سوئٹے نے اعتراف کیا تھا کہ اس کے پاس لُومُمبا کے دو دانت تھے۔ سوئٹے کا انتقال 2000ء میں ہوا تھا اور بیلجیم کے حکام نے اب تک ملنے والا یہ واحد دانت 2016ء میں سوئٹے کی بیٹی کے قبضے سے برآمد کیا تھا۔

اس دانت کی واپسی کے لیے اسی سال موسم گرما میں لُومُمبا کی بیٹی جولیانا لُومُمبا نے بیلجیم کے بادشاہ کو ایک خط بھی لکھا تھا کہ ان کے مقتول والد کی یہ آخری اور واحد جسمانی نشانی ان کے خاندان کو لوٹائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں