تبدیلیوں کی ہلچل

تحریر: راحت ملک
تاریخ کے اوراق وقت گزاری کے لئے یا محض علمیت کی خاطر مطالعہ کا مواد مہیا نہیں کرتے۔تاریخ کا مواد لمحہ موجود میں درست سمت کے تعین اور ماضی میں کی گئیں غلطیوں سے سیکھنے کی ترغیب دلاتا ہے جو قومیں تاریخ عالم سمیت اپنی تاریخ سے رہنمائی کے لئے اس سے ربط و تعلق رکھتی ہیں وہ غلطیوں کے ارتکاب سے دوسروں کی نسبت زیادہ محفوظ رہتی ہیں۔
سپین کی تاریخ پاکستان کے موجودہ معاشی سماجی وسیاسی حالات کو سمجھنے اور اپنی سمت کے از سر نو تعین کے لئے اہم مواد مہیا کرتے ہیں۔ مثلاً نشاۃ ثانیہ کے احیاء کے دنوں میں سپین نے کبھی بھی تحریک اصلاح کلیسا۔ سیکولر ازم اور کثرتیت پسند رجحان سے وابستگی اور سماجی و ذہنی سیاسی تبدیلیوں کے لئے نہ کردار اد اکیا نہ ہی اس سے اثرات قبول کئے تھے یورپ میں نہایت گہری جڑیں پیدا کرنے والے تاریخی تجارتی سائنسی اور صنعتی انقلابات نے ابتدائی عرصہ یعنی۔سولہویں صدی میں سپین پر اثرات مرتب نہیں کئے تھے لیکن
ولیم ووڈرف کے الفاظ میں
” سپین کی خوش قسمتی یہ رہی کہ جب وہ جدید سائنسی،انڈسٹری اور سرمایہ دارانہ نظام پیداوار کے لئے درکار منظم کام کے لئے استقلال کا مظاہرہ نہیں کررہا تھا تب بھی دیگر ذرائع سے دولت حاصل کرنے کے قابل تھا اسے جنوبی امریکہ سے قیمتی دھاتوں کے علاوہ مقبوضہ علاقوں سے محاصل اوراٹلی کے تاجروں سے دولت حاصل ہورہی تھی۔غلاموں اور گرم مصالحہ جات کی تجارت پر غلبہ حاصل تھا لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دولت کی آمد کے باوجود سپین باقاعدگی سے دیوالیہ ہوتا رھا "
(جدید دنیا کی مختصر تاریخ)
اہل فکر کے لئے اقتباس میں تدبر کے لئے موثر حوالے موجود ہیں ہم احیاء علوم سے مسلسل گریز بلکہ جدید علوم کے حصول کی مسلسل مزاحمت کررہے ہیں سیاسی شعبے میں سیکولر ریاست وسیاست کے معنی اب بھی بے دینی قرار پاتے ہیں حالانکہ اس مذہبی متکب فکر کے اہم مرکز دیو بند کے علماء نے بھارت میں سیکولر ریاست کے تصورات کی بھر پور حمایت کی ہے۔سماج میں مذہبی نسلی لسانی قومی تنوع کی اٹل موجودگی کے علی الرغم پاکستانی معاشرہ کثرتیت کے تصورات قبول کرنے سے انکاری ہے۔زرعی شعبے میں انحطاط ہے لیکن سماج کے سیاسی بیانیے میں صنعتی وتجارتی طبقے کے کردار کی مخالفت رچی ہوئی ہے مہنگائی اور بیروزگاری سے عاجز آئی عوام کو روز گار اور آسودہ حالی صنعتی پیداواریت میں اضافی کیے بنغیر بعید از قیاس ہے مگر حکومتی پالیسیاں صنعت وحرفت کی حوصلہ افزائی کرنے سے کوسوں دور ہیں۔تعمیراتی شعبہ کو صنعت قرار دینے سے پیدواریت اور قدرزائد کی تخلیق ممکن نہیں۔روزگار کے مواقع ضرور مل سکتے ہیں اس سوال پر توجہ دیں تو درپیش سیاسی کشیدگی کی بحرانی صورتحال کا ایک اہم سبب واضح ہوتا ہے۔
بظاہر ریاست نے معاشی سرگرمیوں سے لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے آزاد منڈی کی معیشت کا دم بھرا جاتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ملکی دفاع محکمے کے زیر انتظام چلنے والے تجارتی وصنعتی شبعے کی اجارہ داری روز بروز مستحکم ہورہی ہے اور وہ لبرل معاشی عمل میں مقابلے کی استعداد سے محروم دکھائی دیتا ہے اسے ملک کے بہت ہی کمزور نو زائیدہ کارپوریٹ سیکٹر سے خطرات درپیش ہیں اس وقت حکومتی ذرائع نیب ایف آئی اے اور ایف بی آر کے ذریعے کارپوریٹ سیکٹر کو ہدف بنا یا گیا ہے۔ تاکہ وہ متذکرہ صدر محکمہ جاتی شعبے کے مقابل نہ آسکے۔احتساب کے دلکش نعرے کے ذریعے ملک کی نوازئیدہ قومی اشرافیہ (کارپوریٹ سیکٹر اور اس کی سیاسی شکل وصورت)کو بد عنوان کرپٹ لوٹ مار کر نے والوں کے روپ میں پیش کر کے عوام کے اذھان میں گہری بد گمانی اور نفرت پیدا کی گئی تو ملک سیہنر اور سرمائے کی ہجرت کے واقعات میں اضافہ ہوا۔بنگلہ دیش میں پاکستانی ٹیکسٹائل کی منتقلی نوشتہ دیوار ہے ہنر مند ذہانت کی ملک میں کھپت معدوم ہوتی گئی تو یہ عنصر بھی دیار غیار کی طرف کوچ کرگیا ہے اہم سرکاری عہدوں سے ریٹائر ہونے والے ہزاروں افراد کے اہل وعیال بیرون ملک آمنتقل ہو چکے ہیں جہاں وہ ملازمت اور سرمایہ کاری کے ذریعے خوشحال و آسودہ زندگی بسر کررہے ہیں۔اس
مخصوص صورتحال میں اور غیر پیداواری ذرائع سے حصول زر کی خاطر (جیسا کہ سپین میں ہوا)ایسی پالیسیاں وضح کی گئیں جو ملک میں خلفشار،دہشت گردی اور داخلی سلامتی کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئیں عدم تحفظ کے بڑھتے احساس وخوف سے صاحب استعداد افراد کو بیرون ملک گوشہ ہائے عافیت تلاش کرنے پر مجبور کردیا گیا مگر مملکت پاکستان جو آئینی ریاست کے طور سے معرض وجود میں آئی تھی آئین رکھنے کے باوجود ایک جدیف سیاسی ریاست نہ بن پائی کیونکہ اس کے اندرسرائیت شدہ” سلطنت ” نے ملک کے باشندوں کو شہری کا درجہ ہی عطا نہیں نہیں دیا۔
” سلطنت ” نے عوام کو امور مملکت سے دور کر کے انہیں ” رعایا ” کے نچلے قدیم بادشاہی عہد کے درجے پر دھکیل دیا۔شہری اور ریاست کا رشتہ شراکت اقتدار نہیں مکمل حق حاکمیت کے گہرے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ہمارا معاملہ برعکس ہے۔رعایا۔بدظن بد گمان نالاں اور پریشان حال ہے اس کیفیت میں مبتلا ماحول میں بسنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد دشمن قوتوں کے لئے کام کرنے اور پراکسی وار کے لئے ایندھن کا کام دینے کے لئے افرادی قوت بنے پر مجبور وآمادہ ہوگئی جس کے اثرات ونتائج نوشہ دیوار ہیں انہیں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔مملکت کے اندر ” سلطنت ” کے ابھار نے شہری اور ریاست کے نامیاتی رشتے کی تخلیق منجمد کرکھی ہے اور انہی حالات کے بطن سے 20ستمبر کو ہوئی آل پارٹیز کانفرنس سے 26نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے لئے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے جنم لیا ہے جس کے دو جلسے منعقد ہوچکے ان جلسوں کے اثرات رفتہ رفتہ سامنے آرہے ہیں کراچی کے جلسے ا ور اس کے بعد رونما ہونے والے تشویشناک واقعات نے حالات کی سنگینی نمایاں کی تو ” ریاست ” و ” سلطنت ” کے تضاد کی کیمیت سے کیفیتی تبدیلی نے جنم لینا شروع کیا ہے خیال ہے کہ واقعات کا دھار اسی رفتار و سمت سے آگے بڑھے گا اور اس کے نتائج بھی جنم لیں گے نتائج کے نوعیت کیا ہوگی؟ اس سوال کے جواب کا زیادہ ترانحصار ” سلطنت ” کے کردار و عمل پر منحصر ہے۔
کچھ ممکنات کا سرسری جائزہ اور پس پردہ عوامل پر نظرڈالیں تو تحریک کے آغاز پر ذرائع ابلاغ سمیت مخالف کیمپ کی جانب سے اٹھائے جانے والے ایک سوال میں حکومت کو دو سال کی مہلت دینے پر تنقید بھی کی جارہی ہے۔ناقدیں مہلت کے اس عرصہ کو مفاہمت یا معاملات طے کرانے یا سودے بازی میں ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں ممکن ہے یہ اعتراض غلط نہ ہوا البتہ اس کے درست ہونے کا بھی قومی امکان نہیں کیونکہ مفاہمت جس کی نمائندگی مسلم لیگ میں میاں شہباز شریف کرتے تھے ایسا عمل تھا جو سیاسی استحکام اور معاشی بڑھوتری کی بنیاد بن سکتا تھا ظاہر ہے مفاہمت کی کوششیں اگر ہوئی بھی تو رائیگانی کی کہانی بنی دیگر عوامل کے علاوہ ایک سبب کا سطور بالا میں حوالہ دے چکا ہوں۔ثانوی طور پر مہلت کے عرصہ کو سیاسی اتمام ٍ حجت کے تناظر میں بھی دیکھنا مناسب ہوگا۔حزب اختلاف کے اہم رہنما جناب مولانا فضل الرحمن 2018ء کے انتخابی نتائج کو روز اول سے ہی رد کرنے کے زبردست حامی تھے تاہم ان کے نقطہ نظر کو حزب اختلاف کی قیادت نے پذیرائی نہیں بخشی۔اگر پہلے روز ہی انتخابی نتائج مسترد کردیئے جاتے تو پی ٹی آئی سمیت ملک کے عوام اس عمل کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے۔ مہلت دینے سے یہ الزام ختم ہوا ہے تو عمران خان کے کھوکھلے نعرے بھی نااہلی کی شکل میں سامنے آگئے ہیں۔مگر مہلت دینے کے جو نقصانات ملکی معیشت سیاست پارلیمانی طرز حکومت اور عوام کو اٹھانے پڑے ہیں ان کا ازالہ آسان نہیں نہ ہی ان منفی اثرات کی ذمہ داری سے اپوزیشن جماعتوں کو بری قرار دیا جاسکتا ہے۔جمہوری اقدار کا تحفظ بہتر حکومتی کارکردگی کا متقاضی ہوتا ہے ناقص علاج کو کوئی بھی مہلت دینے کی حمایت نہیں کرتا اگر معاملہ ملک کی بقاء اور معاشی استحکام کا ہو تو حساسیت گہری ہوجاتی ہے انحطاط پذیری کو مہلت خودکشی ٹھہرتی ہے اور یہی کچھ ہوا بھی ہے چنانچہ دوسال سے زائد عرصہ کی مہلت کے بعد اب اپوزیشن کے پاس احتجاجی تحریک کے لیے ہر طرح کا موثر جواز موجود ہے۔جبکہ ” سلطنت زدہ ریاست ” میں ” سیاسی آذریت ” کے تدارک کے تناظر میں بھی حکومت کو ملنے والی مہلت اختتام کو پہنچ چکی ہے اس بحران کے حل کے لئے طاقتور حلقے کے ذہنی میلانات میں تبدیلی اور غیر جانبدارانہ انتخابی عمل وپارلیمنٹ کی بالادستی کو قبول کیا جانا ضروری ہے تو وہیں پر حفظ ماتقدم کے طور پر مارچ2021میں ہونے والے سینٹ کے نصف ارکان کے انتخابی عمل کو روکنا بھی اشد ضروری ہے ان انتخابات کے بعد اگر طاقتور حلقہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے قبل از وقت انتخابات کرانے پر تیار ہوجائے اور منصفانہ انتخابات بھی کرادے تب بھی پارلیمنٹ معلق ہی رہے گی اور نئی حکومت موثر عوامی حاکمیت یا ریاستی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کے لییدرکار موزوں قوانین وآئینی ترامیم منظور نہیں کراسکے گی ثانوی طور پر سینٹ کے انتخابات کے بعد عام انتخابات کے انعقاد کے برعکس صوبائی خود مختاری میں کٹوتی اور صدارتی یا مضبوط مرکزیت کے حامل انتظامات کے لئے آئینی ترامیم کا راستہ اختیار کیا جانا بعد از قیاس نہیں جو نئی صورتحال میں سہل اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ ممکن ہوگا لہذا ملک کے سیاسی مافیے میں تبدیلی کے لئے اقدامات یا تحریک چلانے کا یہی تاریخی عرصہ ہے اور اب دسمبر2020یا جنوری2021 کو فیصلہ کن ثابت ہونا اشد ضروری ہے کراچی کے جلسہ نے حکومتی حلقے میں جس طرح ہذیانی کیفیت پیدا کی ہے کوئٹہ کا جلسہ اس میں مزید شدت اور گہرائی لایے گا یوں سیاسی تغیرات کاعمل تیز تر ہوجائے گا۔
ولیم کے الفاظ کی گونج پاکستان میں صاف سنائی دے رہی ہے۔ ” دولت کی آمد کے باوجود سپین باقاعدگی سے دیوالیہ ہوتا رہا۔”
پاکستان کا قومی خزانہ خالی ہے قرض کی مئے پی جارہی ہے سماج کی ایک طاقتور پرت کے پاس بے تحاشہ دولت ہے جو دولت کی آمد کا پتہ دیتی ہے مگر پاکستان کی معیشت مسلسل دیوالیہ ہونے کے خطرے میں رھتی ہے دریں حالات،بنیادی سیاسی معاشی تبدیلیوں سے اغماض برتنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی اور تبدیلی کی لہر چل پڑی ہے جسے عوام کے وسیع تر طبقے بالخصوص محنت کش افراد کی موثر شمولیت پیپلزڈیمو کریٹک چینج میں بھی بدل سکتے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں