ایران کے جوہری سائنسدان کا قتل

ایران کے ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادے کے قتل نے خطے کو ایک بار پھر آتش فشاں میں تبدیل کر دیا ہے۔ایران سمجھتا ہے یہ قتل اسرائیل کے بھیجے ہوئے دہشت گردوں نے کیا ہے۔ایران نے بدلہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے اعلان کیا ہے کہ اس قتل کا بدلہ لیا جائے گااقوام متحدہ نے کہا ہے صبر کریں۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب ماجد تخت روانچی نے سلامتی کونسل کے ماہ نومبر کے لئے صدر انگارونڈا کنگ کو لکھے گئے اپنے خط میں امید کا اظہار کیا ہے کہ اقوام متحدہکے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت اور مرتکب افراد کے خلاف ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے کہ ایران کو قتل میں ملوث افراد کی شناخت اور سزا دینے کا قانونی حق حاصل ہے۔برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن سے اس بہیمانہ قتل کے مذمت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صحافی سے اتفاق کیا ہے کہ جوہری سائنسدان محسن فخری زادے کا قتل ایران کے لئے ایک بڑا پیشہ ورانہ اور نفسیاتی دھچکا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے دعویٰ کیا ہے کہ سائنسدان کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے واضح اشارے ملے ہیں جوکہ جنگ پر اکسانے کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ قتل ریاستی دہشت گردی ہے، دنیا دہرا معیار ختم کرکے مذمت کرے۔پاسداران انقلاب کے کمانڈرمیجر جنرل حسین سلامی نے اپنے شدید رد عمل میں کہا ہے:”عظیم سائنسدان کے قتل کا بدلہ لیں گے جیسے ماضی میں لیتے رہے ہیں، ایٹمی سائنسدان کا قتل جدید سائنسز تک ایران کی رسائی روکنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ایرانی سپریم لیڈر کے دفاعی مشیر بریگیڈئر حسین دہقان نے کہا ہے قاتلوں پر بجلی بن کر گریں گے، اورانہیں پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔اسرائیل اور پینٹاگون نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اس ہفتے کسی نامعلوم خطرے کے پیش نظر خلیج اومان میں امریکی بحری بیڑہ ”یو ایس ایس نمیٹر“تعینات کر دیا گیا ہے۔تعیناتی کے وقت سے یہی لگتا ہے کہ ایرانی جوہری سائنسدان کے قتل سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔خصوصاً امریکی اور اسرائیلی مفادات خطرے میں آگئے ہیں۔ایران اپنے اعلان کے مطابق جواب دے گا مگر یہ نہیں کہا جاسکتا یہ جواب کب اور کس شکل میں دیا جائے گا۔فوری جواب کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، ماضی میں بھی کمانڈر انقلابی پاسدارن کے قتل کا بدلہ بھرپور انداز میں لیا گیاتھا۔امریکی حکومت نے اپیل کی تھی کہ اسی پر اکتفاکر لیا جائے،جبکہ ایران مزید کارروائی کاارادہ رکھتا تھا۔ اس بار بھی توقع ہے ایران عجلت میں کوئی اقدام نہیں اٹھائے گا۔اس لئے کہ ایران جانتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو کسی بہانے جنگ میں الجھانا چاہتے ہیں۔امریکی معیشت کو سہارا دینے کے ایک نئی جنگ امریکہ کے لئے انتہائی مجبوری بن گئی ہے۔