مچھ واقعہ، جاں بحق افراد میں ایک کی شادی چند ماہ قبل ہوئی تھی، حادثہ کا سن کر نئی دلہن نے خودکشی کی کوشش کی
کوئٹہ :دہشتگردی کے واقعے میں ہلاک ہونے والے میرے ایک کزن کی عمر صرف 18 برس تھی، اس کی چند ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔ اس کی نئی نویلی دلہن نے جب سنا کہ وہ (اس کا شوہر)اس دنیا میں نہیں رہا تو اس نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔مجسم غم بنی زارا بیگی نے جب یہ بتایا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ زارا کا تیس سالہ بھائی چمن علی، اور دو چچا زاد بھائی، 18 سالہ نسیم علی اور 45 سالہ عزیر سنیچر کی شب صوبہ بلوچستان کے ضلع مچھ میں مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دس کان کنوں میں شامل ہیں۔سنیچرر کی شب مچھ میں واقع کوئلہ فیلڈ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 10 کان کن ہلاک ہو گئے تھے، ان تمام مزدوروں کا تعلق بلوچستان کی ہزارہ کمیونٹی سے ہے۔ہلاک ہونے والوں کے لواحقین صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر منگل کے روز بھی میتوں سمیت دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے تب تک وہ نا تو میتوں کی تدفین کریں گے اور نا ہی دھرنا ختم کریں گے۔زارا بیگی بتاتی ہیں کہ چند ماہ قبل ہمارے خاندان میں خوشی ہوئی تھی۔ ہم نے اپنے چچا زاد بھائی نسیم علی کو دولہا بنایا تھا، اس کی عمر اٹھارہ سال ہوگئی۔ ہمارے خاندانوں میں جلدی شادی کا رواج ہے۔ جس کے بعد مرد محنت مزدوری کرنے چلا جاتا ہے۔روایت کے مطابق نسیم علی بھی چند دن شادی کے بعد اپنی نوبیاہتا دلہن اور خاندان والوں کے پاس رہے جس کے بعد وہ روزگار کے سلسلے میں کوئلہ فیلڈ چلے گئے۔ زارا کہتی ہیں کہ شاید وہ سوچ رہا ہو گا کہ اب وہ شادی شدہ ہے اور اس پر ذمہ داریاں ہیں، مگر اب اس کی میت میرے سامنے پڑی ہے،اس کی نئی نویلی دلہن بار بار فریاد کر رہی ہے۔ اس کی چیخیں اور آہ و بکا زمین و آسمان ہلا رہی ہیں۔ میں وزیر اعظم سے کہتی ہوں کہ وہ کوئٹہ کیوں نہیں آتے، وہ کیوں نسیم کی دلہن کی فریاد اپنے کانوں سے نہیں سنتے۔یاد رہے کہ منگل کی صبح وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید میتوں کے ہمراہ دھرنا دیے ہزارہ برادری کے پاس گئے تھے تاہم ملاقات اور تسلیوں کے باجود ہزارہ برادری نے دھرنا ختم نا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔زارا کا کہنا تھا کہ میں عمران خان سے کہتی ہوں یہ دس لاشیں نہیں ہیں۔ یہ دس خاندانوں کی تباہی ہے۔ ہر ایک خاندان کی اپنی الگ کہانی ہے۔ میں اپنے بھائی چمن علی کے پانچ بچوں کا سامنا نہیں کر پا رہی ہوں۔زارا نے بتایا کہ ان کے سگے بھائی چمن علی کو اپنے بڑی سولہ بیٹی بارھویں کلاس کی طالبہ بیٹی اپنی جان سے زیادہ عزیز تھیں۔ وہ جب پیدا ہوئی تو چمن علی نے کہا تھا کہ میں اس کو ڈاکٹر بناں گا۔ بیٹی تھوڑی بڑی ہوئی تو اس نے ہر کلاس میں ٹاپ کر کے اپنے باپ کا خواب پورا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔زارا بیگی کا کہنا تھا کہ اب وہ بیٹی اپنے باپ کی میت پر کھڑی ہے اور بار بار اپنے مردہ باپ سے کہہ رہی ہے کہ تم مجھ سے کیوں ناراض ہوگے ہو۔ میں نے تو ہر صورت میں ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم سے کہتی ہوں کہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ ایک بیٹی بار بار اپنے بات کی میت کے سرہانے کھڑا ہو کر کہہ رہی ہے کہ باباآپ مجھ سے کیوں ناراض ہیں زارا بیگی کا کہنا تھا کہ بیٹی اپنے باپ کی میت پر کھڑے ہو کر کہہ رہی ہے کہ ‘بابا آپ نے کہا تھا کہ چھوٹے بہن بھائیوں کا پڑھانا ہے تو میں نے ہمیشہ ان کو بھی پڑھایا ہے۔ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوگئی ہے تو معاف کر دو۔زارا بیگی کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے ان کے دوسرے چچا زاد بھائی عزیز کے سات بچے ہیں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہوچکی ہے۔ وہ چند دن قبل چھٹیوں پر آئے تھے، تو میرے گھر بھی آئے تھے۔ مجھ سے کہہ رہے تھے، کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے بچوں کو پڑھانا چاہیے۔ وہ کب تک یہ محنت مزدوری کرتے رہیں گے۔ میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔


