الیکشن ترمیمی بل 2020 ہمارا تجویز کردہ نہیں، الیکشن کمیشن

اسلام آباد:قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امورکے اجلاس میں الیکشن ترمیمی بل 2020 کے بارے میں الیکشن کمیشن حکام نے کہاکہ یہ بل ہمارا تجویز کردہ نہیں ہے، وزارت پارلیمانی امور بحث کا آغاز کرے وزارت پارلیمانی امور کو سننے کے بعد اپنا موقف دینگے جمعہ کے روز قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امورکا اجلاس چیئرمین کمیٹی مجاہد علی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سنیٹ الیکشن اوپن کرنے، آبادی کی بجائے رجسٹرڈ ووڑز پر حلقہ بندی کرنے سے متعلق پر بحث کی گئی۔ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کی فہرستیں عام انتخابات کے بعد 3 تین فائنل کرنے کی شق بھی شاملہے جب کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق اور دوہری شہریت کے حامل افراد کو الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت دینے کی شق شامل کی گئی۔ کامیاب امیداور کو انتخابات کے 60 دن کے اندر حلف اٹھانے کا پابند بنانے کی شق بھی شامل ہے۔ چئیرمین کمیٹی مجاہد علی نے کہا کہ الیکشن ترمیمی بل 2020 پر الیکشن کمیشن کا موقف لینا ہے۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے موقف اپنایا کہ یہ بل ہمارا تجویز کردہ نہیں ہے، وزارت پارلیمانی امور بحث کا آغاز کرے وزارت پارلیمانی امور کو سننے کے بعد اپنا موقف دینگے۔رکن کمیٹی عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے والا ہے، آج وقت نہیں ہے اس بل کو جلدی میں منظور نہ کرائیں ورنہ قوم معاف نہیں کریگی مشیر پارلیمانی امور بھی ابھی تک نہیں آئے، بریفنگ کون دیگا۔ جس پر چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ڈاکٹر بابر اعوان آرہے ہیں، انکا انتظار کرلیتے ہیں۔رکن کمیٹی محمود بشیر ورک نے کہاکہ چئرمین صاحب میں آپکی مجبوری سمجھتا ہوں لیکن آج اس بل پر بحث مکمل نہیں ہوسکتی حکومت کو ایک دم سے اس بل کو پاس کرانے کی کیا جلدی پڑ گئی ہیہم نے اپنے ضمیر کو بھی مطمئن کرنا ہے، 22 کروڑ عوام کا بل ہے۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ میں نے اپنی پارٹی سے بھی اس بل پر رائے لینی ہے چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ چترالی صاحب آپکی اور میری بہت پرانی دوستی ہے، غصہ کا اظہار کیوں کررہے ہیں جس پر مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ صرف آپکی اور میری دوستی کا سوال ہوتا تو بند کمرے میں آپکو دستخط کرکے دے دیتا آپ آدھے گھنٹے سے ہمیں مشیر پارلیمانی امور کا انتظار کرا رہے ہیں، بل موخر کریں۔ڈاکٹر بابر اعوان کے نہ پہنچنے پر چئیرمین کمیٹی نے الیکشن ترمیمی بل 2020 موخر کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں