فی الحال ہو اکا رخ نہیں بدلا۔۔۔۔۔!

رشیدبلوچ
ہمارے معاشرے میں بے ضرر ہونا،اپنے کام سے مطلب رکھنے، کسی کی اونچ نیچ اور پنچایت میں نہ پڑنے اور اپنے سلیکے سے جی لینے کی بھی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے لکھنے اور پڑھنے کیلئے ذہنی یکسوئی کا ہونا لازمی ہوتا ہے،پورے رمضان میں نہ لکھنے کی وجہ اپنی کاہلی اور سستی تھی، ارادہ کیا تھا کہ رمضان کے فوری بعد لکھنے کا عمل ایک ماہ کی تعطل کے بعد دوبارہ شروع کروں کافی مہینوں سے یہ بھی ارادہ کر رکھا ہے کہ بلوچستان کی صحافت اور سیاست پر دو،ڈھائی سو صفحوں پر مشتمل ایک کتاب کی لکھی جائے، کتابی پروجیکٹ پر تھوڑا بہت مواد اکھٹا بھی کیا جا چکا ہے مزید مواد تلاشنے کی تگ و دو جاری ہے، پر عید کے پہلے دن سے ایک ناگہانی پریشانی آن پڑی یا تھوپ دی گئی جس کی وجہ سے زہنی پریشانیاں چاروں طرف حملہ آور ہیں، بلوچستان میں مختلف ایشوز ہیں جن پرلکھنے کیلئے اندر کا آتما بے چین کر رہا تھا جب کہ مضطرب زہن انگلیوں کو کی بورڈ پر کچھ بھی لکھنے کی اجازت دینے سے قاصر تھا، اندر کے آتما اور زہنی اضطراب کی لڑائی میں آخر کار آتما جیت گئی، آتما نے تسلی دی کہ جو تمہارے ساتھ ہوا نہ جانے اس بد بخت صوبے میں کتنے لاچار لوگوں کے ساتھ ہوا ہوگا، زندگی کا سفر طویل ہے آگے چلتے رہنا چاہئے کیونکہ چلتی کا نام زندگی ہے آگے جو ہوگا قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے۔
بلوچستان میں ایک بار پھر کابینہ میں تبدیلی، استعفیٰ دینے کی بازگشت چاروں اور سنائی دے رہی ہے، جام کمال سے,, ناراض اراکین،، کی آپس میں درون پردہ ملاقاتیں رمضان المبارک سے شروع ہوئی تھیں،دعویٰ کیا جارہا تھا کہ 22اپریل تک وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد,, پکی،، ہوچکی ہے، خیر سے اپریل کی 22تاریخ گزر گئی لیکن جام کمال سابق وزیر اعلیٰ نہیں ہوئے، دنیا ئے صحافت ہمیشہ خبروں کی بھوکی رہتی ہے جب صحافت بھوکی رہے گی تو صحافی کا توا ٹھنڈا پڑے گا، اسے کھانے کو کچھ نہ کچھ مصالحہ لگی خبریں چاہیئے ہوتی ہیں، جام کمال خان سے ناراض اراکین اپنے مطلب کی خبر رپورٹرز کو فیڈ کراتے رہتے ہیں جس کے اچھی خاصی شہہ سرخی بن جاتی ہے جس سے صحافی کی نوکری بچی رہتی ہے اور ناراض ایم پی ایز کسی حد تک اپنا مطلب بھی پورا کر لیتے ہیں، اگر جائزہ لیا جائے جائے بلوچستان کی 41حکومتی اراکین میں کتنے لوگ ہیں جنہوں نے کھل کر جام کمال خان کی مخالفت میں سامنے آنے کی ہمت کی ہے؟ جن ناراض اراکین سے متعلق میڈیا میں خبریں چھپ رہی ہیں انکی تعداد بھی تین، چار سے زیادہ نہیں، اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبد القدوس بزنجو کی ناراضگی آج کی نہیں جب سے جام کمال خان وزیر اعلیٰ بنے ہیں ان کی ناراضگی اسی دن شروع ہوئی ہے ناراضگی اب تک جاری ہے، میر قدوس بزنجو پھر بھی گاہے بگاہے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن انہوں نے بھی طویل عرصے سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، حال ہی میں سینٹ انتخابات ہوکر گزرے ہیں، سینٹ انتخابات کے پورے دورانیے میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے چھپ سادہ رکھی تھی حالانکہ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ سے اپنے کسی عزیز کو سینیٹر بنانے کوشش کریں گے لیکن انہوں نے ایسی کوئی سعی نہیں کی، کسی وقت میر عبد القدوس بزنجو کے ساتھ سرفراز ڈومکی نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا ان کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا،سردار سرفراز ڈومکی تھوڑی بہت شور شرابہ کے بعدشانت ہوگئے جو اب تک شانت ہی ہیں،اب میر عبدالقدوس بزنجو کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کے اندر ناراض اراکین میں سردار محمد صالح بھوتانی اور میر ظہور بلیدی کا نام سامنے آرہے ہیں،ان میں سردار صالح بھوتانی جام کمال خان کی مخالفت میں سامنے آگئے ہیں، سردار بھوتانی کا جام کمال سے ناراض ہونا بلاوجہ بھی نہیں، سردار صالح بھوتانی اور جام کمال خان ایک ہی ضلع اور علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، دونوں کی سیاسی مفادات آپس میں متصادم ہیں،کسی ایم پی اے یا سیاسی فرد کیلئے ضلعی انتظامیہ خاصی معنی رکھتا ہے، مرضی و منشاء کا ضلعی انتظامیہ کسی بھی با ثر شخصیت کی اثر نفوس کو مزیدبڑھاوا دینے کا زریعہ ہوتا ہے،وزیر اعلیٰ جام کمال کی طرف سے ضلع لسبیلہ میں ضلعی انتظامیہ کی اتل پتل کی وجہ سے سردار صالح بھوتانی ناخوش ہیں،ایک میان میں دو تلوار یں توشاید سما ئے جاسکیں لیکن ایک ضلع میں دو سردار وں کاآپس میں خوش و خرم رہ پانا ممکنات میں سے نہیں اس لئے جام کمال خان اور سردار صالح بھوتانی کے درمیان چپقلش ختم ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔۔
حکومت کے شروع دنوں میں وزرا ء میں میر ظہور بلیدی کو جام کمال کے بہت ہی قریبی مانا جارہا تھا،سرکاری دورے پر میر ظہور بلیدی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے شانہ بشانہ نظر آرہے ہوتے تھے،اسی قربت کی وجہ سے جام کمال خان نے میر ظہور بلیدی کو اطلاعات کے جھنجٹ والی وزارت کے بجائے خزانے کی زمہ داری سونپ دی تھی، میر ظہور بلیدی کی وزیر اعلیٰ جام کمال سے اچھی خاصی رفاقت چل رہی تھی نہ جانے یہ اچانک کی دوریاں کیوں پیدا ہوگئیں؟ ان کا خیال ہے کہ میرے ایک آرٹیکل کی وجہ سے انکے اور جام صاحب کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئی ہیں، 29جولائی2020 امیں نے ایک کالم,, جام کمال مستحکم ہیں،، روزنامہ انتخاب میں لکھا تھا،حالانکہ میرے کالم میں اپنے دوست کو نقصان پہنچانے والی کوئی بات نہیں تھی، چونکہ ہمیشہ
بڑے لوگوں کا نزلہ ہم جیسے چھوٹے لوگوں پر پڑتا ہے تو لا محالہ میر ظہور بلیدی کا نزلہ بھی ہم پر ہی گرا، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ناراضگی کی اب تو حال یہ ہے کہ میر ظہور بلیدی کو حالیہ ہونے والے کابینہ اجلاس میں بھی مدعو تک نہیں کیا گیا، میر ظہور بلیدی بلے ہی بظاہر اپنی ناراضگی کی تردید کریں لیکن آثار بتا رہے ہیں کہ وہ جام صاحب کی بے رخی سے کافی نالاں ہیں،ہمارے ریتی رواج میں شامل ہے کہ ایک فریق سے ناراضگی کے بعد دوسرے فریق سے ہاتھ ملانا پڑتا ہے، میر ظہور بلیدی نے بھی جام صاحب کی ناراضگی کے رد عمل میں میر عبدالقدوس بزنجو کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی ہے لیکن اپنے بڑھتے ہوئے ہاتھ چھپانا بھی چاہتے ہیں، بلے ہی میر ظہور بلیدی ہم سے ناراض ہوں ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حالات خود سے موافق نہیں ہوتے بلکہ حالات کو اپنے موافق لانے کی کوشش کی جاتی ہے،اب بھی ہوا کا رخ اسی طرف ہے جو29جولائی2020کو تھا،جب تک پوری طرح ہوااپنی سمت نہیں بدلے گی دو چار اراکین کی ناراضگی سے جام حکومت کوکو ئی خطرہ دپیش نہیں ایسا بھی نہیں کہ جام کمال خان سے انکے کابینہ اور حکومتی اتحادی خوش ہیں،اپنے نجی محفلوں میں سرگوشیؤں میں جام کمال کے خلاف دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں لیکن سب کو پتہ ہے فی الحال سرگوشیوں میں ہی ناراضگی جتانے میں عافیت ہے۔