تربت، ملا عزیر کی والدہ کا بلوچ مزاحمتی تنظیم سے اپنے بیٹے کی قومی غداری کا ثبوت طلب

تربت (نمائندہ انتخاب)شے کہن میں گزشتہ روز قتل کیے جانے والے ملا عزیر کی والدہ نے بلوچ مزاحمتی تنظیم سے اپنے بیٹے کی قومی غداری اور بلوچ تحریک کے خلاف سرگرمیوں کی ثبوت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میرا بیٹا واقعی ایک قومی غدار تھا اور بلوچ تحریک کے خلاف سرگرمیوں میں شامل ہوکر اسے نقصان پہنچاتا رہا تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ ہمارا خاندان کبھی بھی بلوچ قومی تحریک کے خلاف نہیں رہا، بتمام قومی لوچ مظاہمتی تنظیمیں ہمارے لیے ہر حوالے سے قابل احترام ہیں، ملا عزیر سمیت بلوچ جہد میں شامل تمام نوجوان میرے بیٹے ہیں اور ان کی سلامتی کے لیے دعا گو ہوں، انہوں نے کہا کہ میں بطور ماں ایک بیٹے کی غداری کا داغ نہیں سہ سکتی،چونکہ عزیر کی شہادت اور اس کے بعد بلوچ مزاحمتی تنظیم کی قبولیت ہمارے لیے سخت ذہنی اذیت کا سبب بنا ہے اس لیے بطور ماں میں تنظیم سے پوچھنے کا حق رکھتی ہوں کہ ملا عزیر کی قومی تحریک مخالف سرگرمیوں کی اطلاع ہمیں پہلے کیوں نہیں دی گئی اور خاندان یا مجھے ماں سمجھ کر اطلاع دئیے بغیر اس کو قتل کیوں کیا گیا اگر وہ واقعی ایک قومی مجرم تھا جیسا کہ بلوچ مزاحمتی تنظیم سمجھتی ہے تو ہم ان کو شاید راہ راست پر لاسکتے، انہوں نے کہاکہ ملا عزیر ہمارے گھر کا کفیل تھا اور ان کا ایک وسیع کاروبار تھا جس میں علاقے کے 7 خاندان کام کرکے روزی کماتے تھے، ہمارے خدشات میں سے ایک خدشہ ان کے کاروبار پر کچھ حاسدین کی بد نظری بھی تھی جو ان کے کاروبار سے خوش نہیں تھے، انہوں نے مزید کہا کہ عزیر کی شہادت اور اس کے بعد قومی مزاحمتی تنظیم کی قبولیت کے بعد ہم نے ملا عزیر کی تمام سرگرمیوں کا جائزہ لیا، ان کے دوست اور ساتھیوں سے معلومات لی اور ان کے موبائل فون چیک کیے ہمیں کہیں سے ایسا کوئی تاثر نہیں مل سکا جس سے ہم ان کو ایک قومی غدار یا سزائے موت کا حقدار سمجھ سکیں، اس لیے تمام حالات اور تمام پہلوؤں کا مکمل اور باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد میں نے بلوچ مزاحمتی تنظیم کے بیٹوں سے ملا عزیر کی غداری کا ثبوت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھے بطور ماں مایوس نہیں کریں گے کیوں کہ میرے نزدیک جس طرح ملا عزیر ایک بیٹا تھا اسی طرح پورا بلوچستان اور تمام جہد کار میرے بیٹے جیسے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں