عارضہئ قلب میں مستعمل اسٹنٹس کی تیاری
یہ اچھی خبر ہے کہ عارضہئ قلب کے علاج میں استعمال ہونے والے”اسٹنٹس“اب پاکستان میں تیارہونا شروع ہو گئے ہیں۔اس طرح پاکستان ترکی کے بعد دوسر ااسلامی اور عالمی سطح پر 18واں ملک بن گیا ہے جو ”اسٹنٹس“ تیار کرتے ہیں۔بھارت پہلے ہی ان ممالک میں شامل ہے۔ اس سے نہ صرف عارضہئ قلب کے مریضوں کو درکار اسٹنٹس بآسانی دستیاب ہوں گے بلکہ سستے بھی ہوں گے اور ان کی برآمد سے زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوسکے گا۔کچھ مہینے پہلے پاکستان کورونا کے مریضوں کے لئے درکار کٹس،وینٹی لیٹرزاور خصوصی بیڈز تیار کرنے اور انہیں برآمد کی صلاحیت حاصل کرچکا ہے۔میڈیکل آلات کی تیاری میں سیالکوٹ دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتاہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، خرابی بیوروکریٹس اور حکمرانوں میں ہے جو عوام کی خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ غریب عوام کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں۔اس جانب بھی دیکھنا ہوگا کہ پاکستانی اسٹنٹس پڑوسی ملک سے مہنگے نہ بیچے جائیں۔ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات پر پہلا حق پاکستانی شہریوں کا ہونا چاہیئے۔شرم کا مقام ہے کہ سنگا پور جیسا چھوٹا سا ملک 300ارب ڈالرسالانہ زرمبادلہ کما رہاہے اس کے مقابلے پاکستان کا تجارتی خسارہ معیشت کے لئے ایک مستقل درد سر بنا ہوا ہے۔صوبائی اور وفاقی بحث میں پڑے بغیراسے نالائقی کے سوا دوسرا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا کہ کراچی جیسے صنعتی شہر کے گلی کوچوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہیں جبکہ دنیا اسی کچرے کو دولت کمانے کا ذریعہ بنا چکی ہے، اس سے بجلی پیدا کر رہی ہے۔ہمارے حکمرانوں کو معلوم ہی نہیں کہ کچرامتعدد صنعتوں کے لئے سستا خام مال بھی فراہم کرتا ہے۔مناسب منصوبہ بندی کافقدان ہے۔عوامی مفادات ہمارے حکمرانوں کی پہلی ترجیح نہیں رہے ورنہ ملکی معیشت کی اتنی بری حالت نہ ہوتی۔میڈیا اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت نے مرغی بکری کی افزائش پر پانچ سال میں ڈیڑھ ارب روپے خرچ کرنا تھے،اس میں 33کروڑ روپے آگہی مہم کے لئے مختص تھے جبکہ 27مہینوں میں 37کروڑ خرچ کردیئے گئے۔جبکہ10اضلاع میں اس پیکج کے تحت اب تک 86کروڑ خرچ ہو چکے ہیں۔گویا تقریباًساری ر قم نصف مدت سے پہلے ہی صرف ہوگئی مگر اس کے اثرات کہیں نظر نہیں آرہے۔ ایک این جی او نے سندھ اینٹی کرپشن اور سندھ پبلک پروکیور منٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو شواہد کے ساتھ درخواست دی تھی جسے خاموشی سے دبا دیا گیا ہے۔ ایسی ہی اطلاعات پشاور کی بی آر ٹی اور مالم جبہ جیسے منصوبوں کے بارے میں طویل عرصے سے گردش میں ہیں لیکن نیب کو ادھر دیکھنے کی فرصت نہیں۔سپریم کورٹ نے 120نئی نیب کورٹس تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی لگتا ہے اسے بھی کھٹائی میں ڈال دیا گیا ہے۔یاد رہے نیم دلانہ اقدامات اور بلا سوچے سمجھے اعلانات سے ملک کی تقدیر نہیں بدلا کرتی۔تمام وزارتوں کو ایک جیسے جذبے کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ان کے درمیان مطلوبہ ہم آہنگی کا فقدان ہے۔یہ بھی سنا جا رہا ہے کہ مافیاز کے با اثر نمائندے کابینہ میں موجود ہیں اورعوام کو ریلیف دینے کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آٹا،چینی، بجلی،گیس اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔چوروں کے جھرمٹ میں چوری کاخاتمہ ایک معجزہ ہوگااور معجزات کاسلسلہ عرصہ ہوا بند ہو چکا ہے۔چور صرف چوری میں مہارت رکھتے ہیں، اس کے سوا انہوں نے زندگی بھر کچھ نہیں کیاہوتا۔چوری روکنے میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں، اس ضمن میں ان کی کارکردگی صفر سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ مفادات کا ٹکراؤدنیا بھر میں عوام دشمن سمجھا جاتا ہے،کچھ عرصہ پہلے اس حوالے سے قانون سازی کی ہلکی پھلکی آوازیں سنائی دی تھیں مگر چوروں کے طاقت ور ہاتھوں نے ان کا گلہ دبا دیا ہے۔کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دی۔ 22کروڑ عوام میں سے صرف 200امین اور صادق افراد کی ضرورت تھی جو امور مملکت چلا سکیں۔ اول تو مطلوبہ ٹیم اقتدار میں آنے سے پہلے کی جانے والی22سالہ جدوجہد کے دوران بن جانی چاہیئے تھی،نہیں بنی۔اس میں جہانگیرترین اور مالم جبہ کے ذمہ داروں سمیت بعض دیگر لوگ بھی شامل ہوگئے جنہیں بروقت پہچاننے میں غلطی ہوئی، بعد میں شرمندگی ہوئی۔پانچ سال کے اقتدار میں سے دو سال دو ماہ گزر گئے، دو سال 10ماہ بچے ہیں۔چینی آٹا کی قیمتیں دوگنا سے کم کرکے ایسی سطح پر لانی ہیں کہ غریب اور متوسط آدمی اپنے بچوں کو دو وقت روٹی کھلا سکے۔عام آدمی حکمرانوں سے اور کچھ نہیں مانگتا۔ اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے اسی لئے جمع ہیں کہ پرانی تنخواہ میں نئی قیمتوں پر خریداری ممکن نہیں رہی۔قیمتیں نیچے لائی جائیں یا تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔جسم اور روح کا رشتہ برقرار رہے گا تو سرکاری امورکی انجام دہی اور خاندان کی کفالت ممکن ہو سکے گی۔زر مبادلہ کیسے بڑھے گا؟ یہ پالیسی عوام نہیں بناتے۔برآمدات میں اضافہ کیسے ہوگا؟یہ سوچنا حکومت کا کام ہے۔ عام آدمی کے پاس محنت بیچنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔اسے اَللہ نے کمانے کو دو ہاتھ اور کھانے کو ایک منہ دیا ہے۔روزگار کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ماضی کے حکمرانوں نے جو کچھ کیا تھا اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔موجودہ حکومت آج جو کچھ کرے گی کل اس کے نتائج بھگتے گی۔عوام کی مشکلات دور نہ کرنے والوں کا انجام برا ہوتا ہے۔وقت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے، اس سے پہلے کہ یہ اقتدار کی مدت ختم ہو،جو ممکن ہو حکومت کر دکھائے۔جیسے ہی بہتری نظر آئے گی عوام کے چہرے پر رونق آنا شروع ہو جائے گی۔پاکستان کے عوام بڑے صابر و شاکر ہیں لیکن بعض اوقات چینی کی قیمت میں چار آنے فی کلو اضافے پر ناراض ہوکر گھروں سے نکلنے تاریخ بھی رقم کرتے ہیں۔دس سالہ جشن ترقی دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔عوام کے صبر کا اتنا امتحان نہ لیا جائے کہ پیمانہ لبریز ہو جائے۔عوام کی نبض کے ساتھ عوام کے بدلتے تیور بھی سامنے رہیں۔بیوروکریٹس کی ’سب اچھاہے‘ والی رپورٹوں پر بھروسہ نہ کیا جائے۔کبھی کبھی یہ چھت اچانک سر پر گر پڑتی ہے۔خواجہ آصف اسمبلی کے فلور پر خبردار کر چکے ہیں۔


