آرمی چیف سے ملاقات میں جس نے ایک لفظ نہیں بولا وہ باہرٹی وی پر باتیں کر رہا ہے، بلاول

کراچی ;پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں انتخابات کیلئے پارٹی امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف سے ملاقات میں جس نے ایک لفظ نہیں بولا وہ باہرٹی وی باتیں کر رہا ہے، آئندہ قومی سلامتی سے متعلق اجلاس ہو یا کوئی بھی معاملہ ، ایسے کسی اجلاس میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوگی جس میں شیخ رشید موجود ہوں گے،گلگت بلتستان میں شفاف الیکشن نہ ہوئے تو ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے،قومی سلامتی کے معاملے پر وزیراعظم اجلاس نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیکر کسی اور کو موقع دیں، نواز شریف کی طویل اور تفصیلی تقریر نے اے پی سی کو اچھی ڈائریکشن دی،ہر شہری، ہر جماعت اور تمام صوبوں کو کام کرنے کے برابر موقع دینے بات کررہے ہیں، پارلیمان، انتخابات، چینلز، عدالتوں اور الیکشن کمیشن کو برابر موقع دیا جائے ورنہ اس ملک میں جمہوریت آگے نہیں بڑھ سکتی۔بدھ کو کراچی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران گلگت بلتستان سے پیپلزپارٹی کے امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 2018کے منشورمیں گلگت بلتستان میں اصلاحات کی بات کی تھی، میں انہی اصلاحات پرالیکشن لڑوں گا۔بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں شفاف الیکشن کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میںہمارا موقف تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرے گی، منتخب اسمبلی جو بھی فیصلہ کرے گی ہمیں قبول ہوگا، آرمی چیف بھی متفق ہیں کہ گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات ہونے چاہیئں،گلگت بلتستان میں شفاف الیکشن نہ ہوئے تو ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے۔آرمی چیف سے ملاقات پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان پر ہمیں میٹنگ کی دعوت دی گئی تھی ، قومی سلامتی سے متعلق اجلاس یا کوئی بھی ان کیمرہ اجلاس ہو تو اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی جاتیں لیکن کچھ غیر ذمہ دار لوگ جن کا تعلق نہ قومی سلامتی سے، نہ گلگت بلتستان سے نہ آزاد کشمیر سے نہ ہی خارجہ پالیسی سے تھا، انہوں نے مجبور کردیا ہے کہ میں اس حوالے سے بات کروں۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اِن کیمرہ اجلاس کی باتیں باہر کرنے والے کو چپ کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جس نے اجلاس میں ایک لفظ نہیں کہا، وہ باہر ٹی وی پر باتیں کر رہا ہے، ایسی باتوں سے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے امور متنازع بنتے ہیں، اِن کیمرہ اجلاس کی باتیں کرنے والا جس کا بھی ترجمان ہے انہیں چاہیے کہ اسے چپ کرائیں، ہم ملکی سلامتی پر متحد ہیں، ان کیمرا اجلاس کی بات باہر نہیں کرتے۔ آئندہ قومی سلامتی سے متعلق اجلاس ہو یا کوئی بھی معاملہ ہوا ایسے کسی اجلاس میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہوگی جس میں شیخ رشید موجود ہوں گے۔بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہر معاملے پر ناکام رہے ہیں، قومی مسائل پر اپوایشن کو انگیج کرنا وزیراعظم کی ذمہ داری ہے، اہم ایشوز پر وزیراعظم نیشنل سیکیورٹی کی میٹنگ نہیں کرسکتے تو استعفی دیکر کسی اور کو موقع دیں، اس بار بھی وزیراعظم شریک نہیں ہوئے، ان کے بغیرمیٹنگ نہیں ہونی چاہیے تھی، وزیراعظم کی موجودگی ضروری تھی یہ ہمارا حتمی موقف ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ آرمی چیف سے یہ تاثر ملا کہ ایسی اصلاحات ہوں جس سے الیکشن متنازعہ نہ ہوں، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن ریفارمز پر کام کریں تو عام انتخابات بھی شفاف اور غیر جانبدار ہوسکتے ہیں، اپوزیشن نے ہمیشہ قومی سلامتی کے مسائل پر تعاون کیا، ملک کی سلامتی کے معاملے پر کل بھی ایک تھے اور آج بھی ایک ہیں۔ایک سوال پر بلاول نے کہا کہ آرمی چیف کی طرف سے کسی خاص ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی، گلگت بلتستان کی میٹنگ میں زیادہ بات صاف شفاف الیکشن پر ہوئی، انشا اللہ ماضی میں جو اعتراضات رہے ہیں، وہ دورکیے جائیں گے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اے پی سی پاکستان کی تاریخی اے پی سی ہے اور موجودگی حکومت کے آنے کے بعد پہلی مرتبہ آصف زرداری اور نواز شریف ایک ساتھ موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے طویل اور تفصیلی تقریر کی، جس نے ہمارے فورم اور اے پی سی کو اچھی ڈائریکشن دی، جس کے نتیجے میں ہم نے 9گھنٹے بحث کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ اور ایکشن پلان بھی جاری کیا ہے۔بلاول کا کہنا تھا کہ اب اے پی سی میں شامل ہماری تمام جماعتیں مل کر بیٹھیں گی اور آگے کا لائحہ عمل بنائیں گے اور اے پی سی کے اعلامیے کے تحت اس کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس دن بھی کہا تھا اور اب یہی کہتے ہیں ہم پاکستان میں جمہوریت، جمہوری آزادی، بولنے کی آزادی چاہتے ہیں اور میڈیا پر جو سنسر شپ ہے اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر شہری، ہر جماعت اور تمام صوبوں کو کام کرنے کے برابر موقع دینے بات کررہے ہیں، پارلیمان، انتخابات، چینلز، عدالتوں اور الیکشن کمیشن کو برابر موقع دیا جائے ورنہ اس ملک میں جمہوریت آگے نہیں بڑھ سکتی۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جمہوریت کا یہ حال ہے کہ ہمارے صوبے میں ایک بحران ہوا ہے اور یہ قومی اور بین الاقوامی خبر ہونی چاہیے، میں نے خود جا کر معلوم کیا ہے اس لیے مجھے ان تکالیف کا اندازہ ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کسانوں کی مدد کے لیے ہمیں پنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ اس سیلاب اور بارش سے ان کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔(رڈ)

اپنا تبصرہ بھیجیں