امریکہ نے 1945سے اپنی معیشت کی بنیادفوجی سازوسامان کی فروخت کو بنا رکھا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ جنگ کا ماحول برقرار رہے۔اس خطے میں عراق کے صدام حسین امریکی فرنٹ مین کا کردار ایک دہائی سے زائد عرصہ تک ادا کرتے رہے۔جب ان کی افادیت صفر ہوگئی تو امریکی پالیسی سازوں نے صدرصدام حسین کو تباہی کی علامت بناکر عراق پر حملہ کردیا۔اب ایک نئے صدام حسین کی ضرورت ہے۔مقتول صدر جیسا مشکل کردار تلاش کرنے میں سنبھالنے میں وقت لگے گا۔امریکہ اتنا انتظار نہیں کرسکتا۔ کورونا نے امریکی معیشت کا جلوس نکال دیا ہے،ڈالر کی مطلوبہ ضرورت جنگ یا متوقع جنگ کا خوف پیدا کئے بغیر ممکن نہیں۔اسرائیل اس ضرورت کو پورا کرسکتا ہے۔براہ راست استعمال کرنا درست نہیں تھا اس لئے دوتین عرب ممالک کو دوستانہ مراسم کے لئے راضی کیاگیا تاکہ اس خطے میں ایک ہلچل پیدا ہو۔پھراس ہلچل کو مخاصمت میں ڈھالا جائے۔
اگر اسرائیل نے امریکی شہ پر کوئی ایسی حرکت کی جو عراقی صدر نے بلاسوچے سمجھے کی تھی تو اے اس بار اسی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا جو عراق کا مقدر بنا۔صورت حال ابھی ایران مبصرین کی نظر میں تشویشناک ہے۔امریکی بحری بیڑے کی بحر اومان میں تعیناتی سے بھی یہی اشارا ملتا ہے کہ ایرانی سائنسدان کے قتل کے بعد اسے بھی ردعمل کی توقع ہے۔ شہنشاہ ایران کے فرار کے بعد چار دہائیوں سے ایران مسلسل حالت جنگ میں ہے۔امریکی پابندیوں کے باوجود نہ ایرانی عوام کے حوصلے پست ہوئے ہیں اور نہ ہی حکومت مخالف جذبات میں کوئی اضافہ ہوا ہے۔عوام اپنے دشمن کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔سعودی عرب نے بھی بہتر حکمت عملی اپنا کر خطے میں نئی جنگ کا راستہ تاحال روک رکھا ہے۔دیگر عرب ممالک بھی جانتے ہیں امن خطے کی ضرورت ہے۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے پیچھے بھی یہی جذبہ کارفرما ہے۔ اگر اسرائیل اس خطے پر ایک نئی جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے اسے زمینی حقائق کا از سرنو جائزہ لینا چاہیئے۔اسے ایک سے زائد بار سوچناہوگا۔ایران کے عوام کی نفسیات عربوں سے مختلف ہے۔وہ امریکہ سے یااسرائیل سے خوفزدہ نہیں۔فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کرتا ہے۔قبلہ اول(بیت المقدس) کی آزادی کے لئے صرف نعرے نہیں لگاتا عملی طور پر سینہ سپر ہے۔ایران کی بہادرانہ حمایت نہ ہوتی تو یہ معاملہ برسوں پہلے اسرائیل کی مرضی کے مطابق طے ہوچکا ہوتا۔ترکی بھی ایران کے ساتھ کھڑا ہوگا۔آرمینی پر آذربائیجان کی بالادست ثابت ہوچکی، اس سے آنکھیں بند کرنا اسرائیل اور امریکہ دونوں کو مہنگا پڑے گا۔افغانستان کے حالات سے امریکہ بے خبر نہیں۔اسرائیل نے یہ کارروائی کرکے خطے کو نئی جنگ میں دھکیلنے کی احمقانہ غلطی کی ہے،اس کا زیادہ نقصان بھی وہی اٹھائے گا۔دعا کریں جنگ نہ ہو، اگر ہوئی تو یہ ہر لحاظ سے فیصلہ کن اور اسرائیل مخالف نتائج کی حامل ہوگی۔اس لئے کہ ایک فریق ایران ہے۔ جس نے قاتلوں پر بجلی بن کر گرنے کا اعلان کرکھا ہے،اور اپنے اعلان کو عملی شکل دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں