اپوزیشن عوام کو سادہ زبان میں سمجھائے
اپوزیشن اور ماہرین معیشت کا فرض ہے کہ عوام کو ملکی معیشت کے بارے میں سادہ زبان میں سمجھائیں اور زمینی حقائق کی مدد سے بتائیں کہ ملک جون 2018 میں جس مقام پر تھا آج اس سے بہتر حالت میں ہے، اسی مقام پر کھڑا ہے یا اس سے خراب پوزیشن پر آ گیا ہے۔ اپوزیشن تین چار سوالات سامنے رکھے؛۔۔۔اول یہ کہ پاکستان کو جون2018میں کتنا غیر ملکی قرضہ(ڈالروں میں) فوری ادا کرنا تھا؟ اوراس فوری ادائیگی کے لئے کتنے ڈالر پاکستان کے بینکوں میں موجود تھے؟۔۔۔دوم یہ کہ آج پاکستان کو فوری ادائیگی کے لئے کتنی رقم(ارب ڈالر؟)درکار ہے اور اس کے مقابلے میں بینکوں میں کتنے ارب ڈالر موجود ہیں؟2018میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کتنے ارب ڈالر پاکستان بھیج رہے تھے اور آج(کورونا کے باوجود) کتنے ارب ڈالر بھیج رہے ہیں؟۔۔۔ سوم یہ کہ پاکستان کی برآمدات کا حجم2018میں کتنے ارب ڈالرتھا اور آج کتنا ہے؟یہ سوال اصل زمینی حقائق سے متعلق ہیں، ان کی جانچ پڑتال آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لئے ضروری ہیں۔باقی سب مفروضے ہیں، داستانیں ہیں،جنہیں اعدادوشمار کی صورت میں دکھانا ممکن نہیں یا فوری دستیاب نہیں۔اس کے بعد یہ بتایاجائے کہ 2018میں شعبہ وار(ٹیکسٹائل، سیمنٹ، سریا، آٹوز وغیرہ)صنعتی پیداوار کتنی تھی؟ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جائے کہ”کارکے(رینٹل پاور)“ اور”ریکوڈک کاپر اینڈ گولڈ پراجیکٹ“ تنازعات ماضی میں کس حکومت کے دور میں پیدا ہوئے؟ جون2018میں کس پوزیشن پر تھے؟اور آج پاکستان پر یہ تنازعات کیا اثرات مرتب کر رہے ہیں؟ان سوالات کا جواب عوام کی فہم و فراست کے مطابق فراہم کردیاجائے تو پاکستان کی 98فیصد آبادی با آسانی جان لے گی کہ ملک، عوام یا ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے کے ذمہ دار کون ہیں؟یاد رہے حکمرانوں کے کئے گئے معاہدوں کے اچھے یا برے اثرات عوام برداشت کرتے ہیں۔گردشی قرضہ جس حکومت کے معاہدوں کی بناء پر پاکستان کے عوام پرلادا گیا اس حکومت کو یہ ذمہ داری قبول کرنا چاہیئے۔شاید یہ حقیقت معاہدوں پر دستخط کرنے والوں کے نزدیک اتنی حقیر اور معمولی ہو کہ وہ سننا بھی گوارہ نہ کریں لیکن ایسے معاہدے سیاست کی الف،بے سے بے خبراور ملکی معاملات سے لاتعلق عوام کی کمر دہری کرنے کا سبب بنتے ہیں۔یہ معاہدے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔ کئی دہائیوں تک ان معاہدوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔واضح رہے کوئی حکومت 15سال کے لئے معاہدہ پر دوستخط کر دیتیم ہے تو آنے والی تمام حکومتوں کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ 15سال تک جاری رکھیں۔پہلے ختم کریں تو عالمی عدالتیں اس اقدام کو جرم قرار دے کر قیمتی اثاثے ضبط کر لیتی ہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت نے عالمی عدالتوں میں پاکستان کی قانونی پوزیشن ثابت کی ورنہ 7ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی پاکستانی معیشت کو زمیں بوس کر دیتی۔سیاست کا محور عوامی مفاد ہونا چاہیئے۔ اپوزیشن عوام کے سامنے ایسے اقدامات لائے جوپی ٹی آئی کے معاہدوں میں پائی جانے والی کاروباری بددیانتی کو آشکار کرے، تسلیم شدہ تجارتی اقدار کے منافی ہو۔اپوزیشن کو شکایت ہے کہ حکومت بعض بے بنیاد مقدمات بنا کراپوزیشن کو عدالتوں میں لے آئی ہے،ایسے میں اپوزیشن تاخیری حربے نہ خود استعمال کرے اور نہ ہی حکومت کو کرنے دے۔ جتنی جلدی ممکن ہواپنی بے گناہی ثابت کرے،اورعوام میں آکر حکومتی بد دیانتی اور ظلم کے شواہد پیش کرتے ہوئے عوام کی مدد سے حکومت کو چلتا کرے۔لیکن ملکی سیاسی منظر نامہ اس کے برعکس ہے۔ فرد جرم عاید کئے جانے میں متعلقہ فریق ہر حربہ استعمال کرتا ہے کہ یہ قانونی کارروائی نہ ہونے پائے۔عام آدمی تصویر کے اس رخ سے بھی باخبر ہے۔اپوزیشن کوجلد یا بدیر احساس ہوجائے گا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سے نجات حاصل کرنے کے لئے عدالتوں سے باہر ریلیف نہیں ملے گا۔ نون لیگ کے ترجمان جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی صلح ہوگئی ہے تو وہ اپنا کیس کمزور کر لیتے ہیں۔عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرکے الزامات سے بری ہونے اور طاقتور فریق سے کوئی سمجھوتہ کرکے اپنی بریت اور جیت کا دعویٰ کرنے میں بہت فرق ہے۔اپوزیشن ہرملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔پاکستان میں بھی اس کا کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ یورپی ممالک میں نظر آتا ہے۔لیکن اس کے لئے اپوزیشن کو اپنی سمت طے کرتے وقت یورپی اپوزیشن والے معیار کو سامنے رکھنا ہوگا۔ اب ماضی والے سست رفتار ذرائع ابلاغ نہیں اور نہ ہی عوام کا حافظہ ماضی جیسا کمزور ہے۔اگر ایسا ہوتا تو نون لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف کے دعوے کے مطابق عوام نصف دہائی قبل مانگی جانے والی منی ٹریل کو بھول چکے ہوتے۔جدید دور کے جدید تقاضوں سے آنکھیں بند کرنا درست نہیں۔ ماضی میں پرنٹ میڈیا جو کردار ادا کرتا تھا وہی حکومتوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا تھا، آج الیکٹرانک میڈیانے عوامی حافظے کو بہت مضبوط کر دیا ہے۔کسی واقعے کو پرانا ہونے نہیں دیتا، برسوں پرانا کہا گیا جملہ کانوں میں گونجنے لگتا ہے،جیسے چند منٹ قبل کہا گیا ہو۔اپوزیشن کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ آج سیاسی تقاضے تبدیل ہو چکے ہیں۔پی ڈی ایم کی تشکیل عجلت میں ہوئی،سوچ بچار کے بعد اسے ایک واضح پیغام اور عوام کے لئے مقبول نعرے سے مزین کیا جاتاتو اتنی جلدی کسی نتیجے کے بغیر ٹوٹ پھوٹ کاشکار نہ ہوتی۔ 10جماعتوں پر مشتمل پلیٹ فارم لمحوں میں 2جماعتوں سے محروم نہ ہوتا۔ سچ یہی ہے کہ کوئی پہلو نظر انداز ہو گیا ہے۔مد مقابل کی قوت کا درست اندازہ نہیں لگایاگیا،غلط اندازوں اور مفروضوں پر طے کی جانے والی حکمت عملی کا نتیجہ سامنے آ چکا ہے۔آئندہ حکمت عملی مفروضوں پر نہ بنائی جائے۔ حقائق پر مبنی ہوتاکہ دیرپا اور نتیجہ خیز ہو۔شہباز شریف ایک تجربہ کار، سردو گرم چشیدہ اور متحمل مزاج سیاست دان ہیں،تو ڑسے زیادہ جوڑ کو اہمیت دیتے ہیں۔اگلے روز انہوں نے ایک بار پھر اسی جذبے کا اظہار کیاہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کو ملکی مفاد میں پیر پکڑ کر منانے کی کوشش کریں گے،اور انہیں یقین ہے کہ بڑے بھائی مان جائیں گے۔دیکھنایہ ہے آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کیا رخ اختیار کرتی ہے؟اور شریف فیملی کے لئے کتنی گنجائش نکلتی ہے؟


