اصل مسئلہ کیا ہے؟
ملک کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی شعور بلوغت کی منازل انتہائی سست روی سے طے کررہا ہے،ابھی تک بلوغت کو نہیں پہنچا۔اس کی متعدد وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ عوام کوآج تک یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ برصغیر(جنوبی ایشیا)کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ ہزاروں سال پہلے یہاں ایک بہت بڑی سلطنت موجود تھی جس کا دارالحکومت ٹیکسلا تھا۔مصر کے آثار قدیمہ سے ملنے والی گندم برصغیر سے مصر پہنچی تھی۔موئنجو دڑو کے آثار میں مصر ی ثقافت کی اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔گویالاڑکانہ اور قاہرہ کے درمیان تجارتی تعلقات قائم تھے۔ بلوچستان میں دریافت ہونے والے قدیم آثار کے بارے میں پاکستان کی درسی کتب میں کوئی معلومات سرے سے موجود ہی نہیں۔فن سنگ تراشی کے شاہکار فن پارے مہاتما گوتم بدھ کے مجسموں کی صورت میں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں دنیا کی ترقی یافتہ اقوام موجود تھیں۔یاد رہے کہ قومیں چند ہفتوں، مہینوں یا دہائیوں میں نہیں بنا کرتیں۔ نہ ہی تہذیب و ثقافت اچانک وجود میں آجاتی ہے۔یہ بھی یاد رکھنا ہوگاکہ عوام اپنی تاریخ سے بے خبر ہوں تو ان کی فکر سکڑ جاتی ہے، تنگ نظری ان پر حاوی آجاتی ہے۔ یہ کہنا سراسر غلط ہوگا کہ برصغیر جنوبی ایشیا کے عوام(کانگریس اور مسلم لیگ) اسی روز چھاتہ برداروں کی طرح آسمان سے اترے اور جس نے جہاں قبضہ کیااس نے وہیں اپنے اپنے ملکوں (انڈیا اور پاکستان)کا جھنڈا لہرا دیا۔ 14 اگست 1947سے پہلے اس خطے میں ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ حقیقت پسندانہ سوچ اپنائی جاتی تو حقیقت پسند رویئے جنم لیتے۔تصوراتی اور خوابوں کی دنیا سے باہر نکل کر وسیع اور عالمی تناظر میں حالات کا تجزیہ کرنے کی اہلیت پیدا ہوتی۔ پاکستان کے عوام اور سیاستدان آج یوں بے سمت بند گلیوں میں نہ گھومتے نظر آتے۔لگتاہے کسی کے ہاتھ میں قطب نما نہیں نہ ہی کوئی ستاروں سے سمت اور مقام کا تعین کر سکتاہے۔
بات سچی ہے اس لئے اس میں کرواہٹ ہوگی، شوگر کوٹڈ گولی سے علاج ممکن نہیں۔علاج میں بہت تاخیر ہو چکی ہے کڑواہٹ پر بحث نہ کی جائے بیماری کی تکلیف سے نجات کی راہ نکالی جائے۔ انگریزی زبان یہاں کی سرکاری اور قانونی یا کاروباری ہونے کے باوجود ابھی تک عوامی زبان نہیں بن سکی۔اردوجیسا مقام اسے حاصل نہیں۔علاقائی زبانیں ابھی ترقی پذیر ہیں۔ترقی یافتہ مقام حاصل کرنے میں وقت لگے گا۔کوئی بھی علاقائی زبان صوبے کے ہر حصے میں ایک جیسی نہیں، لہجے اور الفاظ کا فرق بآسانی محسوس کیا جاسکتا ہے۔بڑے صوبے میں یہ فرق زیادہ نمایا ں نظر آتا ہے۔لیکن چھوٹے صوبوں میں یہ فرق یکسر نہ ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کیاجا سکتا۔پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے نتیجے میں ملک ٹوٹے لیکن اگزشتہ دہائیوں میں یورپی یونین جیساملکوں کا بڑ ااتحاد بھی وجود میں آیا۔اس سے صرفایک ملک (برطانیہ) نے علیحدگی اختیار کی ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی کرنسی برقرار رکھتے ہوئے یہ تجربہ کیاتھا۔اپنی کرنسی برقرار رکھنے کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ وہ نیم دلانہ انداز میں اس اتحاد کا حصہ بنا تھا۔ علیحدگی کے فیصلے کو بھی برطانوی عوام کی کھلی حمایت حاصل نہیں۔معمولی سے فرق سے بریگزٹ کو کامیابی ملی اور ابھی تک مکمل علیحدگی نہیں ملی۔اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ الگ ہونے والے سیاستدان امریکی اتحادی ہونے کے باعث ابھی ماضی میں زندہ ہوں، نوسٹیلجیا کے مریض ہوں۔ جیسے نون لیگ ابھی تک،80اور90 کی دہائی میں زندہ ہے۔اس کی قیادت (اور اس قیادت کو عقل کل سمجھنے والا چند افراد پر مشتمل گروپ) یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ 7ستمبر2020 کے بعد سے وہ جی ایچ کیو کی آنکھوں کا تارا نہیں رہی۔
7ستمبر کو اسٹبلشمنٹ کی جانب سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ آئندہ سیاستدان اپنے سیاسی اختلافات پارلیمنٹ میں اور قانونی معاملات عدالتوں میں طے کریں۔پی پی پی کی موجودہ قیادت نے اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے کبھی سنجیدہ بحث نہیں کی اور نہ آج اس کو سمجھنا چاہتی ہے کہ پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید جیسی شخصیت کوایک کمزور مقدمے کی آڑ میں راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں من پسند ججز کی مدد سے تارا مسیح کے ہاتھوں پھانسی کیوں دی گئی؟جس دن اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی غیر جذباتی مگر حقیقت پر مبنی علمی کوشش کی گئی سیاست کو ایک سمت مل جائے گی۔پی ڈی ایم کو جگہ جلسے منعقد کرنے اور اس نعرے سے نجات مل جائے گی:
”اسٹبلشمنٹ جعلی حکومت کی پشت پناہی چھوڑ دے“
دنیا کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ کسی ملک میں سیاسی معاشی اور فکری اعتبار سے حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔کل کا یو ایس ایس آر آج سویت رشیا کہلاتا ہے۔روس کے مرد آہن ولادی میرپیوٹن نے ماسکو میں یورپ کی سب سے بڑی جامع مسجد کا افتتاح کیا جس میں 10ہزار افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ انہوں نے اس موقعے پر کہا تھا:”روس میں آباد 2کروڑ مسلمانوں کو عبادت کی سہولت ملے گی بلکہ ان کے لئے ایک اہم روحانی مرکز ثابت ہوگی“۔ واضح رہے کہ جامع مسجد کی تعمیر پر 17کروڑ ڈالر لاگت آئی تھی۔کیا 1917میں کوئی روسی حکمران یہ کام کر سکتا تھا؟۔۔ ہرگز نہیں۔وقت اور حالات کا دیا گیا سبق سب کے ہوش ٹھکانے لگا دیتا ہے۔پاکستانی اسٹبلشمنٹ نے طویل سوچ بچار کے بعد اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔اب سیاست دان صاف، شفاف، اور ہرقسم کی دھاندلی سے پاک انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے انتہائی سنجیدگی، مہارت اور دانشمندی سے قانون سازی کریں۔اصل مسئلے کا واحد قابل عمل حل اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتا۔ پارلیمنٹ کر سکتی ہے۔


