پی ڈی ایم نئے میثاق کی طرف گامزن
پی ڈی یم کے پلیٹ فارم سے خطاب کے دوران کسی ادارے یا فرد کا نام لے کر اسے ملکی خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کو چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے طے شدہ ضابطوں کی خلاف ورزی کہنے پر پی ڈی ایم کے اجلاس میں غورکیا گیااور طے پایاکہ باہمی مشاورت سے ایک نیا میثاق تیار کیا جائے۔اس مقصد کے لئے پہلا اجلاس 13نومبرکو ہوگا جس میں 11پارٹیاں اپنی تجاویز پیش کریں گی۔میثاق پر بات کرنا فی الحال درست نہیں، دستاویزدیکھ کر ہی کوئی تبصرہ مناسب ہوگا۔ در اصل میثاق پی ڈی ایم کا مشترکہ بیانیہ ہوگا۔یہ میثاق13دسمبر کو پی ڈی ایم کے پشاور جلسے میں کام آئے گا اور آئندہ بھی نافذ رہے گا۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ وہ فوجی قیادت کا نام لینے کی حمایت کرتے ہیں۔پی پی پی کے رہنماآصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جو سب طے کریں گے ہمارافیصلہ وہی ہوگا۔اے این پی بھی نوازشریف کے بیانیے پر اعتراض کر رہی ہے۔ جے یو آئی کے رہنما حافظ حسین احمد بھی میڈیا کے رو برو متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے قائد(مولانا فضل الرحمٰن کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے)اس لئے13نومبر تک تجزیہ کاروں کو صبرسے کام لینا چاہیے۔البتہ اپنی بصیرت کے مطابق تجاویز پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔پی ڈی ایم کی قیادت تجربہ کار اور معاملہ فہم سیاست دانوں پر مشتمل ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوری نظام بحال ہو۔اسٹیئرنگ کمیٹی میں پیش کی جانے والی تجاویز پر سفارشات تیار کی جائیں گی، اگلے روز سربراہی اجلاس میں غور کیا جائے گا اور حتمی لائحہئ عمل تیار ہوگا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے میڈیا ایک ہفتہ صبر کرے سب کچھ سامنے آجائے گا۔ حقیقی جمہوریت کی بحالی جیسا ہدف حاصل کرنا پاکستان جیسے ملک میں آسان نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات کے دوران علم ہوا کہ ان کے خلاف ”سازش“ کی جارہی ہے تاکہ ان کی جیت کو ہار میں تبدیل کیاجائے۔ان کے خدشات درست ثابت ہوئے، اور غیرسرکاری نتائج آنے تک ان کی جیت ہار میں تبدیل ہوچکی تھی۔
بظاہر یہی لگتا ہے کہ 59انتخابات کے لگاتار انعقاد اور 232سال کے مسلسل جمہوری سفر کے بعد بھی امریکہ ”حقیقی“ جمہوریت کی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ اتنی بڑی مثال کی موجودگی میں پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لئے جنوری یا فروری کی تاریخیں دینا جذباتی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں۔امریکہ کے عوام کو پاکستان سے کہیں بہتر سہولتیں حاصل ہیں۔تعلیم کا تناسب، روزگار کے مواقع اور بڑھاپے میں دستیاب سہولتیں قابل رشک ہیں۔ لیکن گوروں اور کالوں کے درمیان نفرت انگیز رویہ بھی بدستور موجود ہے۔”سب اچھا ہے“ نہیں کہہ سکتے۔