کیا 7جولائی2020کا جواب مبہم تھا؟

یہ ثابت ہوگیاہے کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کومسلم لیگ نون کے سپریم رہنما محمد نواز شریف کے ترجمان کی حیثیت سے ملاقات کی تھی۔لیکن ابتداء میں زبیر عمر نے اس حیثیت میں ملاقات کرنے سے انکار کیا۔جب ان کی جانب سے ملاقات کے بنیادی نکات چھپانے کاسلسلہ نہ رکا تو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے ایک مختصرمگر جامع جواب میں عوام کو بتایا کہ آرمی چیف کی جانب سے زبیر عمر کو کہہ دیاگیا ہے:
1: سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں حل کئے جائیں
2: اور قانونی معاملات کے لئے عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔
زبیر عمر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آدھا سچ بولا ہے۔اس بیان کے جواب میں آرمی کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:”جوکچھ کہا گیا ہے پورا سچ ہے، ریکارڈ پرہے اور سچ صرف ایک بار بولا جاتا ہے“۔سوال یہ ہے کہ زبیر عمر نے پہلے دن یہ کیوں نہیں تسلیم کیا کہ انہوں نے یہ ملاقات اپنی اعلیٰ قیادت کے حکم پرکی تھی۔مرحلہ وار سب کچھ ماننے یا آدھا سچ کہنے کی کیا ضرورت تھی؟انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ شکوک و شبہات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب سیاست دان اپنی اعلیٰ قیادت کے ترجمان کی حیثیت سے آرمی چیف سے خفیہ ملاقات کرتے ہیں اوراپنی قیادت کے لئے بعض مراعات طلب کرتے ہیں جن میں کچھ سیاسی اور دیگر قانونی معاملات سے متعلق ہوتی ہیں۔ آج عام آدمی کے سامنے سب سے بڑاسوال یہی ہے کہ سیاست دانوں کی فوج کے سربراہ سے خفیہ ملاقاتوں کو کیا نام دیا جائے؟بھتیجے کی تقریب میں تایا کا جانا معمول کی بات ہے لیکن وہاں اپنے پرانے مراسم استعمال کرکے آرمی چیف تک پیغام رسانی اوراپنے سپریم لیڈر نوازشریف کے لئے ایسی مراعات مانگنا جس کے جواب میں یہ سننا پڑے کہ سیاسی کام کے لئے پارلیمنٹ اور قانونی کاموں کے لئے عدالتو ں سے رجوع کیا جائے۔اس جواب سے ظاہر ہوتاہے کہ زبیرعمر نے دونوں اقسام کی مراعات مانگی تھیں۔
دوسری جانب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے 11سیاسی پارٹیاں مسلسل تقاضہ کر رہی ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت ختم کرے۔لیکن یہ نعرہ بھی ایک بار پھر دوسرے نمبر پرآتا دکھائی دینے لگا ہے اس لئے کہ نون لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت اپنی پریس کانفرنسز اور ٹی وی ٹاک شوز میں اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کی دعوت دے رہی ہے۔ابھی نواز شریف کی ہدایت کی گونج فضاء میں موجود ہے کہ نون لیگ کا کوئی رہنما فوج سے خفیہ ملاقات نہیں کرے گا۔مگرخفیہ مداخلت کی بجائے اب نون لیگی رہنما کھلے بندوں مداخلت کی اپیل کرنے لگے ہیں۔واضح رہے رانا ثناء اللہ نے ٹی وی ٹاک شو میں تھرڈ پاٹی سے مراد اسٹیبلشمنٹ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ تھرڈ پارٹی کو interveneکرنا چاہیئے۔یہی مطالبہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال بھی کررہے ہیں۔عام آدمی نجی محفلوں میں پوچھ رہا ہے کیا نون لیگ اپنے پہلے مطالبے سے دست بردار ہو گئی ہے؟نون لیگی اعلیٰ قیادت کا اتنی جلدی اپنے مؤقف سے ہٹ جانا موجودہ حالات میں مایوس کن ہے۔پی ڈی ایم کے چھ میں سے تین شہروں میں بڑے جلسے ہوچکے ہیں۔ابھی تین بڑے شہروں (پشاور، ملتان اور لاہور) میں جلسے منعقد ہونا، ان کے بعد اسلام آباد کی جانب مارچ دھرنا، اسمبلیوں اور سینیٹ کی سیٹوں سے مستعفی ہونا باقی ہے۔ کیا نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کو لندن میں کہیں سے ایسااشارہمل گیا ہے کہ اب واپس آجاؤ،یا انہیں خود ہی احساس ہو گیا ہے کہ عمران خان کو لانے والوں سے جنگ ان کے بس کی بات نہیں۔ یا ان کے لیگی دیرینہ ساتھیوں نے نواز شریف کے بیانیہ کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیاہے۔مریم نواز نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ نوازشریف کے بیانیہ کا بوجھ اٹھانا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔
پاکستان کی 73سالہ تاریخ میں پہلی میں ایسا مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے کہ ایک آرمی چیف نے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت (مسلم لیگ نون) کے ترجمان کو ان کی طویل گفتگو کا دو ٹوک، مختصر اور جامع جواب دیا ہے کہ آئندہ ان مقاصد کے لئے ادھر کا رخ نہیں کرنا۔ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ سیاستدان پارلیمنٹ میں ایسی قانون سازی کرتے جو اس راستے کوہمیشہ کے لئے بند کر دیتی۔لیکن پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث کی بجائے بلیک میلنگ سے کام چلانے کی کوشش کی گئی۔اور یہ کام بھی ڈھنگ سے نہیں کیا جا سکا۔مکمل تیاری نہیں کی گئی، پی ڈی ایم کی دیگر 10جماعتوں سے مشاورت کے بغیر ہی ایسے دعوے کئے گئے جن کا دفاع بھی نہیں کر سکتے۔اپنی غیر سنجیدہ گفتگو سے اصل سیاسی مسائل کو پیچھے دھکیل دیا اور اپنے اوپر وہ ملبہ گرا لیا جس کے نیچے سے صحیح سلامت نکلنا آسان نہیں۔اتنی جلدی پسپائی کے اسباب پر پی ڈی ایم کو چاہیئے کہ نہ صرف بحث کرے بلکہ نون لیگ سے پوچھے کہ سب کچھ یک طرفہ کیوں کیا گیا؟11جماعتی اتحاد سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی؟ویسے حالیہ پسپائی کوئی نئی بات نہیں،نون لیگ کی قیادت کی پرانی عادت ہے کہ اسے صرف اپنا مفاد عزیز ہے۔ابھی وہ 90کی دہائی میں زندہ ہے، یہ ماننے کو تیار نہیں کہ دنیا اس کے بعد بہت آگے جا چکی ہے۔کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔سب کو اپنی پڑی ہے۔امریکہ میں صدارتی انتخابات کے نتائج کیا نکلیں گے، خود امریکیوں کو بھی معلوم نہیں۔ایسے حالات میں امریکی حکومت لندن میں بیٹھے نواز شریف کے لئے کچھ نہیں کر سکتی۔عرب ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بوجھ آن پڑا ہے۔وہ ماضی کی طرح شریف فیملی کو ریلیف دلانے کے لئے کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ آرمی چیف کا 7جولائی کو دیاگیا جواب ہر لحاظ سے واضح، جامع اور دو ٹوک ہے۔کوئی سیاسی جماعت اس جواب میں تشنگی محسوس کرتی ہے، پارلیمنٹ موجود ہے،پارلیمنٹ میں طے کرے،تشنگی دور کر لی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں