پیٹرولیم بحران تحقیقاتی رپورٹ

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان کے دوسری باردیئے گئے حکم پروفاقی کابینہ نے پیٹرولیم بحران تحقیقاتی رپورٹ پبلک کر نے کی منظوری دے دی۔چیف جسٹس نے تاخیر پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا:”میں سمجھتا ہوں کہ شاید کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ افسران کی نااہلیاں اور غلطیاں سامنے آئیں، اس کو جتنا التواء میں رکھا جا سکتا ہو، رکھاجائے،میں اس کو پبلک کر رہا ہوں“۔چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کے وکیل کی رپورٹ پبلک نہ کرنے کی استدعا مستردکردی۔وکیل کی استدعا سے ثابت ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کا اندازہ سو فیصد درست تھا۔کمیشن کی تحقیقات کے مطابق چند دنوں میں 9کمپنیوں نے 5ارب روپے کمائے۔7کمپنیوں نے 4دن پہلے پیٹرول مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے 2ارب روپے کمائے۔اس حساب سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ کمپنیاں 50کروڑ روپے یومیہ کما رہی تھیں۔ایک ایسی کمپنی کو ایک ہزار ٹن کا کوٹہ دیا گیا ہے جس کے پاس ایک بھی پمپ نہیں۔ڈی جی آئل کے عہدے پر ویٹرنری ڈاکٹرعمران اکرام تعینات ہے۔اسٹاک کے بارے میں معلومات کا ریکارڈ موجود نہیں۔ کوالٹی کنٹرول لیباریٹریز ملک بھر میں ضلعی سطح پر قائم کرنے کی ضرورت ہے۔250ارب روپے کا پیٹرول ایران سے اسمگل کیا جاتا ہے۔کمیشن نے سفارش کی ہے کہ ایران بارڈر سے اسمگلنگ روکی جائے۔پیٹرول اسمگلنگ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ٹیکس چوری کیا جارہا ہے۔جولائی کے مہینے میں ایرانی تیل کے دو جہاز پکڑے گئے ہیں۔جبکہ لانچیں ساراسال تیل اسمگلنگ میں مصروف رہتی ہیں۔ سب جانتے ہیں،مگر سب نے آنکھیں بند کی ہوئی ہے۔نقصان ملک اور عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
آٹا اور چینی کے بحران پر تحقیقات کا نتیجہ بھی اس رورٹ سے ملتا جلتا آیا ہے۔کسی ذمہ دار کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی۔حکومت یہ تو کہتی ہے کہ منافع خوروں نے کارٹیل بنا رکھے ہیں،مافیاز کی شکل اختیار کر لی ہے،مگر کسی مافیا کے گریبان پر تاحال ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔وجہ ایک ہی ہے کہ بااثر ہیں،تمام اداروں میں ان کے بندے بیٹھے ہیں۔وزیر اعظم ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دن اہم فائلیں گم ہو جاتی ہیں۔میڈیا ایسے واقعات ایک سے زائد باررپورٹ کر چکا ہے۔ سپریم کورٹ تک شکایت پہنچی ہے مگر بگاڑ اپنی جگہ موجود ہے، نہ جانے کب تک جاری رہے گا؟ ہر ذی شعور پاکستانی کی خواہش ہے ملک کرپشن سے پاک ہو تاکہ ملک کو بھاری قرضوں سے نجات ملے،اب تو قرضوں پر واجب الادا سود بھی اربوں ڈالر سالانہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں حکمرانوں نے ڈیم نہیں بنائے، اس غلطی کے نتیجے میں عام آدمی، زمینداروں اور صنعت کاروں کو مہنگی بجلی خریدنے کے علاوہ سبزیاں،پھل، آٹا چینی اور دوائیاں بھی مہنگی خریدنا پڑتی ہے۔پورا ملک مافیاز کے قبضے میں ہے۔حتیٰ کہ وزیر اعظم ہاؤس میں فائلیں بھی ان ہی کی مرضی سے کابینہ تک پہنچائی جاتی ہیں۔مشیر غلط اعداد و شمار پیش کرکے کابنہ کو بھی دھوکا دیتے ہیں اور عوام کے لئے بھی مشکلات پیداکرتے ہیں۔ سرکاری وکیل تنخواہ قومی خزانے سے وصول کرتا ہے لیکن عدالتوں میں عوامی مفادات کا دفاع کرنے کی بجائے ریلیف منافع خوروں یا ان کے ایجنٹوں کے لئے مانگتا ہے۔پیٹرول بحران تحقیقات بھی عدالتی حکم کے باوجود پبلک نہیں کی گئیں،تعمیل زیر التواء رہی۔یہ رویہ اور ذہنیت عوام کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہے۔اس زہریلی سوچ کا قلع قمع ضروری ہے۔اداروں کی اصلاح کا سارا بوجھ عدلیہ کے کندھوں پر آگیا ہے لیکن عام آدمی کو ڈر ہے کہ ابھی سارے ارشد ملک اور ملک عبدالقیوم مرے نہیں، موقع ملتے ہی اپنے آقاؤں کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ایسے میں دعا کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔اور اللہ کا قانون پہے کہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتی جسے اپنی حالت بدلنے کا خود شعور نہ ہو۔یورپی اقوام نے مافیاز سے جان چھڑانے کا فیصلہ خود کیا، اور پھر مافیاز کے خلاف اجتماعی جدوجہد کی۔
عوام جب یہ دیکھتے ہیں کہ مافیاز کے فرماں بردار وزیر اعظم ہاؤس کو بھی مافیاز کی مرضی سے چلا رہے ہیں تو انہیں سخت مایوسی ہوتی ہے۔73سال سے مسلسل مہنگائی، بیماری، جہالت اور بے روزگاری سے دوچار ہیں۔ اس مدت میں تین نسلیں سماج کا حصہ بن جاتی ہیں۔پاکستان 1947میں بنا، بانیان عمر کے آخری حصے میں تھے جلد ہی عمر طبعی پوری کرکے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ان کے اٹھتے ہی موقع پرستوں کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے سازشوں کا موقع مل گیا۔تاریخ سے سب واقف ہیں۔اب دوسری نسل حکمران ہے، اور تیسری نسل اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔تیسری نسل بانیان کی سوچ سے براہ راست واقف نہیں،درسی کتب اور حاکموں کے پھیلائے گئے تصورات کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔اپوزیشن کو بھی حکمرانی میں شرکت کے مواقع ملے۔ان کی کارکردگی بھی ریکارڈ پر ہے۔عوام اپنے معاشی مسائل میں الجھے رہے۔اپنے عملی تجربے سے انہوں نے حقیقی تاریخی شعور حاصل کیا۔انہیں لفاظی نہیں آتی مگر لفاظی کرنے والوں کے اصل عزائم تک جھانکنے کی مہارت رکھتے ہیں۔اپوزیشن صرف اپنی غلطیاں تسلیم کرتی ہے لیکن عام آدمی ان کی غلطیاں اتنی جلدی اپنے ذہن کی سلیٹ سے deleteنہیں کریں گے۔اتنی جلدی اپنی رائے تبدیل نہیں کریں گے۔لہٰذا اپوزیشن کو عجلت سے گریز کرتے ہوئے مناسب حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔زمینی حقائق نظر انداز نہیں کئے جاسکتے۔40سال اقتدار کے مزے لوٹنے کا اقرار کرتے وقت خیال رہے کہ یہ جملہ سنتے ہی عام آدمی بہت کچھ سوچنے لگتا ہے۔مان لیا موجودہ حکومت غلطیاں کررہی ہے مگر اسے اقتدار میں صرف دو سال چار ماہ ہوئے ہیں،اسے پانچ سال حکومت کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔اپوزیشن ہٹانا چاہتی ہے تواسے عدم اعتماد کی تحریک لانا ہوگی۔یہ بھی مان لیاجائے کہ موجودہ حکومت کسی تیسرے فریق کی لائی ہوئی ہے تو تیسرا فریق جب اپنی لائی ہوئی حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہوگا، اپنی پسند کی نئی حکومت لے آئے گا۔جب موجودہ اپوزیشن اس حکومت کی سلیکشن نہیں رکوا سکے تو عام آدمی کیسے یقین کر لے کہ اسے ہٹانے میں کامیاب ہوجائے گی، اپوزیشن کے پاس یکم فروری تک سوچنے کی مہلت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں