مچھ میں کوئلہ مزدوروں کے قتل کے خلاف کراچی میں 4 مقامات پراحتجاج جاری
کراچی :بلوچستان کے علاقہ مچھ میں کوئلہ مزدوروں کے قتل کے خلاف کراچی میں 4 مقامات پر جاری احتجاج کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔گزشتہ روز مچھ کے کوئلہ کان میں کام کرنے والے ہزارہ برادری کے 10 افراد کو اغوا کے بعد شناخت کرکے قتل کیا گیا۔ اس واقعہ کے خلاف کوئٹہ میں 3 روز سے دھرنا جاری ہے۔گزشتہ شب وزیرداخلہ شیخ رشید نے وزیراعظم کی ہدایت پر کوئٹہ پہنچ کر مظاہرین سے شہدا کی تدفین اور دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی مگر مظاہرین نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم آکر انہیں تحفظ اور انصاف کا یقین دلائیں تو وہ احتجاج ختم کریں گے۔منگل کو کراچی میں تین مقامات پر دھرنا دیا گیا ہے۔ عباس ٹاؤن میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر دوسرے روز بھی دھرنا جاری رہا جس میں شرکا کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ دوسرا دھرنا نارتھ کراچی کی پار ہاس چورنگی پر شروع ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ ہی مجلس وحدت المسلین کی کال پر نمائش چورنگی پر بھی مظاہرین جمع ہوگئے ہیں جبکہ 4 بجے کراچی پریس کلب کے باہر بھی ہزارہ کمیونٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں خواتین نے اپنے کمسن بچے گوڈ میں اٹھائے شرکت کی۔شام 5 بجے کے قریب ناگن چورنگی کے اطراف بھی مطاہرین جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ان تمام مظاہروں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین نے شیعہ سنی بھائی بھائی کے نعرے لگائے اور ملک میں دہشت گردی کو لگام دینے کا مطالبہ کیا۔پاور ہاؤس چورنگی پر سڑک کا ایک ٹریک مظاہرین نے بند کردیا ہے جبکہ دوسرے ٹریک اور سروس روڈ پر ٹریفک سست رفتاری کے ساتھ چل رہی ہے۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ کا بھی ایک ٹریک ٹریفک کیلئے بند ہے۔پاور ہاؤس چورنگی پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ صادق جعفری نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ ہزارہ برادری کے غم میں ہر محب وطن شامل ہے۔ سانحہ مچھ کے قاتلوں کی گرفتاری اور سر عام پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت و ریاستی ادارے عوامی تحفظ میں ناکام ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں امن کے لیے فوجی آپریشن ناگزیر ہے۔علامہ ظفر حسن نقوی نے کہا کہ جب تک بائی پاس دھرنا جاری ہے، ہم بھی بیٹھے رہیں گے۔ مائیں اور بہنیں لاشیں لیے بیٹھیں ہیں اور وزیراعلی جام کمال بیرون ملک چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ترجمانوں کا کام حکومتوں کو تحفظ دینا ہے۔ جب تک ہزارہ برادری کے مطالبات نہیں سنے جاتے، احتجاج بڑھتا جائے گا۔احتجاج کے باعث ابوالحسن اصفہانی روڈ سے عباس ٹاؤن جانے اور آنے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ٹریفک کو الاآصف اسکوئر رینجرز چوکی اور پیراڈائز کی جانب سے متبادل راستہ فراہم کردیا گیا۔


