کیااعتماد کا ووٹ دینے والوں مشکوک اراکین بھی ہیں؟
وزیراعظم عمران خان نے اپنی مرضی سے،قومی اسمبلی سے ایک بار پھر اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے، اس بار انہیں 2018کے مقابلے میں 2ووٹ زیادہ ملے ہیں۔3مارچ کو اسی قومی اسمبلی دو مختلف رائے کا اظہار کیا تھا، پی ٹی آئی کے ایک امیدوار کو 174جبکہ دوسرے کو164ووٹ دیئے،اس منقسم رائے سے اپوزیشن کویہ کہنے کا موقع مل گیا کہ ایوان نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے لہٰذا عمران خان اس عہدے کے لئے نا اہل ہوگئے ہیں۔عوام کی بڑی تعداد بھی نجی محفلوں میں بھی یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعد اپوزیشن کے دعوے کو درست قرار دینے لگی تھی۔ اس لئے کہ یوسف رضا گیلانی نے حاضر ڈیوٹی وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کو ہرایا تھا۔اس کے علاوہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کی خاطر خواہ تعداد کو بھی حیرانگی سے دوچار ہونا پڑا۔لیکن ایسا واقعہ پاکستان میں پہلی یاآخری بار رونما نہیں ہوا، عام آدمی جانتا ہے کہ ابھی دنیا اپنی مجبوریوں کے گرداب میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔امریکہ جیسا ترقی یافتہ اور ستاروں پرکمندیں ڈالنے والا ملک امریکہ اس الجھن کو حل نہیں کر سکا کہ ایران کے ساتھ کیسے تعلقات رکھناہیں؟باراک اوبامہ نے 5ویٹو پاور کے حامل ملکوں (روس،چین، جرمنی، فرانس، اور برطانیہ کو ضامن بناکر جو معاہدہ کرتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ اسے،ضامنوں سے کوئی مشورہ کئے بغیر یکطرفہ طور میں ختم کر دیتا ہے۔صدر جو بائیڈن اقتدارسنبھالتے ہی اس معاہدے کی بحالی کی کوششیں کر دیتے ہیں۔ گویا دو خود مختار ریاستوں کے درمیان کئے گئے معاہدے اور گڈے گڑیا کی شادی میں کوئی فرق نہیں رہا۔ ایسے عالمی ماحول میں جینے والے پاکستانی اراکین پارلیمنٹ(سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں) دوچار کروڑ روپے لینے اور اپنا ووٹ خراب کرنے کا معاہدہ کرتے اورتوڑتے ہیں توعالمی اقدار کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔کیا ہونا چاہیئے اس بارے سنجیدگی سے سوچنے کاوقت آ چکا ہے یا نہیں؟یہ بھی ایک بحث طلب مسئلہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کیلئے بھی لمحہئ فکریہ ہے کہ راتوں رات اپنی رائے تبدیل کرنے والے اراکین پارلیمنٹ پر اعتماد کیاجائے یا نہیں؟ دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ پانچ ماہ ان مشکوک اراکین کی مؤثر نگرانی کی جائے، اطمینان بخش رپورٹ ملے توٹھیک، بصورت دیگر اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کر دیں اور عوام سے رجوع کریں۔ عوام مافیاز سے لڑنے کا واضح مینڈیٹ (دو تہائی)دیں تو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھیں، ورنہ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھ جائیں۔ایسی لنگڑی لولی حکومت سے بہتر ہے کہ آدمی حکومت نہ سنبھالے۔ پی ٹی آئی کے اقتدارکی آدھی مدت گزر گئی تاحال بلدیاتی قوانین نہیں بن سکے۔کراچی ریفارمیشن پلان کو تین سال میں مکمل کرنے کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے خود 5ستمبر2020کو کراچی میں کیا تھا۔چھ ماہ گزر چکے،زمین پر ایسے آثار دکھائی نہیں دیتے جنہیں دیکھ کر کراچی کے شہری کہہ سکیں کہ 4ستمبر2023تک 1113 ارب روپے کااعلان کردہ منصوبے پایہئ تکمیل کو پہنچ جائیں گے۔”کے فور“کراچی کے عوام کو پینے کا پانی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، اس کے بارے میں میڈیا عدم اطمینان کا اظہارکر رہا ہے۔اس کے راستے میں تعمیراتی شعبے کاٹائیکون حائل ہے۔منصوبے کے پی سی ون میں خامیاں دور کرنے کے نام پرتاخیر کی جارہی ہے۔خدشہ ہے کہ یہ اہم منصوبہ ادھورارہ جائے گا اور پی ٹی آئی کوآئندہ انتخابی مہم میں طعنہ دیا جائے گا:”پہلے بھی جھوٹ بولا تھا، آج بھی جھوٹا وعدہ کیا جا رہا ہے“۔اس نئے اعتمادکے ووٹ کو پل صراط کی طرح پار کرنا ہوگا۔عبدالحفیظ شیخ کی شکست سے یہ راز تو فاش ہو گیاکہ وزیراعظم کی تھیلی میں بھی کھوٹے سکے موجود ہیں جورسوائی کا باعث بنیں گے۔چھ مہینے کی آئینی ضمانت کے دوران (جس میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جاسکتی) حکومت کو اپنا بیشتر کام سمیٹ لینا چاہیئے، جتنے وعدے پورے کئے جاسکتے ہیں، کرلئے جائیں۔ پورے ملک میں ایک نظام لانے کاوعدہ سرِ فہرست رکھا جائے۔ لاکھوں بچوں کو یتیم خانوں کے فرسودہ تعلیمی نظام سے نجات دلاناریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہیں قومی دھارے میں لانے کا وعدہ پورا کرنے میں کوتاہی ملک کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔وزیر اعظم نے راوی ہاؤسنگ پروجیکٹ پرایک ڈیم یا پانی کا بڑی مقدار میں ذخیرہ کرنے کی بات ہے، اس پر پیشرفت ممکن ہے کہ وہاں پی ٹی آ ئی کی حکومت ہے۔مگر کراچی کے قریب بنڈل جزیرے پر شہر بسانے کا منصوبہ سندھ کی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیرایک انچ بھی آگے نہیں بڑھے گا۔اس تناظر میں پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو ایوان میں غیر ضروری دشنام طرازی نقصان دہ ہوگی۔گزشتہ ڈھائی برس میں بہت کچھ کہا گیاہے، وہی کافی سمجھا جائے۔تلخیوں کوکم کرنے کی ضرورت محسوس کی جائے۔نون لیگ کو اپنی بہتر کارکردگی کے ذریعے سیاسی ضرب لگائیں، گالم گلوچ کام نہیں دے گی۔دوسری جانب نون لیگ کو بھی آئندہ چار پانچ مہینوں میں معلوم ہوجائے گا کہ سیاسی اعتبار سے کہا ں کھڑی ہے؟زمینی حقائق کے برعکس نعرے بازی کے حوالے سے اسے بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ملک کی آج بھی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے لئے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ ان کے پاس کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسی مصروفیات موجود ہیں۔اپوزیشن کو مان لینا چاہیئے کہ ایف اے ٹی ایف کو درکارقانون سازی کا کارڈ اس نے درست نہیں کھیلا۔ یادرہے کہ چھوٹی غلطیوں کا علاج ممکن ہے،آسان ہے، مگر بڑی غلطیاں دور تک تعاقب کرتی ہیں۔پی ٹی آئی کے ہمدردوں نے اس بار ہلکا ہاتھ رکھا ہے،گڈ گورننس اور بہتر کارکردگی دکھانے کے لئے ایک موقع دیاگیا ہے۔ضائع نہ کیا جائے۔اپنے مشیروں پر اندھا اعتبار کیا، اس کا نتیجہ سامنے آ گیا۔سیکھنے کے لئے ڈھائی سال کم نہیں ہوتے،ا ن ڈھائی برسوں میں جوکچھ سیکھا ہے، اس کی مدد سے پی ٹی آئی کے اراکین کی جائز شکایات ممکنہ حد تک دور کی جائیں،انہیں سیاسی ورکر کے طور پر لیا جائے، انہیں اپنے حلقے کے عوام کو جواب دینا ہے۔بلیک میلنگ اور جائز شکایت میں فرق ہے۔اتحاد ی جماعتیں عزت و احترام چاہتی ہیں، دیا جائے، بخل سے کام نہ لیاجائے۔یہ ٹی ٹونٹی میچ ہے،آدھے اوور ہو چکے ہیں، آخری بال تک کھیلیں مگر آدھے بالز کی ناقص کارکردگی بھی دھیان میں رہے۔


