لاہور کے ہوٹل میں لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ، 2 ملزمان کیخلاف مقدمہ درج
لاہور؛صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے نولکھا میں لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار ہوگئی۔ اس حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکی سے زیادتی کا واقعہ تھانہ نولکھا کی حدود میں پیش آیا، جہاں ملزمان کی طرف سے لڑکی کو ایک ہوٹل میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، لڑکی کا تعلق شیخوپورہ سے بتایا گیا ہے۔پولیس کو دیے گئے بیان میں لڑکی نے کہا کہ اسے نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، آئی جی پنجاب انعام غنی کی طرف سے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ۔ دوسری طرف موٹروے زیادتی کیس کا اہم ملزم عابد علی ایک بار پھر پولیس کو چکمہ دے گیا ، مرکزی ملزم عابد علی اپنی سالی کو ملنے ننکانہ صاحب آیا تھا ، پولیس اطلاع ملنے کے باوجود عابد علی کو گرفتار نہ کر سکی ، عابد علی کی سالی نے محلے دار کی مدد سے پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس ایک بار پھر عابد علی کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو گئی ، پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر عابد علی قبرستان کے راستے سے فرار ہو گیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل 19 ستمبر کو بھی پنجاب پولیس موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کو 10 فٹ کے فاصلے سے پکڑنے میں ناکام رہی ، پولیس کو ملزم عابد علی کی سالی کے گھر موجودگی کی اطلاع ملی، اس کے باوجود پولیس 30 منٹ تاخیر سے وہاں پہنچی ، ملزم عابد علی اپنی سالی کیساتھ ایک پارک میں موجود تھا جب پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی ، پولیس اہلکاروں نے جیسے ہی عابد علی پر ہاتھ ڈالا، ملزم اہلکاروں کو دھکا دے کر فرار ہوگیا ۔ عابد علی کی سالی کی جانب سے بتایا گیا کہ عابد ننکانہ صاحب کے رائے بلار بھٹی پارک میں میرے ساتھ موجود تھا جب پولیس نے چھاپہ مارا لیکن ملزم پھر بھی فرار ہوگیا۔


