گینگ ریپ جیسے واقعات پر وزیراعظم غائب ہوجاتے ہیں، شہباز شریف
اسلام آباد:قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ موٹروے گینگ ریپ جیسے واقعات پر وزیراعظم غائب ہیں اور ایک لفظ تک نہیں کہا،وزیراعظم کا وطیرہ بن چکا ہے کہ جب قوم خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے اور وزیراعظم کو تلاش کرتی ہے تو وہ اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں،سانحہپر پوری قوم سوگوار تھی تو حکومت اس بحث میں الجھی ہوئی تھی کہ موٹر وے کے اوپر کس کا کنٹرول ہے، ظلم رسیدہ بچی پر دست شفقت رکھنے کے بجائے پولیس افسر نے جو طعنہ زنی کی اس پر پوری قوم کے دل زخمی ہوگئے،قصور میں زینب کے ساتھ واقعہ کو تحریک انصاف نے بدترین سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ، آئی جی پنجاب نے جولائی میں حکومت سے کہا تھا کہ لاہورسیالکوٹ موٹروے پر پولیس تعینات کی جائے تو پھر اس میں تاخیر کیوں ہوئی؟ڈھائی سال ہونے کو ہیں ہر معاملے پرحکومت کی غفلت بڑھتی جارہی ہے، مہنگائی کو ختم کرنا ہو یا غربت، بے روزگاری کو ختم کرنا ہو حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ،موٹروے واقعہ پرپارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو اس بات کی تحقیقا ت کرے کہ موٹروے واقعے پر سیکیورٹی پولیس کی تعیناتی میں تاخیر کیوں ہوئی اور ایسا پولیس افسر جو بدنام زمانہ تھا اس کو کیوں تعینات کیا گیا اور کمیٹی اسکو طلب کرکے پوچھے کہ اس وقت متنازع بیان کیوں دیا۔اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہونے والے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف بھی شریک ہیں اور حالیہ بارشوں،ر سیلاب، دہشت گردی کے واقعات اور حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔اسپیکر نے لاہورسیالکوٹ موٹر وے واقعہ پر بحث کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ہہ واقعہ ہمارے ماتھے پر بدنما داغ ہے اور اس پر وقفہ سوالات کے بعد بحث شروع کی جائے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ پیپلزپارٹی بھی یہی چاہتی ہے کہ دیگر کارروائی معطل کر کے لاہور واقعے پر بات کی جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اس واقعے سے سب کے سرشرم سے جھک گئے تاہم مقام شکر ہے کہ آج وہ ملزم گرفتار ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے خوف ناک اور دل کو دہلا دینے والے واقعات اور اس روش کو کیسے روکا جائے یہ اہم سوال ہے، مگر شومئی قسمت کہ اس سانحے نے پوری قوم سوگوار تھی تو حکومت وقت اس بحث میں الجھی ہوئی تھی اس موٹر وے کے اوپر کس کا کنٹرول ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ قوم کی ایک لاچار بیٹی کے اوپر ظلم ہوچکا تھا مگر حکومت کے ایوانوں اور ٹی وی کی اسکرینوں میں یہ بحث چل رہی تھی کہ یہ پنجاب حکومت کی کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور اس طرح کے بیانات چل رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ مجرم کو گرفتار کرنے کے لیے تمام توانائی صرف کرنے کے بجائے پولیس افسر نے کہا کہ یہ رات کو کیوں نکلیں، یہ کہے کہ پیٹرول نہیں تھا تو چیک کیوں نہیں کیا اور رات کے اندھیرے میں کیوں نکلی، کوئی بھی ذی شعور انسان اس طرح کی بات سوچ بھی نہیں سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ ظلم رسیدہ بچی پر دست شفقت رکھنے کے بجائے پولیس افسر نے جو طعنہ زنی کی اس پر پوری قوم کے دل زخمی ہوگئے اورجنہوں نے اس کو لگوایا وہ سینہ تان کر اس کے ساتھ کھڑے تھے کہ ہم نے اس کو لگوایا جبکہ اس افسر سے متعلق ایجنسیوں کی رپورٹ کہ رہی تھی یہ بندا کرپٹ ہے اور اس لائق نہیں کہ کوئی اہم ذمہ داری دی جائے لیکن ڈھٹائی کے ساتھ اس کو اہم مقام پر لگایا گیا۔سی سی پی او لاہور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مکافات عمل ہے کہ اس کی تعیناتی کے فوری بعد بدقسمت واقعہ سامنے آیا اور اس کا پول کھل گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ قصور میں زینب کے ساتھ واقعہ پیش آیا تو پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قصور جا کر اس معاملے کو بدترین سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی اور اس کو سیاست کے لیے استعمال کیا گیا اور پی ٹی آئی کی قیادت کی کوشش تھی کہ اس کو خراب کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر ہم نے کوئی سیاست نہیں کیا اور بڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اس بیٹی پر ظلم کو اپنا ظلم جانا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ سوچنا ہوگا کہ روز اس طرح کے واقعات کیوں ہوتے ہیں، قصور میں زینب کے واقعے کے چند دنوں بعد خیبرپختونخوا میں بھی ایک بچی کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا اور لاہور کی فرانزک لیبارٹری کی مدد سے ملزم پکڑے گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان گلہ پھاڑ پھاڑ کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کررہے تھے، اس واقعے پر مکمل غائب اور خاموش ہیں، ایک لفظ تک نہیں کہا اور وزیراعظم کا وطیرہ بن چکا ہے کہ جب قوم خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے اور وزیراعظم کو تلاش کرتی ہے تو وہ اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی عہدیداروں نے ملزم کو بھاگنے کا موقع دینے کی کوئی کسر نہیں چھوڑ تھی لیکن اللہ کا شکر ہے آج کو وہ گرفتار ہو گیا ہے، حکومت کی غفلت کا اس طرح کا مظاہرہ بہت کم دیکھا گیا ہے۔لاہورسیالکوٹ موٹروے پر پولیس کی تعیناتی میں تاخیر پر ان کا کہنا تھا کہ جب آئی جی پنجاب نے جولائی میں حکومت سے کہا تھا کہ یہاں پر پولیس تعینات کی جائے تو پھر اس میں تاخیر کیوں ہوئی اور وقت کیوں ضائع کیا گیا، یہ مجرمانہ غفلت تھی اور آئی جی کے خط پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈھائی سال ہونے کو ہیں ہر معاملے پر غفلت بڑھتی جارہی ہے، چاہے مہنگائی کو ختم کرنا ہو یا غربت، بے روزگاری کو ختم کرنا ہو حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اسی طرح انتظامی معاملات پر بھی یہ حکومت ناکام ہے۔شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی انکوائری کی جائے اور ایسے دلخراش واقعات کا تدارک کرنا اور روکنا ہے تو انصاف اور میرٹ کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔اپوزیشن لیڈر نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہائوس کمیٹی بنائی جائے کہ موٹروے واقعے پر سیکیورٹی پولیس کی تعیناتی میں تاخیر کیوں ہوئی اور ایسا پولیس افسر جو بدنام زمانہ تھا اس کو کیوں تعینات کیا گیا اور طلب کرکے پوچھاجائے کہ اس وقت متنازع بیان کیوں دیا۔شہباز شریف نے کراچی میں بچی کے ریپ کے بعد قتل کے واقعے کی مذمت کی اورکہا کہ اس واقعے پرملزم کی گرفتاری سے متعلق کیا پیش رفت ہوئی ہے اس پر بتایا جائے۔


