آرمینیا میں مظاہرے: اپوزیشن کی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی دھمکی

آرمینیا میں ہزاروں افراد نے ملکی وزیر اعظم نکول پاشینیان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ آذربائیجان کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کی مخالفت کرنے والے مظاہرین نے وزیر اعظم کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
نگورنو کاراباخ تنازعے کے باعث چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ اور ساڑھے چار ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد پاشینیان نے آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی کوششوں سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت نگورنو کاراباخ کا زیادہ تر علاقہ آذربائیجان کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ یوں گزشتہ ماہ 10 نومبر کے روز قریب ایک چوتھائی صدی تک آرمینیا کے قبضے میں رہنے والے آذربائیجان کے علاقوں سے آرمینیا کی افواج کا انخلا ہو گیا تھا۔
آذربائیجان اور اس کے عوام اس امن معاہدے کو اپنی فتح قرار دیتے ہیں۔ آذری صدر الہام علییف نے تو معاہدے کو نہ صرف میدان جنگ بلکہ سیاسی طور پر بھی فتح قرار دیا۔
آذربائیجان کے برعکس آرمینیا میں روسی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کو شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نکول پاشینیان نے بھی معاہدے پر دستخط کرتے وقت اسے اپنے اور اپنے ہم وطنوں کے لیے ایک تکلیف دہ فیصلہ قرار دیا تھا۔
اس معاہدے کے بعد ہی آرمینیا میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے لیکن ہفتہ پانچ دسمبر کے روز اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹوں کے مطابق دارالحکومت یریوان میں بیس ہزار سے زائد افراد نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی جانب کیے گئے مارچ میں حصہ لیا۔
مظاہرین مسلسل وزیر اعظم پاشینیان کو ‘غدار‘ قرار دیتے ہوئے نعرہ بازی کرتے رہے۔ ملکی اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی مظاہروں میں شریک ہوئے۔
سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ آرمینیائی چرچ بھی اس معاہدے سے ناخوش ہے اور مسیحی رہنماؤں نے بھی مظاہروں میں شرکت کی۔ چرچ کے مطابق نگورنو کاراباخ کے لوٹا دیے گئے علاقوں میں مسیحیوں کے کئی تاریخی اور مقدس مقامات بھی موجود تھے، جن پر اب آذربائیجان کا کنٹرول ہے۔
آرمینیا کی اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم کو استعفیٰ دینے کے لیے آئندہ منگل کی دوپہر تک کا وقت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ملک بھر میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جائے گی۔
دباؤ اور مظاہروں کے باوجود وزیر اعظم نکول پاشینیان استعفیٰ دینے سے اب تک مسلسل انکار کرتے رہے ہیں۔ امن معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کے سبب نہ صرف نگورنو کاراباخ کے مکمل علاقے کو آذری قبضے میں جانے سے بچا پائے بلکہ اس سے ہزاروں انسانوں کی زندگیاں بھی ضائع ہونے سے بچ گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں