سیاست عبادت نہیں رہی؟
سیاست کو ماضی میں عبادت کہاجاتاتھا۔سیاستدان پرکرپشن کے سوا ہر قسم کاالزام لگ سکتا تھا اور لگایا جاتا تھا۔اپنے مخالفین کوراستے سے ہٹانے کے لئے غداری کا الزام سب سے زیادہ کارگر سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیاد ہ یہی الزام مستعمل رہا۔مینار پاکستان پر قرار دادِ پاکستان پیش کرنے والے مولوی فضل الحق اور سندھ اسمبلی میں پاکستان میں شامل ہونے کی قرار داد پیش کرنے والے جی ایم سید پر غداری کے مقدمات قائم کئے گئے۔اس الزام کے تحت آخری مقدمہ سابق صدر پاکستان، سی ای او اور آرمی چیف جیسے تین اعلیٰ ترین عہدوں پر بیک وقت براجمان رہنے والے جنرل (ر) پرویز مشرف پر قائم ہوا اورتاحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔لیکن جنرل محمدضیاء الحق کے دور میں غداری کاالزام متروک ہوگیاتھا،اس کی بجائے ”کرپشن“ کے الزامات میں مخالفین کو جیل بھیجنا زیادہ پسندیدہ طریقہ بن گیا۔آج کل یہی طریقہ رائج ہے۔ایک آئینی ادارے الیکشن کمیشن کو آئین میں یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ اس نے ملک میں ہونے والے قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی انتخابات میں corrupt practicesکی روک تھام کرے۔بدقسمتی سے 1973سے آج تک یہ ادارہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہا۔ بلامقابلہ کامیاب ہونے کی خواہش حاوی آگئی اورپی پی پی کے بانی قائد کے علاوہ چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ بلامقابلہ منتخب ہو گئے۔یہ خواہش انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے علاوہ ملکی سیاست کو بھی لے ڈوبی۔اس کے بعد کسی انتخاب کو ”چمک“ کا نتیجہ،دوسرے کو ”جھرلو“، تیسرے کو”آر اوز“کا کارنامہ، اور بعض کو ”انجنیئرڈ“ کہا گیا۔یہ معلومات ہماری تاریخ ہیں۔چند روز قبل سپریم کورٹ کے معزز ججز نے دوران سماعت افسوس کے ساتھ کہا: ”ہم نے الیکشن کمیشن کو جگانا چاہا مگر اس نے جواب دیا:نہیں ہم سوتے رہیں گے“۔3مارچ کو سینیٹ کی آدھی نشستوں پر انتخاب ہوا۔ان میں سے2سینیٹرز کو اراکینِ قومی اسمبلی نے منتخب کرنا تھا۔پی ٹی آئی کی خاتون امیدوار کو 174ووٹ اور عبدالحفیظ شیخ کو164ووٹ ملے، جبکہ7ووٹ پی ڈی ایم کے امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی وائرل شدہ ویڈیو میں دی گئی ہدایات کے مطابق ضائع کر دئیے۔ واضح رہے کہ علی حیدر گیلانی نے حکومتی اعتراض اور الیکشن کمیشن جانے اطلاعات کے جواب میں پریس کانفرنس بلائی اور کہا:”ویڈیو میری ہے، میں پی ٹی آئی کے ایم این ایز سے ضمیر کے مطابق ووٹ مانگ رہا ہوں، میرے والد سینیٹ کے الیکشن میں امیدوار ہیں،ان کے لئے ووٹ مانگنا میراقانونی حق ہے، میں نے انہیں بتایا ہے کہ ووٹ ضائع کرنے کا کیا طریقہ ہے؟“عام آدمی(اور مروجہ قوانین بھی) انتخابات کے دوران اس قسم کی ویڈیووائرل ہونے اور اس کے نتیجے میں اپنی پارٹی کے امیدوار کو ہروانے کے لئے ووٹ ضائع کرنے کے عمل کوcorrupt practicesسمجھتے ہیں۔اچھا ہوا کہ الیکشن کمیشن نے اس مرتبہ پیمراسے بروقت متعلقہ نشریات کاریکارڈ طلب کر لیاہے۔توقع کی جارہی ہے کہ الیکشن کمیشن اس مرتبہ جرم ثابت ہونے پر اپنے آئینی اختیارات استعمال کرے گا۔وزیر اعظم نے بھی قوم سے خطاب کے دوران الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید کی ہے۔الیکشن کمیشن نے اس تنقید کا فوراً نوٹس لے لیا ہے،گویا ماضی والی خاموشی ترک کر دی ہے۔یہ خوش آئند مظہر ہے، طویل عرصے بعد دیکھنے میں ہے۔وزیر اعظم کے خطاب کے بعد سیاست میں عوام کی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔کل قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ آنے تک ہر جگہ پاکستانی سیاست موضوع بحث رہے گی۔ اراکین قومی اسمبلی کے کندھوں پر تین دن کے مختصر وقفے کے بعد دوسری بار ایک بھاری ذمہ داری آگئی ہے۔عام آدمی کاتجسس یہ ہے کہ اراکین قومی اسمبلی اپنے 3مارچ کے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا ”64کو 50“میں تبدیل کئے جانے والا پارلیمانی کردار دہرائیں گے؟پنجاب اسمبلی میں نون لیگ5،پی ٹی آئی5اور قاف لیگ1والے خاموش انتخاب پر ابھی نون لیگ کی حیرانگی ختم نہیں ہوئی۔اس کے ساتھ ہی ایم کیو ایم کومزید ایک سیٹ ملنے کی داستان بھی مبصرین بیان کرنے لگے ہیں۔بعض واقفان حال یہ دعویٰ کرتے سنے جا رہے ہیں کہ انہیں یکم مارچ کو ”کنفرمیشن“ مل گئی تھی اور انہوں نے وزیر اعظم کو میسیج بھی کر دی تھی۔ اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ پاکستان میں سیاست ابھی تک ریموٹ کنٹرول ہے۔اور رموز سیاست و معیشت سمجھنے والوں کی رائے ہے کہ ایسا اس وقت تک ہوتارہے گا جب تک ہمارے سیاستدان کسی سیانے سے علامہ اقبال کے معروف شعر کی تشریح نہیں سمجھتے! شعر:
دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم؟
ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں دل کی آزادی اور شکم دو مختلف اور متضادمزاج ہیں،دو مختلف سوچوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ان کی پرورش ایک ہی جسم میں ممکن نہیں۔دونوں مزاج کبھی ایک منزل کے مسافر نہیں ہو سکتے۔ شکم ہمیشہ ریموٹ کنٹرول ہوتا ہے۔اسی کے اشاروں پر چلتا ہے جو اسے دو وقت کا سامان شکم فراہم کرتاہے۔اسے یو۔ٹرن لیتے ہوئے ذرا سی شرم نہیں آتی۔اچھاہوا کہ موجودہ سسپنس طویل نہیں، 3مارچ کو پیدا ہوا، 6مارچ کو ختم ہوگیا۔ 6مارچ کو دنیا دیکھ لے گی قومی اسمبلی 174اراکین کس کے ساتھ ہیں؟سیدھی سی بات ہے،تاج اسی کے سر پر سجے گاجو 174اراکین کو اپنے ظہرانے اور عشایئے پر بلا سکتا ہے۔وزیر اعظم کے معاملے میں اوپن بیلٹ کا ایک ہی فیصلہ کافی ہوتا ہے۔سیکرٹ ووٹنگ کی شرط صرف سینیٹ کے لئے آئین کا حصہ بنائی گئی ہے۔ایک جانب یہ شکایت کی جاتی ہے کہ سینیٹ کے پاس نہ ہونے کے برابر اختیارات ہیں اوردوسری جانب اس کا رکن بننے والوں کو جتنی دولت چاہیں خرچ کرنے کی آزادی بھی دے رکھی ہے ورنہ2018کی ویڈیوبابت خرید و فرخت ووٹ/ضمیرسامنے آنے پر الیکشن کمیشن اقدامات کرچکا ہوتا۔اس راز پرسے پردہ اٹھنے تک سیاست اسی ڈگر پر چلتی رہے گی۔