کینیڈا اور میکسیکو ہمسایہ ملک ہیں مگر امریکہ ان سے خوش نہیں، اچھے مراسم قائم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔جمہوریت امریکی ایسٹبلشمنٹ کودنیا بھر میں جنگ مسلط کرنے سے نہیں روک سکی۔عراق، لیباء، شام،افغانستان، ایران، یمن، سعودی عرب، کویت،اردن اور پاکستان بھاری جنگی تاوان ادا کرنے کے باوجود تا حال جنگی حصار سے نہیں نکل سکے۔اسرائیل سے دوستی اور باہمی تجارتی معاہدے عرب ممالک کی مجبوری اور بے بسی اور بے چارگی کے تکلیف دہ مظاہر ہیں۔سارا فلسطین، شام کا مغربی اور علاقے اسرائیل کے قبضے میں ہیں، آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ جاری ہے۔افریقی ممالک پسماندگی کی سب سے نچلی سطح کو چھو رہے ہیں۔اس میں دورائے نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان کو حقیقی جمہوریت کے بغیر مسائل کی دلدل سے نکالنا ممکن نہیں۔اب ایک میثاق تیار کیا جارہاہے،وہ سیاست دان تیار کر رہے ہیں جو حقیقی جمہوریت کے لئے خصوصی لگن اور تڑپ رکھتے ہیں۔جہاں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ ہیں۔ہر قسم کے حالات اور نشیب و فراز سے گزر چکے ہیں۔ جانتے ہیں راستہ آسان نہیں،اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ میثاق جامع،واضح اور شفاف ہوگا،ابہام سے پاک ہوگا۔
حقیقی جمہوریت کے خدو خال بھی عمدگی سے میثاق کا حصہ ہوں گے۔حقیقی جمہوریت موم کا مجسمہ نہیں ہوگی، اس کی اپنی ٹھوس شکل ہوگی جسے کوئی فرد، یا جماعت اپنی مرضی کے معنے نہیں پہنا سکے گی۔یہ میثاق دستخط کرنے والی سیاسی جماعتوں کے لئے مقدس صحیفہ کے مساوی سمجھا جائے گا،اس سے انحراف کرنے والی جماعت سے دیگر تمام(پی ڈی ایم کی رکن) جماعتیں سیاسی مقاطعہ کرنے کی پابند ہوں گی۔ اسے آئندہ کسی اتحاد میں مدعو نہیں کیا جائے گا۔اس لئے کہ ماضی میں ایک میثاق جماعتی تنگ نظری اور سیاسی موقعہ پرستی کی بھینٹ چڑھایا جا چکاہے، بے کار اور بے توقیردستاویز بن چکا ہے۔یہ عمل دہرانے کے راستے مسدود کئے جائیں۔ایسی شرمناک مثالوں سے جمہوریت کا ہدف حاصل کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔میثاق میں ایسی کوئی بات شامل نہ کی جائے جس پر کسی پارٹی کو اعتراض ہو۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اکثر کہا جاتا ہے: ”سیاست میں دوستی دائمی نہیں ہوتی، بدلتی رہتی ہے“۔ یہ رویہ کھلی منافقت کے مترادف ہے۔ واضح رہے دوستی صرف لیڈر تبدیل کرتے ہیں، کارکن اپنی پرانی سیاست اور نظریئے سے جڑے رہتے ہیں۔پی پی پی کے کارکن کبھی جماعت اسلامی یا نون لیگ کو دل سے قبول نہیں کریں گے۔زمانہئ طالب علمی سے ہی یہ گروپ بندی مستحکم ہو جاتی ہے۔اگر پی ڈی ایم بھی پرانی روش پر چلتے ہوئے میثاق پر دستخط کرا لے گی تو اس کا حشر بھی ماضی سے مختلف نہیں ہوگا۔اس سے جمہوریت کو برے القاب سے نوازا جاتا ہے سیاست بدنام ہوتی ہے۔آمریت پسند سوچ کوتقویت ملتی ہے۔غلطی سیاستدان کرتے ہیں نقصان سیاست کو پہنچتا ہے۔پہلے 9ستارے بھٹک گئے تھے منزل کھو بیٹھے۔آج 11سیاسی جماعتیں جمہوریت بحال کرنے نکلی ہیں احتیاط، دانش اور تدبر سے کام نہ لیاتو کامیابی دور ہو جائے گی۔7ستمبر2020کے بعدوالا بیانیہ کسی بڑی تحریک کو جنم نہیں دے سکتا۔


