مسلز دکھانے کا موسم
11جماعتی اپوزیشن نے اپنے 26نکاتی اعلامیہ کو منوانے کے لئے جس پروگرام کا اعلان کیا تھااب اس پر عمل درآمد اور سچ ثابت کرنے کا وقت آگیا ہے۔کل 11اکتوبر کو گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ ہے۔کل رات تک جلسہ اختتام پذیر ہو جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر کا خدشہ ہے مگر غالب امکان یہی ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے نام پر حکومت کی جانب سے کوئی رخنہ اندازی نہیں کی جائے گی۔سیاسی سرگرمی پر کوئی بے جا قدغن نہیں لگائی جائے گی۔جب تک کورونا کے مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ نہیں ہوتا پی ڈی ایم کو اپنے پروگرام پر چلنے کی اجازت دی جائے۔کسی بے صبری یا گھبراہٹ میں بلا وجہ ایسا اقدام نہ کیا جائے جس کے منفی نتائج کو سنبھالنا مشکل ہو۔ایک سال پہلے جو کچھ ہوا وہ سارے کاسارا جے یو آئی نے اپنے برتے پر کیا تھا مگر اس بار مزید10جماعتیں بھی مولانا فضل الرحمٰن کے شانہ بشانہ چلنے کا اعلان کررہی ہیں۔مبصرین کاخیال ہے کہ اس بار دیگر جماعتیں اپنی آپس کی رنجشوں اور شکایات کے باوجودپوری کوشش کریں گی کہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں حاضری کم نہ ہو۔جلسے مختلف شہروں میں منعقد ہوں گے۔اگر کارکنان عوام کو گھروں سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو حکومت کے لئے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ادھر جلسوں کے آغاز سے ایک دو روز پہلے ہی وفاقی ملازمین کا اسلام آباد میں بڑا احتجاجی مظاہرہ حکومت کے لئے غیر متوقع عنصر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وزراء مہنگائی میں مسلسل اضافے کی روک تھام میں ناکامی تو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ مہنگائی کم ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔واضح رہے آئی ایم ایف نے بجلی کے نرخ بڑھانے کی شرط پوری کرائے بغیر اگلی قسط جاری نہیں کی۔غیرملکی بجلی گھروں سے معاہدوں پر نظر ثانی میں تاخیر ہوتی جا رہی ہے۔عوام کی قوت برداشت جواب دینے لگی ہے، مہنگائی کے ستائے سرکاری ملازمین کاوفاقی دارالحکومت پہنچ جانااور ایک جان دار مظاہرہ کرنا نیا عنصر ہے۔اگر ان کی آمدبارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی تو حکومت کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔سرکاری ملازمین کا غم و غصہ خطرناک رخ اختیار کر سکتا ہے۔اس حقیقت کو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ سرکاری ملازمین کے لئے تنخواہ ہی واحد ذریعہئ آمدنی ہے۔مہنگائی میں بے تحاشہ اضافے کے بعد تنخواہوں میں مناسب اضافہ ضروری ہو گیا ہے اس کے بغیر بچوں کا پیٹ پالنا ممکن نہیں رہا۔صرف دلاسوں سے کام نہیں چلے گا۔بھوکے بچوں کو بلکتا دیکھ کرڈرپوک اور مصلحت پسند انسان بھی حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نعرے لگانے لگتے ہیں۔پی پی پی اور وفاق کے درمیان جزائر کے علاوہ بھی دیگرمسائل پر تلخی کی حد تک اختلافات موجود ہیں۔11سوارب روپے کا ترقیاتی پیکج ا بھی تک سست روی کا شکار ہے۔ایک مہینہ گزر گیا ہے مگر کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔عام آدمی تیز رفتاری سے کام کی آس لگائے بیٹھا ہے۔اسے یقین دلایا گیاتھا کہ تین سال میں وعدے کے مطابق تمام منصوبے مکمل ہو جائیں گے۔سی پیک سے جڑے ہوئے منصوبے اس 11سو ارب روپے کے پیکج کا حصہ ہیں۔وفاق صوبہ سندھ کوروایتی سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھانے کی غلطی نہ کرے، توقعات سے زیادہ مہنگی پڑ سکتی ہے۔کوشش کی جائے کہ اعلان کردہ کام ہوتے ہوئے نظر آئیں۔کراچی سرکولرریلوے کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یکم جنوری تک پہلا مرحلہ مکمل ہوجائے اور 48ٹرینیں چلا دی جائیں گی۔کام کی موجودہ رفتار سے ایسا ممکن نہیں۔ٹریک بچھے گا تب ہی ٹرین چلے گی۔بعض مقامات پرپل بنانے کی بجائے سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں ٹریک دفن ہو گیا ہے۔حکومت ماضی کی حکومتوں پر الزام تراشی میں مصروف ہے جبکہ عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ مسائل کاانبار کس نے لگایا تھا؟ دوسال کی مدت کسی حکومت کے لئے کم نہیں ہوتی۔ آٹے چینی کے نرخ بڑھانے والوں میں پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین خان جیسے لوگوں کی شمولیت کا حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں۔انکوائری رپورٹ آنے کے بعد جہانگیر ترین کی لندن روانگی اور وہاں سے مسلم لیگ نون کے قائد کی طرح یہ کہنا کہ عدالتوں میں حاضر ہونا علاج کی تکمیل تک ممکن نہیں،جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔کرپشن کا یہ عالم ہو تو ماضی کی حکومتوں کو کوسنا کام نہیں آتا۔ جہانگیر ترین کے علاوہ مالم جبہ اوربس پروجیکٹ کے مقدمات بھی التواکا شکار ہیں۔چار بسیں جل چکی ہیں۔کہیں نہ کہیں کوئی خرابی تو ہے،پردہ پوشی کی بجائے عوام کے سامنے لائی جائے، احتساب صرف اپوزیشن کا ہوگا تو اسے انتقام سمجھنا غلط نہیں۔اپوزیشن عملی طور پر سڑکوں پر آچکی ہے، اس کے پاس آگے بڑھنے کے سوادوسرا کوئی آپشن نہیں۔البتہ خواجہ آصف جیسے لیگی رہنما کسی وقت بیان داغ کر اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچا سکتے ہیں۔ احتیاط سے کام لینا ازحد ضروری ہے۔جمیعت علمائے اسلام کے بعدنون لیگ پی ڈی ایم کا اہم ترین ستون ہے۔کسی غیر ذمہ دارانہ بیان سے کایا پلٹ سکتی ہے۔پی پی پی کے سینئر ترین رہنما آصف علی زرداری کا تبصرہ:
”کسی کے کہنے پر یہ بیان دیا ہوگا“
اپنی جگہ بہت کچھ کہہ رہا ہے،زبان پرقابو رکھا جائے،سب جانتے ہیں زبان کا گھاؤ تلوار سے زیادہ خطرناک ہوتاہے۔ماضی میں جوہوتا رہا اسے دہرانے کا یہ وقت نہیں۔نون لیگ کا بیانیہ اپنی جگہ خود ہی کافی ہے۔مریم نواز نے غلط نہیں کہا کہ اس بیانیے کو اٹھانا سب کے بس کی بات نہیں۔بھاری پتھر ہے، اکثریت چوم کر واپس لوٹ جائے گی۔نہ بھولیں کہ پی ڈی ایم کی لڑائی عمران خان سے نہیں، انہیں لانے والوں سے ہے۔


