پی ڈی ایم کا قیام
11جماعتی اجلاس میں 26نکاتی مشترکہ اعلامیہ پیش کردیا ہے۔اعلامیہ کے اہم نکات میں وزیر اعظم کا فوری طور پر مستعفی ہوناانتخابی اصلاحات، شفاف انتخابات کا انعقاد آئندہ متوقع غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کو ماننے سے انکار، آغاز حقوق بلوچستان پلان پر عملدرآمد،سی پیک پر عملدرآمد کو تیز کرنا، مغربی کنارے کی تعمیر،سی پیک کے چیئرمین کو عہدے سے ہٹانا،ٹرتھ کمیشن بابت تیاری 1947سے آج تک پاکستان کی تاریخ کے حوالے سچ پر مبنی دستاویز اور حکومت مخالف تحریک چلانے کے لئے ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ“کا قیام شامل ہیں۔ویڈیو لنک کے ذریعے مسلم لیگ نون کے تاحیات سربراہ نواز شریف نے اپنے پرانے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہم عمران خان کو ہٹانے نہیں آئے ہمارا مقابلہ ان سے ہے جو عمران خان کو لائے ہیں۔مسلح افواج کو چاہیئے کہ وہ اپنے عہد کی پاسداری کرے، سیاست سے دور رہے، حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ سامنے لائی جائے۔پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ریاست کے اوپر ریاست قائم ہے۔پی پی پی کے رہنما سابق صد پاکستان آصف علی زرداری نے بھی خطاب کیا۔زرداری صاحب نے کہا:”ہم حکومت کو گرانا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں۔ہم آئینی اور قانونی اقدامات کریں گے۔ان خیالات کی تائید چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو نے بھی کی۔اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن نے اجلاس سے پہلے اور اجلاس کیدوران بھی بعض غیر روایتی اور ٹھوس فیصلوں پر زور دیا۔ان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اسمبلیوں سے فوری استعفیٰ دیا جائے لیکن قرار داد میں اسے مناسب وقت تک کے لئے مؤخر کر دیا گیا۔حکومت مخالف تحریک کا دورانیہ اکتوبر سے دسمبر تک وسیع ہے جبکہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے لئے جنوری 2021کا مہینہ رکھا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اے پی سی کا یہ اجلاس سابقہ اجلاسوں کے مقابلے میں کہیں بہتر رہا۔اب دیکھ جائے گا کہ پارٹیاں ریلیوں اور جلسوں کے انعقاد میں کس قدر محنت اور سنجیدگی دکھائیں گی۔حکومت کو گرانے کے لئے صرف پروگرام طے کرنا کافی نہیں ہوتا فیصلہ کن کردار طے شدہ پروگرام پر عملدرآمد ادا کرتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ہم ایک دن ضائع کئے بغیر تیاری شروع کردیں گے۔عوام کے پاس ڈور ٹو ڈور جائیں گے۔اور امید ہے کہ مہنگائی اور دیگر مسائل میں جکڑے عوام حکومت گرانے میں ہماراساتھ دیں گے۔مبصرین ملے جلے تأثرات کااظہار کر رہے ہیں، بیشتر سمجھتے ہیں کہ معاملات اکتوبر سے ہی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ مریم نواز کی موجودگی اور نواز شریف کے خطاب کے بعد شہباز شریف کی تقریر پس منظر میں چلی گئی۔اس دوران انہیں دیگر مقررین کی طرح پرچیاں بھی ملیں۔گویا اجلاس کو باہر سے مانیٹر کیاجا رہا تھا۔حکومتی حلقے اجلاس کو حکومت گرانے کے لئے ناکافی کہہ رہے نہیں۔ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ لندن میں مقیم نوازشریف کے لئے پاکستان میں رہائش پذیر کارکن اور رہنما کسی بڑی قربانی کے جذبے ساتھ باہر نہیں نکلیں گے۔نواز شریف پاکستان میں ہوتے تو صورت حال ان کے حق میں بہتر ہوتی۔ایسی تند و تیز تقریر سے عمومی طور پر یہی سمجھا جا رہا ہے کہ وہ شائد اب کبھی واپس نہ آئیں یا اس وقت تک نہیں آئیں گے جب تک یہاں کی سیاسی فضاء ان کے حق میں نظر نہ آئے۔ بہر حال ابھی صرف قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں۔وزارت عظمیٰ سے برطرفی کے بعد سے آج تک عوام کی بڑی اور متأثر کن تعداد کو اپنے گرد جمع نہیں کرسکے جس سے یہ پتا چلے کہ وہ حکومت کے لئے مشکل بن سکتے ہیں۔بیماری کے حوالے سے انہوں نے پاکستان میں ماحول پیدا کیا اس کے نتیجے میں وہ بیرون ملک روانگی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کرسکے۔اپنی صاحبزادی مریم نواز کو بھی پاکستان میں چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ انہیں جن مشکلات کا آج سامنا ہے ماضی میں ایسی مشکلات نہیں تھیں۔پرویزمشرف دور میں پورے خاندان کے ساتھ سعودی عرب ایک شاہی مہمان کی حیثیت سے گئے تھے۔اور واپس آکر ملکی سیاست میں پہلے سے بہتر پوزیشن پر پہنچ گئے تھے۔اس بار انہیں عدالتیں اشتہاری قرار دے کر دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر رہی ہیں۔ان کی تقریر کے لب و لہجے سے تجزیہ کار یہی سمجھتے نہیں کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور انہیں اپنے مقصد میں بآسانی کامیابی مل جائے گی۔ البتہ ان کے بھائی اور بیٹی کو پاکستان میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔مقدمات کی نوعیت اور عدالتی موڈ سے یہی دکھائی دیتا ہے کہ سزا ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔اے پی سی کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے پہلے بہت کچھ ہو چکا ہوگا۔غیرملکی دوستیاں اس بار ماضی جیسی مراعات نہیں دلا سکیں۔اب اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتا، دیگر معروضی حالات یکسر بدل گئے ہیں۔میثاق پاکستان دیکھے بغیر کوئی تبصرہ ممکن نہیں۔میثاق جمہوریت کی ناکامی کے بعد اس کا ایک ایک لفظ ہر پارٹی بغور جانچے گی،دستخط کرانا آسان نہیں ہوگا۔نئے عمرانی معاہدہ کی تیاری کے لئے ایک جہاں دیدہ، زیرک اور عالمی سطح پرباوقار شناخت کا قدآور لیڈر درکار ہوتا ہے، نیا عمرانی معاہدہ(میثاق پاکستان)موجودہ پریشاں حال تھکی ماندی،بلندفکری سے عاری اور تنگ نظر قیادت کے بس کی بات نہیں۔ابھی تک اس سمت میں ایک انچ بھی کوئی کام نہیں کیا گیا۔یہ کام نعرے بازی سے مختلف نوعیت کا ہے۔عملی سیاستدان جس کی علمی حیثیت بھی مسلمہ ہو، ایسے تاریخی معاہدے کہ پہلی شرط ہے،ایسی کوئی شخصیت فی الحال دکھائی نہیں دیتی، میدان خالی ہے۔محض کتابی دانشور یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔ ابھی تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کا وقت ہے۔اکتوبر کا مہینہ سمت متعین کرے گا۔


