جو امت حضور ؐ کی توہین پر کچھ نہ کر سکے اسے مرجانا چاہیے،لاہور ہائیکورٹ

لاہور:چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے انبیا ئے کرام اور صحابہ کرام کی توہین آمیز پوسٹوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ جو امت حضورؐ کی توہین پر کچھ نہ کر سکے اسے مرجانا چاہیے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے انبیا کرام اور صحابہ کرام کی توہین آمیز پوسٹوں کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے خلاف گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے جبکہ سائبر کرائم رولز میں شکایات کے اندراج اور کارروائی کا ذکر موجود ہے۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ یہ کوئی سیکولر حکومت ہے جس نے یہ رولز منظور کیے، آپ نے جو رولز جمع کروائے اس سے ایسا لگتا ہے کہ جو آدمی متاثر ہے صرف وہی شکایت درج کروا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں تو سرکار دو عالمؐ کی ذات کے معاملے میں بڑا کلیئر ہوں، اگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر لوگ مقرر کر رکھے ہیں تو حضورؐ کا معاملہ بھی تو قانون میں شامل ہے۔چیف جسٹس محمدقاسم خان نے کہا کہاس امت کو مر جانا چاہیے کہ اگر سرکار دو عالم ؐ کی توہین ہو تو وہ کچھ کر نہ سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسی معاملے پر 9 مقدمات درج کیے ہیں، عدالت اس معاملے پر معاونت فراہم کرنے کے لیے مہلت دے۔فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں