تصادم سے بچنے کی ضرورت ہے
اداریہ
18اور19اکتوبر کی شب آئی جی سندھ، رینجرز اور آئی ایس آئی درمیان گزشتہ روز مزار قائدپر ہونے والی نعرہ بازی کے سلسلے میں مسلم لیگ نون کے رہنما صفدر اعوان کی علی الصبح کراچی کے ایک ہوٹل سے گرفتاری کے بعدسندھ پولیس افسران کارد عمل قانون نافذکرنے والے دو اداروں کے درمیان ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھتا دکھائی دیا۔اس معاملے کو ایک جانب پی ڈی ایم ن غیر معمولی سنجیدگی سے دیکھا اور دوسری جانب پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے انکوائری کی اپیل کی تاکہ حالات کو خراب ہونے سے بچایا جائے۔آرمی چیف نے انکوائری کا فیصلہ کیا اور بروقت اقدام کے نتیجے میں حالات نارمل ہو گئے۔پولیس افسران نے اپنے فرائض سنبھال لئے۔منگل کے روز انکوائری رپورٹ مکمل ہونے پر آئی ایس آئی اور رینجرز کے متعلقہ افسران کو ذمہ داریوں سے فارغ کرکے انہیں جی ایچ کیو میں مزید محکمہ جاتی کارروائی کا سامنا کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلوں سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں، ان کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔مسلم لیگ نون کے تاحیات رہبر محمد نواز شریف نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے اس طرح اصل ذمہ داروں کو بچانے اور چھوٹے افسران کوقربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔پی ڈی ایم ترجمان میاں افتخار حسین نے اس ا قدام کو جمہوری قوتوں کی فتح قرار دیا ہے،پی ڈی ایم نے انکوائری کو نتیجہ خیز بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔اچھا ہوا کہ اس ضمن میں پیشرفت ہوئی اب ذمہ داروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔اس حوالے سے پی ڈی ایم مزید مشاورت کرے گی۔ کراچی واقعہ کے متأثرہ فریق آئی جی سندھ نے کہا ہے کہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ یہ ایک جذباتی عمل تھاجو نہیں کرنا چاہیئے تھا،ہم تمام رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ کو سراہتے ہیں،اور پاک فوج نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی کر دیا ہے۔انہوں نے کہاہمآرمیکیانکوائری رپورٹ کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ حکومت سندھ کی انکوائری رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ یہ صوبائی مسئلہ تھا جس کی ذمہ دار سندھ حکومت اور وہاں کام کرنے والے اداے تھے، وفاق کو اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ جو ادارے وفاق کے ماتحت تھے انہوں نے انکوائری کی رپورٹ پیش کردی ہے مزید ادارہ جاتی کارروائی کی جا رہی ہے۔وزیر اطلاعات نے اس موقعے پر یہ بھی کہا کہ سندھ حکومت ہر بات پر سیاست کرتی ہے اس لئے ان کی باتوں پر یقین نہیں کر سکتے۔سندھ پولیس نے جو بغاوت کی تھی اس کی انکوائری سندھ حکومت کرے۔مبصرین سمجھتے ہیں کہ ابھی کچھ دیر اس معاملے پر بیان بازی ہوتی رہے گی۔لیکن کوشش کی جائے کہ ایسی بدمزگی آئندہ نہ پیداہو۔ اداروں کا اپنا دائرہئ کار ہے جس کی نشاندہی پہلے سے موجود ہے۔اگر کوئی وفاقی ادارہ امن و امان کی بحالی میں صوبائی حکومت کی مدد کے لئے بھیجا یا بلایا جاتاہے اس کے کام کرنے کاطریقہئ کار اور حدودو قیود متعین شدہ ہوتی ہیں۔جیسا کہ سندھ میں ماضی میں دہشت گردی بے قابو ہوچکی تھی،پولیس اہلکاروں اور افسروں سمیت کوئی محفوظ نہیں تھا۔روزانہ قتل ہونے والوں کی تعد اد اکثر و بیشتر 10کے قریب یا اس سے زائد ہوتی تھی۔بھتہ خوری عذاب بن چکی تھی۔ صنعت کار،تاجر، ڈاکٹر،اساتذہ، پروفیسرز اور تعلیمی اداروں کے مالکان پریشان تھے۔سرکاری زمینوں، پارکوں پر قبضہ، چائنا کٹنگ روز مرہ کا معمول بن گیا تھا۔ آئے روز کی ہڑتالوں سے لوگ نالاں تھے۔ کوئی محفوظ نہیں تھا۔ جب تک کام پر گئے مرد واپس گھر نہیں پہنچتے،ماں باپ اور دیگر اہل خانہ بخیریت واپسی کی دعائیں مانگتے تھے۔ بدامنی کے لحاظ سے کراچی6منبر پر تھا،جو آج 104نمبر پر آچکا ہے۔یہ پرانی بات نہیں۔
اب گیند سیاستدانوں کی کورٹ میں ہے۔پاکستان دنیاواحد اور اکلوتا ملک نہیں جہاں وفاقی نظام اپنایا گیا ہے۔متحدہ ریاستہائے امریکہ 50چھوٹی بڑی ریاستوں پر مشتمل ملک ہے۔وہاں بھی ہر رنگ و نسل کے لوگ آباد ہیں۔ ایک سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ابراہم لنکن کے زمانے تک آپس میں جنگیں لڑتے رہے ہیں۔واضح رہے ابراہم لنکن سولہویں امریکی صدر تھے۔گوروں اور سیاہ فام شہریوں میں آج بھی فاصلہ برقرار ہے۔ٹینس کے آسمان پرآفتاب کی طرح جگمگانے والی عالمی شہرت یافتہ دو سیاہ فام بہنیں شاکی ہیں کہ انہیں گورے کھلاڑیوں کے مقابلے میں نصف معاوضہ دیا جاتا تھا۔وہاں بھی پولیس قانون سے ماوراء سلوک کرتی ہے، احتجاج ہوتے ہیں،لیکن کوئی بڑا سیاسی طوفان نہیں دکھائی دیتا۔46امریکی صدور میں صرف ایک سیاہ فام صدربراک اوبامہ شامل ہیں۔ 232سال میں پہلی خاتون صدر منتخب ہونے کا اعزاز حالیہ 59ویں انتخابات میں ملا اور وہ سیاہ فام ہیں۔جمہوریت ایک صبر آزما نظام سیاست ہے۔انتہائی دانشمندی، ذہانت اور تحمل کے ساتھ قدم بقدم آگے بڑھ کر، دھیرے دھیرے کامیابیاں سمیٹی جاتی ہیں۔انقلاب روز روز برپا نہیں ہوتے۔مختصر وقفوں کے بعدحکومتیں بدلتی ہیں،انتخابات کے دوران یہ نعرہ بھی سنائی دیتا ہے:
”چہرے نہیں، نظام کو بدلو“
مگر انتخاب کے بعدہر بار یہی نظر آتا ہے کہ فقط چہرے بدلے ہیں، نظام بدستور پرانا ہے۔ عوام اس حقیقت سے باخبر ہیں اس لئے صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ اشرافیہ اپنے حاصل کردہ آرام و آسائش کو نہیں دیکھتی بلکہ مزید لوٹ مار میں طویل تعطل کے خوف کی بناء پر بلبلا اٹھتی ہے اور اگر پرانی لوٹ مار میں سے کچھ واپس دینے کا معاملہ درپیش ہو تو لڑنے مرنے پر تیار ہوجاتی ہے، جیسا کہ آج کل پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں۔عوام کو ناسمجھ اور ان کی کمزوریاداشت کہنے والے سیاستدان زمینی حقائق تسلیم نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ آج کل زیادہ بدحواس نظر آرہے ہیں۔


