ترقی یافتہ دنیا اور ہم

تحر یر: انور ساجدی
ایسے وقت میں جبکہ پاکستان میں سیاسی محاذپر جمود طاری ہے حکومت نے الیکشن اصلاحات کا شوشہ چھوڑا ہے ن لیگ اور پیپلز پارٹی قومی اسمبلی کی ایک نشست کیلئے گتھم گتھا ہیں کراچی کے سابق شاداب ضلع ملیر پر بحریہ ٹاؤن کا غاصبانہ قبضہ جاری ہے دنیا ایک خبرسے چونکی ہے اور وہ خبر ہے کہ دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس اور ان کی اہلیہ ملنڈا کے درمیان علیحدگی ہوگئی ہے 68 سالہ بل گیٹس اور 56 سالہ ملنڈا نے 27 سالہ ازدواجی زندگی کے بعد علیحدگی کا باضابطہ اعلان کیا تاہم دونوں نے کہا ہے کہ وہ بل منلڈا فاؤنڈیشن کا کام جاری رکھیں گے مغرب میں تو اس خبرسے کسی کو حیرت نہیں ہوئی ہوگی کیونکہ وہاں کے کلچر میں اکثر ایسا ہوگا رہتا ہے جبکہ مشرق میں لوگ حیرت اور پریشانی کا اظہار کررہے ہیں کوئی دوسال قبل دنیا کے سب سے امیر شخص ”اما زون“ کے مالک ”جیف بیروز“ نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی تھی امریکی قوانین کے مطابق بیروز کو اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ اپنی اہلیہ کو دینا پڑا تھا اس زمانے میں وہ دوسرے دولتمند ترین شخص تھے لیکن کرونا اور ایک نعمت خداوندی بن کر آیا جس کی وجہ سے بیروز کی دولت میں دوگنا اضافہ ہوگیا جو اس وقت 2 کھرب ڈالر کے قریب ہے بیروز کی طرح بل گیٹس کو بھی اپنی 125 ارب ڈالر کی دولت کا ایک بڑا حصہ ملنڈا گیٹ کو دینا پڑے گا اگرچہ دونوں نے طلاق کی وجوہات بتانے سے گریز کیا ہے تاہم ملنڈا نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ بل گیٹس باقاعدہ شادی کی اچھائیوں اور برائیوں کا حساب رکھتے ہیں بی بی سی کے مطابق ملنڈا مائکروسافٹ میں نوکری کرنے آئی تھیں لیکن وہ کچھ عرصہ کے بعد بل گیٹس کے دل و دماغ کی مالک بن گئیں طلاق کی خبر وائرل ہونے کے بعد لاکھوں لوگوں نے اس پر تبصرے کئے ہیں اور ایک بڑی بحث کا آغاز کیا ہے پاکستانی تبصرہ نگاروں کے مطابق اگر بل گیٹس بھی اپنی بیوی کو خوش رکھنے میں ناکام رہے تو اور کونسا مرد کامیاب ہوگا ایک پاکستانی نے مشہور شاعر جون ایلیا کے اشعار لکھتے ہیں یہ اشعار انہوں نے اس وقت کہے تھے جب ان کی اہلیہ کے ساتھ علیحدگی ہوگئی تھی۔
ایک نیا رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خاموشی سے ادا ہو رسم دوری
کیوں ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
بل اینڈ ملنڈا فاؤنڈیشن کا پاکستان سے خاص رشتہ ہے یہ ادارہ پاکستان میں پولیو کے تدارک کیلئے کافی عرصہ سے فنڈز فراہم کررہا ہے لیکن بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے پولیو کے مرض کا ابھی تک خاتمہ نہیں ہوسکا بعض لوگوں کو پولیو کے فنڈز میں بے قاعدگی کا شبہ بھی ہے جبکہ قدامت پسند ملا صاحبان پولیو ویکسین کو اپنے پروپیگنڈے کا نشانہ بنارہے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ پولیو کے قطرے بچوں کو قوت مردمی سے محروم کردیتے ہیں مخصوص علاقوں میں پولیو ورکروں پر سینکڑوں بار حملے ہوئے ہیں جن میں ان کی جانوں کا ضیاع بھی ہوا ہے۔
بل اینڈ ملنڈا فاؤنڈیشن سے پاکستان کا ایک اور مالیاتی رشتہ بھی ہے پاکستان نژاد شہری عارف نقوی جو کے الیکٹرک کے مالک ہیں اور آج کل جیل میں بند ہیں انہوں نے سرمایہ کاری کے نام پر اربوں ڈالر اس فاؤنڈیشن سے حاصل کئے جوکہ خرد برد ہوگئی انہوں نے اپنا مرکزدوبئی کو رکھا تھا جب ان کا ادارہ دیوالیہ ہوگیا تو اسے برٹش حکومت نے گرفتار کیا جبکہ بل اینڈ ملنڈا فاؤنڈیشن کی شکایت پر امریکہ نے ان کے خلاف کارروائی شروع کردی امریکی قوانین کے مطابق انہیں سینکڑوں سال قید کی سزا کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود کے الیکٹرک ان کی ملکیت میں چل رہا ہے اور ابتک حکومت اسے اربوں روپے سبسڈی دے چکی ہے حکومت کی مجبوری یہ ہے کہ اگر کے الیکٹرک بند ہوگئی تو کراچی تاریکیوں میں ڈوب جائے گا جو سب سے بڑا صنعتی شہر ہے جبکہ کراچی پورٹ کی سرگرمیاں معددم ہوجائیں گی جہاں سے 60 فیصد ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کے الیکٹرک کے منتظم کو وزیراعظم عمران خان نے اپنا معاون خصوصی مقرر کیا ہے شنید یہ ہے کہ عارف نقوی عمران خان کے ذاتی دوست ہیں انہوں نے مختلف اوقات میں عمران خان کو اربوں روپے کی فنڈنگ کی ہے اگر نقوی کا کیس آگے بڑھا تو اس کے اقبالی بیانات ایک بڑا پنڈورا باکس کھول دیں گے جس کی وجہ سے ایک بڑا اسکینڈل سامنے آئیگا جو بڑی بڑی شخصیات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ایف آئی اے کے سابق سربراہ بشیر میمن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اس کا تھوڑا سا خلاصہ طشت ازبام کیا ہے غالباً عارف نقوی کو معلوم نہیں تھا کہ بل گیٹس کا پیسہ کھانا کتنا مہنگا ثابت ہوگا ان کا حشر بھی بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس (بی سی سی آئی)کے مالک حسن عابدی جیسا ہورہا ہے ابراج گروپ کے عارف نقوی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کو جو دھچکہ لگا ہے وہ الگ قصہ ہے کیونکہ ساری دنیا میں اس کو رسوائی کا سامنا ہوا ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ”امازون“کے مالک جیف بیروز نے کہا ہے کہ زیادہ دولت سے انہیں کوئی سکون نہیں ملا اس لئے وہ فارمنگ کی طرف کھود پڑے ہیں انہوں نے حال ہی میں امریکی ریاست ہوائی میں 14 سو ایکڑ زمین حاصل کی ہے وہ سکون کے لمحات اس زمین پر پودے اور پھول اگا کر حاصل کریں گے سنا ہے کہ وہ 14 سو ایکڑ زمین حاصل کرکے اپنے آپ کو ایک خوش قسمت انسان تصور کررہے ہیں انہیں معلوم نہیں کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس ہزاروں ایکڑ زمین ہے سندھ اور جنوبی پنجاب میں جاگیرداری نظام پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے جنوبی پنجاب میں جہانگیر خان ترین نے غریب لوگوں کی زمین پٹے پر حاصل کی ہے اور آج کل وہ جدید ترین فارمنگ کررہے ہیں کسی کو معلوم نہیں کہ یہ زمین کتنے ہزار ایکڑ ہے اسی طرح ان کے رشتہ دار احمد محمود اور خسرو بختیار کے پاس بھی ہزاروں ایکڑ زمین ہے ان دونوں حضرات کو زمین وراثت میں ملی ہے لیکن جہانگیر ترین نودولتیہقابض زمیندار ہے انہوں نے دوسروں کے ساتھ مخدوم حسن محمود کی بھی اچھی خاصی زمین ہڑپ کر لی ہے سندھ میں دونوں جتوئی یعنی رئیس غلام مصطفےٰ اور میر عبدالحمید خان کے خاندان کے پاس 40 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ہے۔
اداروں کو تو چھوڑیئے جب امازون کے مالک کو یہ پتہ چلے کہ لاہور میں سلسلہ آہینہ کے چشم و چراغ شریف خاندان کا گھر 18 سو ایکڑ پر مشتمل ہے تو ضرور اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوگا۔
ایک ہی دن آزاد ہونے والے انڈیا اور پاکستان میں یہ فرق ہے کہ آزادی کے فوراً بعد جواہر لال نہرو نے جاگیرداری کا خاتمہ کردیا تھا اور ان کی زرعی اصلاحات کی وجہ سے کوئی بھی جاگیردار باقی نہیں بچا تھا جبکہ انہوں نے ریاستوں کا بھی خاتمہ کردیا تھا بدقسمتی سے پاکستان کے پہلے وزیراعظم نے جاگیرداری نظام کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا انہوں نے زیادہ سے زیادہ زمین کی ہولڈنگ پر کوئی قدغن نہیں لگائی ہری پور سے تعلق رکھنے والے ہزارہ وال حکمران صدر ایوب خان پہلے حکمران تھے کہ انہوں نے مارشل لاء ریگویشن 117 اور 118 جاری کئے جس کے تحت انہوں نے مخالفین کی زائد زمینوں کو ضبط کرلیا ان کے ان قوانین سے سب سے زیادہ متاثر خوشاب سے تعلق رکھنے والے رند سردار عبدالرحمن خان ہوئے تھے اپنی زندگی کے آخری حصے میں انہوں نے بتایا تھا کہ گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالا باغ ان سے ناراض ہوئے تھے اس لئے ان کی 40 ہزار ایکڑ زمین مارشل لاء ریگویشن کے تحت ضبط کرلی گئی تھی۔
ایوب خان نے اپنی زرعی اصلاحات کا صحیح معنوں میں نفاذ سے گریز کیا کیونکہ سارے جاگیردار ان کا کاسہ لیس بن گئے تھے انہوں نے جاگیرداروں من پسند سرداروں اور حکومت کا ایک غیر رسمی اتحاد بنایا تھا اس اتحاد کو بھٹو کے ابتدائی دور میں دھچکہ لگاتھا لیکن ضیاؤالحق نے آکر اس طبقے کو دورباہ طاقتور بنایا تھا انہوں نے ان گماشتہ طبقات کی نئی نسل کو حکومت میں حصہ دیا تھا جو آج تک قائم ہے ضیاؤالحق نے بطور ادارہ سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی تھی البتہ جماعت اسلامی اور کچھ دگیر بنیاد پرستوں کو اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر تقویت بخشی تھی اس گماشتہ طبقہ کی سرپرستی آج بھی جاری ہے جن کا مقصد قدرتی ارتقا کو روک کر اقتدار کی عوام تک منتقلی کو روکنا ہے ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق جب تک یہ مصنوعی نظام رہے گا پاکستان میں خوشحالی نہیں آئے گی اور نہ ہی سیاسی استحکام اور جمہوری نظام پنپ سکے گا۔
پاکستان کے سیاسی نظام کا یہ حال ہے کہ کراچی کی نشست این اے 249 کیا چلی گئی کہ ن لیگ کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے انجانے میں فوج کی مدد طلب کی ہے ایک طرف ان کے لیڈر ووٹ کو عزت دو کی تحریک چلا رہے ہیں دوسری جانب ان کے امیدوار الیکشن کا ریکارڈ فوج کی تحویل میں دینے کا مطالبہ کررہے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ن لیگ کی سرشست سے ابھی تک اس کے مربی اور محسن نہ نکل سکی لوگوں کو یاد ہوگا کہ برطانیہ نے چند روز قبل اپنی افواج کی تعداد میں تخفیف کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ تعداد صرف 75 ہزار رکھی جائے گی افرادی قوت کی بجائے جدید ٹیکنالوجی سے کام لیا جائے گا چنانچہ گزشتہ روز برطانیہ نے اڑنے والے انسان بنائے یعنی اس نے ایسا آلہ ایجاد کیا کہ جس کی بدولت انسان کافی فاصلے تک اڑ کر جاسکتا ہے پہلے مظاہرہ میں ایک فوجی نے ایک کشتی سے اڑکر بحری جہاز کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کیا جس کے بعد برطانیہ نے اعلان کیا کہ یہ تکنیک دشمن کے جہازوں پر کارروائی کیلئے استعمال کی جائے گی چین اور امریکہ بھی ایسی ٹیکنالوجی بنارہے ہیں تاکہ افواج کی تعداد کم کی جاسکے چین تو روبوٹوں پر مشتمل فوج بنارہا ہے تاکہ جانی و مالی نقصان دونوں کا احتمال نہ رہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں