ہم خوداپنے صوبے کے دشمن،ہائیکورٹ نے بلوچستان حکومت کو نئے مالی سال میں گاڑیوں کی خریداری سے روک دیا
کوئٹہ:بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کو نئے مالی سال میں کسی بھی قسم کے گاڑیوں کی خریداری سے روک دیا جاتا ہے۔ ماضی میں ہم دوسرے صوبوں کو مرودالزام ٹھہراتے رہے۔ آج تو اکثر صوبے کے انتظامی عہدوں پر ہمارے اپنے لوگ ہی موجود ہیں لیکن لگتا ہے کہ ہم اپنے صوبے کے خود بڑے دشمن بن گئے ہیں۔ حکومت بلوچستان صوبائی وزرا اور مشیروں،کے پاس ان کی کتنی گاڑیاں ہیں اور ماہانہ وزیروں اور مشیروں کو کتنا ڈیزل، پیٹرول جاری کیا جاتا ہے کسی بھی کمپنی کی نئی گاڑی ابھی کمپنی میں بنی بھی نہیں ہے اور سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں کھڑی ہوتی ہے۔جو بھی چیف سیکرٹری بلوچستان یہاں سے تبدیل ہوتا ہے تو وہ حکومت بلوچستان کی ملکیتی گاڑیاں ساتھ لے کر جانا اپنی استحقاق سمجھتا ہے۔ ابھی سابق چیف سیکرٹری بلوچستان سے دو گاڑیاں ہم نے حکومت بلوچستان کو واپس دلوائی ہیں۔ حکومت بلوچستان درخواست میں اٹھائے گئے تمام نکات پر مفصل جواب جمع کرائیں۔ یہ حکم جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس کامران خان ملاخیل پر مشتمل بینچ نے بایزید خان خروٹی بر خلاف چیف سیکرٹری بلوچستان کے آئینی درخواست نمبر750/2021کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیا۔سماعت کے دوران درخواست گزار گزشتہ دو سالوں میں بلوچستان حکومت نے گاڑیوں کی خریداری، تیل اور مرمت کی مد میں 8 ارب روپے خرچ کئے ہیں۔حکومت بلوچستان کی خریدی گئی 4 بم پروف گاڑیوں کا کسٹم کلیرنس اور دیگر کاغذات منگوائیں، کیونکہ خدشہ ہے کہ گاڑیاں نان کسٹم پیڈ ہیں جبکہ قیمت کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ادا کی گئی ہے سکریڑی فنانس بلوچستان کو حکم دیا جائے کہ وہ نئے مالی سال کی ایس این ای میں کسی بھی قسم کی گاڑی کیلئے رقم مختص نہ کریں کیونکہ بلوچستان حکومت کے پاس گاڑیاں پہلے وافر مقدار میں ہیں جو کی اخراجات بڑھانے کے سوائے کچھ نہیں جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبے میں کیا چل رہا ہے؟ سمجھ ہی نہیں آ رہی ہرطرف انتظامی امور میں لا قانونیت دکھائی دے رہی ہے۔وزیروں کو کتنی گاڑیاں دی گئی ہیں؟ ہم بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں جب سڑکوں پر نکلتے ہیں کہ ہر طرف شہر میں وزیر ہی وزیر ہیں۔ کتنی گاڑیوں پر ایک وزیر کو نمبر پلیٹ لگانے کی اجازت ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل ارباب طاہر نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ صرف ایک گاڑی وزیر کو دی گئی ہے جس پر وزیر کا اپنے محکمے کا نمبر پلیٹ نصب کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ان کو کہا کہ ہم بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں ہم کیا شہر میں نہیں نکلتے لازمی نہیں ہے کہ چیف جسٹس کی سرکاری گاڑی میں نکلیں ہمیں سب کچھ پتہ ہے۔ جسٹس کامران ملا خیل نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے لکھا ہے کہ آفیسران اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے کیلئے سرکاری گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، کیا سرکاری گاڑی میں بچے سکولوں میں لیجائے جاسکتے ہیں، گاڑیوں کے استعمال کا طریقہ کار کیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری گاڑیوں حکمران طبقے کے اہل خانہ کو لانے لے جانے اور سیر و تفریح کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔بار بار حکومت بلوچستان کے پاس کتنی گاڑیاں ہیں اور کن کے استعمال میں ہیں کہ متعلق معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ جن لوگوں کو یہ تحریری یازبانی طور پرالاٹکی گئی ہے کیا وہ اِن ٹائٹل ہے یا نہیں معلوم نہ ہوسکا مالی سال2019-20 میں حکومت بلوچستان نے تمام بلوچستان میں 5 ارب50 لاکھ روپے خرچ کئے ہیں جسمیں تیل(پی او ایل)کی مد میں 2 ارب 98 کروڑ 6 لاکھ 80 اسی ہزار 713 روپے گاڑیوں کی خریداری کی مد میں 1 ارب 44 کروڑ،5 لاکھ 96 ہزار 2 سو باسٹھ روپے جبکہ گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 58 کروڑ، 37 لاکھ، 99 ہزار 824 روپے خرچ کیں۔ جبکہ 2020-21 میں 1-07-2020 سے28-02-2021 تک 2 ارب 62 کروڑ، 40 لاکھ 3 ہزار 264 روپے خرچ کیے ہیں جسمیں تیل(پی او ایل)کی مد میں 1 ارب، 71 کروڑ، 28 لاکھ،68 ہزار 991 روپے گاڑیوں کی خریداری کی مد میں 55 کروڑ، 42 لاکھ,86 ہزار 636 روپے جبکہ مرمت کی مد میں 35 کروڑ 68 لاکھ،47 ہزار 637 روپے کی خطیر رقم خرچ کیے ہیں کہ جو رقم بلوچستان کی عوام میں تقسیم کی جائے تو ہر گھر کو ایک گاڑی مالکانہ حقوق پر مل سکتی ہے حکومت بلوچستان کے پاس سرکاری گاڑیوں سے متعلق کوئی پالیسی نہیں ہے بلوچستان سیکرٹریٹ کے ایک محکمے میں سیکشن آفیسرسے لیکر سیکرٹری تک ہر ایک کے پاس گاڑی ہے بلکہ کچھ افسروں کے پاس گاڑیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جبکہ کسی محکمے کے صرف ایڈیشنل سیکرٹری اور سیکرٹری کو یہ سہولت دی گئی ہے۔ یہ سب غیر قانونی عمل عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے آج یہ بات ریکارڈ پر لارہا ہوں کہ اس سے زیادہ اس غریب عوام کے زیادتی کیا ہوگی کہ جس صوبے کا ٹرانسفر ہونے والا چیف سیکریڑی 13 گاڑیاں دبا کر بیٹھا ہواہے اکثر وزراء کے پاس سینکڑوں گاڑیاں ملک کے مختلف شہروں میں زیر استعمال ہیں جو کہ بلوچستان حکومت کی ملکیت اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدی گئی ہیں۔ حیران کن طور پر انہی سرکاری گاڑیوں میں باسانی صوبہ کوئٹہ کے کسی بڑے پرائیوٹ سکول کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھا جا سکتا ہے کہ آفسران کے بچوں کو سکولوں کیلئے چھوڑنے کے لئے استعمال کیئے جاتے ہیں عدالت عالیہ اکانٹنٹ جنرل بلوچستان کو حکم دیں کہ تمام سرکاری ملازمین جن کو سرکاری گاڑیوں کی الاٹمنٹ ہوئی ہے، اس گاڑی کا نمبر متعلقہ آفیسر کے پے سلپ میں شامل کیا جائے۔تنخواہ کنوینس الانس کی اس نمبر کے تحت کٹوتی کا ذکر کیا جائے ایک اعلی سطحی کمیٹی بنائی جائے جو ہر تین ماہ بعد اجلاس کا انعقاد کرے جس میں ہر محکمے کا سیکرٹری بذات خود پیش ہوکر گاڑیوں کی تفصیلات، ان پر گزشتہ 3 ماہ آنے والے اخراجات کی تفصیلات کے ساتھ جمع کرانے کا پابند ہو اور تمام ملازمین جن کو گاڑیاں الاٹ کی گئی ہیں، کی پے سلپ جس میں متعلقہ گاڑی کا ذکر کیاگیا ہوجمع کرانے کا پابند بنایا جائے۔ دفتری اوقات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد کردی جائے، سرکاری گاڑیوں پر متعلقہ محکمے کا نام اور اسٹیکر آویزاں کیا جائے۔ 1999 کے بعد کئے گئے ایس اینڈ جی اے ڈی کے آرڈر جس میں گاڑیوں کے استعمال کا کون مجاز ہے، کون مجاز نہیں، کا ذکر ہے جس کے مطابق انتہائی محدود آفیسران کو گاڑی استعمال کرنے کی اجازت ہے، لیکن بلوچستان حکومت نے اس سے پانچ ہزار فیصد زیادہ گاڑیاں کس قانون کے تحت خریدی۔ کسی سرکاری گاڑی کو صوبے سے باہر لے جانے کا کیا طریقہ کار ہے اور کس گریڈ کا افیسر صوبے یا پر جس ضلع کے لیے خریدی گئی ہے۔ سے گاڑی باہر لے جاسکتا ہے اور کس کی اجازت درکارہوگی۔چارہزار سی سی تک گاڑیوں کی خریداری کس قانون کے تحت کی گئی ہے اور ان کے اغراض مقاصد کیا ہیں، گزشتہ 10سالوں میں خریدی گئی گاڑیوں کا ریکارڈ بمعہ وجہ خریداری پیش کیا جائے کہ جن کو بنیاد بنا کر بڑی گاڑیاں خریدی گئی بلوچستان حکومت کے تمام سرکاری محکموں میں موجود افیسران اور محکموں کے پاس موجود گاڑیوں کی تعداد کتنی ہے۔کیا حکومت بلوچستان کے کسی محکمے کو یہ معلوم ہے کہ حکومت بلوچستان کے پاس کل کتنی گاڑیاں ہے کیا قانونی طور پر سرکاری گاڑی میں افیسران کے بچوں کو سکول چھوڑنے کی اجازت ہے؟ اگر نہیں تو صوبائی دار الحکومت کوئٹہ میں پرائیویٹ سکولوں کے سامنے چھٹی کے وقت کھڑی سینکڑوں گاڑیاں کس قانون کے تحت موجود ہوتی ہیں جو کہ آفیسران کے بچوں کو لے جانے اور لانے کیلئے بڑی تعداد میں کھڑی ہوتی ہیں۔کیا کسی آفیسر کے نام الاٹ کی گئی گاڑی اگر اس کا بچہ یا پھر کوئی اور چلاتا ہے تو اس کیلئے کوئی قانونی سزا رکھی گئی ہے یا نہیں۔حکومت بلوچستان کے پاس کتنے ڈرائیور،کتنی گاڑیاں او ر کتنے آفیسران ہیں؟ حکومت بلوچستان کے تمام محکموں کے سیکرٹریز حلفیہ بیانات جمع کروائیں کہ جسمیں اس بات کا ذکر ہو کہ محکمے کے پاس کل کتنی گاڑیاں ہیں، کتنی گاڑیاں بغیر رجسٹریشن کے ہیں اور کب سے اور کتنی گاڑیاں اب تک چوری ہوئی ہیں اور ان کے FIR درج کیں ہیں یا نہیں۔