آغازِحقوقِ بلوچستان کی بازگشت
پی پی پی کے دورحکومت(2008-2013)میں صدر آصف علی زرداری نے آغازِ حقوقِ بلوچستان کے نام سے ایک پیکج کا اعلان کیا تھا۔اس کی بازگشت 11جماعتی اجلاس کی 26نکاتی قرارداد میں بھی سنی گئی۔گویا اپوزیشن کی 11سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ بلوچستان کو اس کے حقوق تاحال نہیں ملے۔جو سلسلہ پی پی پی نے شروع کیا تھا بعد میں وہ بوجوہ جاری نہیں رہ سکا۔حکومت تبدیل ہوتے ہی ترجیحات بھی تبدیل ہوجاتی ہیں۔ترقی یافتہ ملکوں میں قومی /عوامی مفاد کے حامل ترقیاتی منصوبے تبدیل نہیں ہوتے، پاکستان میں ہر پارٹی اپنے نام کی تختی لگانے کو ہی بڑا کارنامہ سمجھتی ہے۔اس غلط انداز فکر کے نتیجے میں اہم ترین منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ریلوے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے مگر تیزرفتار ریل چلانے کاایم ایل ون منصوبہ 14سال کھٹائی میں رہا، وجہ صرف یہ تھی جس حکومت نے منظوری دی تھی،نہ رہی۔ریلوے کی تباہی کے ساتھ ملکی ٹرانسپورٹ کا پورا نظام بھی بیٹھ گیا۔ غریب عوام سے سفر کی سہولت چھن گئی۔کرپشن کی دیمک اندر ہی اندر تمام وسائل چاٹ گئی۔ عوام کے حصے میں بھوک، جہالت، بیماری، غربت اور بیروزگاری آئی۔11جماعتی اجلاس میں طے کئے گئے 26نکات میں ہر پارٹی کی سوچ جھلکتی ہے۔جو پارٹیاں پسماندگی کی وجہ ملک میں جمہوری اقدار کی پامالی کو اہم ترین قرار دیتی ہیں انہوں یہ سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انتخابی اصلاحات اور شفاف انتخابات کو جگہ دی۔نیب جیسا ادارہ قائم کرنے کی غلطی مسلم لیگ نون کے قائد نے تسلیم کی۔لوگوں کو غائب کئے جانے کو غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کہتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ بھی 26نکاتی قرارداد میں شامل ہے۔مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے تسلیم کیا ہے کہ مختلف الخیال پارٹیوں کو ایک نکتے پر راضی کرنا ایک مشکل کام ہے۔ہر پارٹی کی ترجیحات اور مقاصد اپنے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے آغاز حقوق بلوچستان کا سلسلہ بحال کرنے کا معاملہ الگ سے کسی پارٹی نے شامل کرایا ہوگا۔سب پارٹیاں مل کر دباؤ نہیں ڈالیں گی تو یہ فہرست کا حصہ تو رہے گا مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔حکومت نے اس حوالے سے پہلے ہی تفصیلات جمع کرنے کا کام شروع کردیا تھا۔ 1100ارب روپے کے کراچی پیکج کا اعلان کرتے ہی وفاقی وزراء بلوچستان آئے تھے اور انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ کراچی جیسا ایک پیکج بلوچستان کے لئے تیاری کے مراحل میں ہے،جلد ہی اس کا اعلان اور عملدرآمد شروع ہوجائے گا۔سی پیک کا دوسرے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے، متعدد صنعتی زون پر کام جاری ہے، جلد ہی ان میں بعض میں پیداواری عمل کا آغازہو جائے گا۔سیاست میں اداروں کی مداخلت کے حوالے سے آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ نے پارلیمانی لیڈرز سے ملاقات کی اور انہیں بتایا گیا کی نیب اور الیکشن کمیشن کے چیئرمین سیاستدان اپنی مرضی سے منتخب کرتے ہیں، فوج آئین کے مطابق اپنے فرائض ادا کرتی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔لگتاہے 11جماعتوں کی 26نکاتی قرار داد کو حکومت اور مسلح افواج نے سنجیدگی سے لیا ہے اور ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ملاقات کرکے پارلیمانی لیڈرز کوملکی صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت کے ساتھ اپوزیشن کو سلیکٹڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک پیج پر ہیں۔پی ٹی آئی حکومت کے 870دن اس کی نااہلی و ناکامی کے ثبوت ہیں، حکومت کی غلط پالیسیوں نے اپوزیشن کو اکٹھا کر دیا ہے جبکہ ایک پیج پر ہونے کی تکرار سے فوج کو متنازعہ بنا دیا ہے۔نیب عدلیہ کے متوازی ادارہ بن گیاہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی کہہ رہے ہیں نیب اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کر رہا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے دباؤ میں قوم کے مستقبل کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔11جماعتی اتحاد کی خواہش ہے کہ مارچ سے پہلے حکومت کو تخصت کر دیا جائے، مڈٹرم الیکشن ہوں،اور اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نون اور پی پی پی سمیت اتحادی جماعتوں کو اکثریت حاصل ہوجائے تاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے قانون سازی کی صلاحیت بھی پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے پاس نہ رہے بلکہ حکومت 11 جماعتی اتحاد کو مل جائے۔خواہش کو حقیقت بننے کے لئے کئی دریا عبور کرنے ہوں گے۔وزراء کا یہ کہنا اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ لیڈرشپ بیرون ملک مقیم ہو تو کسی جارحانہ تحریک کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ نون لیگ کے بارے میں عمومی تأثر ہے کہ اس میں شہباز شریف کسی تصادم کے حامی نہیں لیکن مریم نواز جارحانہ مزاج رکھتی ہیں،ووٹرز تاحال نوازشریف کے اندازِ سیاست کو پسند کرتے ہیں۔اس کمزوری سے شہباز شریف آگاہ ہیں۔اس کے علاوہ نیب میں سماعت کا سلسلہ تیز ہوچکا ہے،ضمانت میں توسیع ایک ایک دن ہونے لگی ہے۔وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بلاناغہ روزانہ کی بنیادوں پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ 30دسمبر کو اپنی پیشگوئیوں کی صداقت کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ان کا دعویٰ بلاسبب نہیں۔درون خانہ کے رازوں سے باخبر ہیں۔تاہم فی الحال ان کے دعوے قیاس آرائی سے زیادہ کچھ نہیں۔پاکستان کئی دہائیوں سے سیاست کی تجربہ گا بنا ہوا ہے۔کسی لمحے کوئی نیا ویکسین سامنے آ سکتا ہے۔آنے والے تین ماہ اپوزیشن اور حکومت کے لئے ایک امتحان کا درجہ رکھتے ہیں جو زیادہ محنت کرے گا وہی وکٹری اسٹینڈ تک پہنچے گا۔جسے شاہسوار ہونے کا دعویٰ ہے اس کے لئے گھوڑا اور میدان دونوں موجود ہیں۔بات آغاز حقوق بلوچستان اور مغربی موٹروے سے بہت آگے تک جاتی نظر آتی ہے۔


