حکومت مطلوبہ قانون سازی میں کامیاب
فیٹف کی جانب سے پاکستان سے کہا گیا تھا کہ اسے گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے27شرائط پوری کرنا ہونگی۔بیشتر کا تعلق منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے ہے۔پاکستان14شرائط پوری کر چکا ہے۔فیٹف کا آئندہ اجلاس اکتوبر میں ہوگا، ظاہر ہے کہ پاکستان کو اپنی پیشرفت کی رپورٹ ستمبر میں جمع کرانا ہے تاکہ تمام اراکین اجلاس سے پہلے اس کا مطالعہ کر سکیں۔اپوزیشن کو سینیٹ میں اکثریت حاصل ہے سینیٹ نے قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل اپنی اکثریت کے بل پر مسترد کر دیئے۔آئین ایسی صورت میں ایک متبادل راستہ تجویز کرتا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور مشترکہ اجلاس کثرت رائے سے حتمی فیصلہ کرے۔ اپوزیشن کے مطالبے پر اراکین کی تعداد گنی گئی۔حکومت اور اس کے اتحادی200جبکہ اپوزیشن کے 190اراکین ہاؤس میں موجود تھے۔ حکومت کے 16اور اپوزیشن کے 34اراکین غیر حاضر رہے۔رولز کے مطابق ترمیم پیش کرنے والے رکن کے سوا دوسرا تقریر نہیں کر سکتا کی بنیاد پر بلاول بھٹو زرداری کو تقریر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اپوزیشن نے واک آؤٹ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جمہوری تاریخ کا سیاہ دن تھااسپیکر ہماری ترامیم پر بحث نہیں ہونے دی، سرخ لائن پار کر لی ہے اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے12بلوں کی حمایت کی اس کے باوجود ہماری جائز ترامیم مسترد کر دی گئیں اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومتی اراکین کی تعداد190سے کم تھی شک ہے مشیروں کو بھی گنتی میں شامل کیا گیا ہے۔اسی لئے دوبارہ گنتی نہیں کرائی گئی۔ہمیں کسی قسم کے دباؤ پر قانون سازی قبول نہیں۔اے پی سی میں ٹھوس فیصلے کریں گے۔ اپوزیشن کی طرف سے اسپیکر کے خلاف عدم تحریک لانے کا عندیہ بھی دیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان نے بلوں کی منظوری پر ایوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: اگر بل منظور نہ ہوتے تو پاکستان کی معاشی مشکلات میں ناقابل برداشت اضافہ ہو سکتا تھا۔ اپوزیشن کے ساتھ کرپشن کے سوا ہر معاملے پر سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔سانحہ موٹر وے جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے عبرتناک سزاؤں کا قانون لا رہے ہیں۔تاہم یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اپوزیشن کو ایوان میں اکثریت حاصل ہونے کے باوجودحکومت جب چاہے اپنی پسند کی قانون سازی کر سکتی ہے۔اپوزیشن کی صفوں میں ایسے اراکین موجود ہیں جو غیر حاضر رہ کر حکومت کے لئے راستہ بنانے میں مددگارثابت ہوتے ہیں۔اپوزیشن اپنی بعض مجبوریوں کے باعث ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے سے پہلے اپوزیشن کو مکمل ہوم ورک کرنا ہوگا عجلت یا غیر یقینی صورت حال میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے نقصان دہ رہے گا۔یاد رہے اپوزیشن ایسی ہی ایک شکست کاسامنا پہلے کر چکی ہے۔سوچ سمجھ کر آگے بڑھا جائے۔لیکن عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ اپوزیشن جلد حکومت کو دباؤ میں لانے کے لئے کوشاں ہے آنے والے دنوں میں اس کی مشکلات میں مزیداضافہ یقینی ہے۔اپوزیشن بھی اپنی کمزوریوں سے واقف ہے۔مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اگر مسلم لیگ نون کا وفد اجلاس میں پہنچا تو یہ بڑا سیاسی المیہ ہوگا۔عظمت صحابہؓ مارچ میں اور سیاسی احتجاج میں فرق ہے۔9ستاروں والا فارمولا آج دہرانے کی ضرورت یا منفعت باقی نہیں رہی۔نظام مصطفےٰ کے نعرے کے مقابلے میں میں ”ریاست مدینہ“کا سلوگن پہلے ہی حکومت نے تھام رکھا ہے۔حکومت کی تبدیلی کے لئے ایک طاقتور عوامی تحریک کی ضرورت ہے۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ کوئی عوام تحریک کسی پاپولر لیڈر شپ کی عدم موجودگی میں نہیں چل سکتی۔اپوزیشن کے پاس آج کوئی پاپولرنعرہ اور لیڈر موجود نہیں جس کی آواز پر عوام والہانہ انداز میں گھروں سے باہر نکل آئیں۔ مقدمات کی نوعیت کے بارے میں اپوزیشن خود باخبر ہے۔حکومت عوام کی نظروں میں اتنی غیر مقبول نہیں ہوئی کہ عوام مشتعل ہوکرحکومت کے خلاف اتنا دباؤ بڑھا سکیں کہ حکومت موجودہ اپوزیشن کی شرائط ماننے پر مجبور ہو جائے۔اپوزیشن کا یہ کہنا بھی ایک خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں کہ موجودہ حکومت کو لانے والے اس سے مایوس ہو گئے ہیں۔ حالات سے اپوزیشن کے دعوؤں کی تائید نہیں ہورہی۔موجودہ حکومت اور اسے لانے والے تا حال ایک پیج پر ہیں۔کراچی پیکج کے بعد بلوچستان کے لئے بھی ایک پیکج تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔گزشتہ ہفتے وفاقی وزراء کا دورہ اسی مقصد کے لئے تھا۔ خیبر پختونخوا میں رشکئی انڈسٹریل زون کا معاہدہو چکا ہے، یہ خبریں اپوزیشن کی خوش فہمی کی تائید نہیں کرتیں۔سیاسی دانشور بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ سیاست خواہشات کے تابع نہیں ہوتی۔اپوزیشن حکومت کو فوری گھر بھیجنے کی خواہش رکھتی ہے لیکن عوام کا مسئلہ فی الحال اپنے مسائل کا حل ہے۔کراچی ٹرانسفارمیشن پیکج پر عملدرآمد کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہونا حکومت کے جلد گھر جانے کا اشارا نہیں،تین سال رہنے کی یقین دہانی نظر آتی ہے۔ 1100ارب روپے کراچی کی موجودہ بدنمائی اور مشکلات دور کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ملکی سیاست اور معیشت کا رخ متعین کرنے میں کراچی نے ہمیشہ ہراول دستے کا کام کیا ہے۔اسے آج بھی یہ مقام حاصل ہے۔کراچی ٹرانسفارمیشن عملدرآمد کمیٹی کے چیئر مین وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ہیں مگر دیگر 9اراکین میں وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کا نمائندہ اور صوبائی بیوروکریٹس کے علاوہ کور فائیوکے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔کمیٹی دستیاب فنڈز کے استعمال،مقررہ مدت میں تکمیل اور شفافیت برقرار رکھنے ذمہ دار ہوگی۔فیصلہ تین سال بعد اپنے ووٹ کے ذریعے عوام کریں گے۔ اپوزیشن کو تین سال انتظار کرنا ہوگا۔