حکومت بلوچستان کو ہدایت کی جائے کہ وہ گاڑیوں کی الاٹمنٹ اور اتھرائزیشن سے متعلق جلد ازجلد ایک پالیسی وضع کرے تاکہ غریب عوام کے پیسوں کا ضائع روکا جاسکے۔گزشتہ تین سالوں میں صوبے کے تمام سرکاری گاڑیوں پر مرمت اور تیل کا ریکارڈ بمعہ لاگ بک پیش کیا جائے تمام محکمے پول میں کھڑے گاڑیوں کی تفصیلات اور سال بھر کیلئے یہ کن مقاصد کیلئے استعمال کیے گئے او ر ان پر کتنا خرچہ آیا ہے کی رپورٹ جمع کریں پول میں کھڑی گاڑیاں کس مقصد کیلئے ہوتی ہیں اس کی وضاحت تمام محکموں کے سیکرٹری تحریر ی طور جواب کے شکل جمع کرائیں لا اینڈ آرڈر کے علاوہ گزشتہ دس سالوں میں گاڑیوں کی خریداری کا ریکارڈ بمعہ justification کے پیش کرے سیکرٹری ایس اینڈ جی ڈی حلفیہ بیان جمع کرائے کہ بلوچستان کے صوبائی وزرا مشیروں، اسپیشل اسسٹنٹ کے پاس ان کی کونسی گاڑیاں ہیں اور ماہانہ یہ صوبائی وزیر کو کتنا پیٹرول دیتے ہیں۔ ساتھ ہی اس سال ماہوار وزیروں اور مشیروں کو کتنے ڈیزل، پیٹرول جاری کیا گیا ہے۔ تمام نیم خود مختار صوبائی ادارے کے سربراہان بیان حلفی جمع کرادے کہ ان کے کتنی گاڑیاں وزیروں مشیروں کو استعمال کیلئے دی گئی ہے۔ بلوچستان کے تمام محکموں میں چلنے والے پروجیکٹس کے سربراہان بیان حلفی جمع کرائیں کہ ان کے پروجیکٹس کی ملکیت کی کتنی گاڑیاں وزیروں، مشیروں اور ان کے نجی و سر کاری اسٹاف کے استعمال میں ہیں تمام محکموں میں پول میں کھڑی گاڑیاں اور پول سسٹم ختم کرنے کے احکامات دئیے جائیں۔ تمام محکموں کے سیکرٹریز اور نیم خود مختار ادارے اور پروجیکٹس کے سربراہان سے بیان حلفی لیا جائے کہ ان کے یا ان کے اہل خانے کے استعمال میں سرکاری کی ایک گاڑی کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں ہے اور نہ ہی اس سے قبل اپنی جائے تعیناتی کی کوئی گاڑی ان کے اہل خانہ، دوستوں یا ان کے ذاتی استعمال میں نہیں ہے۔ تمام محکموں کے سربراہان سے گاڑیوں کے براہ راست خریداری کے اختیارات لے کر سیکرٹری ایس اینڈ جی ڈی اور سیکرٹری فنانس پر مشتمل کمیٹی کے حوالے کئے جائے جہاں پر ہر محکمہ کا سربراہ باقاعدہ اپنی ضرورت کے مطابق گاڑیوں کی ڈیمانڈ جمع کرائے اور گاڑی خرید کر کے رجسٹریشن سیکرٹری ایس اینڈ جی ڈی کے نام پر کرا کر کے متعلقہ محکمے کے حوالے کیا جائے اور اس کا ریکارڈ ایس اینڈ جی ڈی کے پاس لازمی رکھنا چاہیے حکومت بلوچستان کے پاس کل کتنی چھوٹی، بڑی گاڑیاں ہیں کتنی گاڑیاں ان روڈ اور کتنی گاڑیاں اف روڈ ہے یہ کہ دفتری اوقات کار کے بعد کوئی سرکاری گاڑی کوئی افسر استعمال نہ کرے جس سے حکومت پر ناجائز ایندھن کی مد میں ضائع ہونے والا سرمایہ بچ سکے عدالت عالیہ درخواست باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئی اگلی سماعت پر مفصل جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔


