آمریت یا جمہوریت

تحریر: انورساجدی
قومی اسمبلی میں سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو جس طرح رسوا کیا وہ پارلیمانی تاریخ کا بدترین واقعہ تھا اس بے ہودگی سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے یہ جو ڈو کراٹے والا سسٹم ہے یقینی بات ہے کہ ایسے واقعات کے ذریعے عوام کی ذہن سازی کی جائے گی تاکہ وہ ریاست کے نظام میں بنیادی تبدیلی کیلئے تیار رہیں۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ 2سو الیکٹیلز جو 1985ء سے اب تک تواتر کے ساتھ لوٹے بن کر ہر الیکشن کے وقت پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں موجودہ نظام کی ناکامی کے جزوی ذمہ دار یہی لوگ ہیں لیکن جو عناصر ہر الیکشن سے پہلے کنگز پارٹیاں بنواتے اور ان لوٹوں کو ان میں جمع کرتے ہیں ساری حرابوں کے بنیادی ذمہ دار وہی ہیں۔
آثار بتا رہے ہیں کہ آئندہ دو سال کے دوران کئی طوفان آئیں گے لیکن انہیں روکنے کیلئے سیاسی جماعتوں میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ کوئی پیش بندی کر سکیں۔
اسلام آباد میں وکلاء اور میڈیا کے کنونشن میں اسٹیٹ کے چند ناپسندیدہ رہنماؤں نے جو تقاریر کی ان میں ممکنہ تبدیلیوں کا عندیہ ملتا ہے سیاسی اعتبار سے معطون رہنماء افراسیاب خٹک نے کہا کہ اس وقت ملک میں صرف ایک ہی جماعت ہے اور باقی تمام جماعتیں اس کی شاخیں ہیں یہ جماعتیں انتہائی تابعداری کے ساتھ احکامات کی بجا آوری کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایک غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے جو گزشتہ مارشل لاؤں سے بدترین ہے۔
18ویں ترمیم کے مصنف میاں رضا ربانی نے ڈپلومیسی کی زبان میں بات کی لیکن صورتحال کا کما حقہ احاطہ کیا انہوں نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں وکلاء میڈیا اور سول سوسائٹی کو مل کر حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے لیکن انہوں نے یہ وضاحت نہیں دی کہ سیاسی جماعتوں میں مزاحمت کی قوت باقی ہے کہ نہیں انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ وکلاء سیاسی عناصر اور دیگر طبقات کو تقسیم کر دیاگیا ہے جج صاحبان بھی تقسیم ہیں اور حکومت آزاد جج صاحبان کے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہے تاہم انہوں نے جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت صدیقی کا نام لینے سے گریز کیا البتہ یہ کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ نے آئین شکنی پر جنرل پرویز مشرف کو جو سزا دی وہ بالکل درست تھی لیکن اس تاریخی فیصلے کو ایک اور عدالت کے ذریعے ختم کروا دیا گیا۔
اپنے میر علی احمد کرد نے حسب سابق ایک نہایت جذباتی تقریر کی اور کہا کہ یہ ملک 22کروڑ عوام کا نہیں بلکہ چوہدریوں، وڈیروں، سرداروں اور سرمایہ داروں کا ہے انہوں نے کہا کہ اپنی زندگی میں برسوں تک ایک متحرک سیاسی کارکن رہے ہیں لیکن گزشتہ 30برسوں سے ان کی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں ہے کیونکہ ان سیاسی جماعتوں نے مایوس کیا ہے تقاریر تو اور بھی بہت ہوئیں لیکن ایک ملک گیر تحریک کیسے چلے گی اس کا خدوخال کسی نے نہیں بتایا حالانکہ ریاست اس وقت جس صورتحال سے دوچار ہے پہلے کبھی نہیں تھی حتیٰ کہ مارشل لاؤں کے دور میں بھی حالات ایسے نہیں تھے بنیادی انسانی حقوق جس طرح پامال ہو رہے ہیں شہری آزادیاں جس طرح سلب ہو رہی ہیں میڈیا کو غیر اعلانیہ سنسر شپ کے ذریعے جس طرح کنٹرول کیا جا رہا ہے اس کی یہ نظر کسی بھی نام نہاد جمہوری دور میں موجود نہیں ہے۔
حکمران میڈیا کو ختم کرنے کیلئے کمر بستہ ہیں اور انہوں نے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک قانون بھی تیار کیا ہے جس کے نفاذ کے بعد کوئی آزاد میڈیا باقی نہیں رہے گا خاص طور پرنٹ میڈیا کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائیگا جبکہ میڈیا چینلزکو پی ٹی وی سے بھی بدتر بنایا جائیگا جبکہ اظہار رائے کے سب سے موثر پلیٹ فارم سوشل میڈیا کو بھی تابع فرمان بنایا جائیگا اگر حکومت اپنے ارادوں میں کامیاب رہی تو پاکستان کی صورتحال شمالی کوریا، چین اور روس جیسی ہو جائیگی۔
میڈیا کی روح قبض کرنے کا مقصد پہلا قدم ہے اس کے بعد ٹریڈ یونین اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں بھی قانون سازی کی جائے گی جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی حیثیت رجسٹرڈ تنظیموں کی طرح ہو جائیگی وہ اپنی وقعت اور آزادانہ کردار کھو بیٹھیں گی یہ خاکہ ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد 1973ء کے آئین کو لپیٹ کر ملک میں صدارتی نظام لانا ہے 2018ء میں تحریک انصاف کو اسی منصوبہ پر عملدرآمد کیلئے لایا گیا جناب عمران خان شروع دن سے ایوب خان کی حکمرانی اور اس دور کی ترقی کے گن گا رہے ہیں بلکہ انہوں نے آج یعنی جمعہ کے روز بھی ایوب خان دور کی تعریف کی اور کہا کہ اس دور میں تربیلا اور منگلا ڈیم بنائے گئے وہ بھول گئے کہ دونوں ڈیموں کے بدلے میں چار دریاؤں کا حق مالکانہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے انڈیا کو دیدیا گیا اس نے کشمیر میں کئی ڈیم بنا کر پانی آنے کا ذریعہ بند کردیا ہے اگرچہ عمران خان خود کو ایک خودمختار حکمران کے طور پر پیش کر رہے ہیں لیکن کسے پتہ نہیں کہ وہ ملک چلانے کا اختیار نہیں رکھتے بلکہ محض ایک سہولت کار اور فرنٹ مین لیڈر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں کوشش کی جائے گی کہ ان کے ذریعہ صدارتی نظام لاگو کیا جائے اس کے بعد ہمیشہ کیلئے عمران خان کی چھٹی کر دی جائیگی بلکہ اقتدار سے اتر جانے کے بعد ان کے خلاف سینکڑوں مقدمات بنا کر ان کا جینا محال کر دیا جائیگا۔
اپنے تئیں عمران خان اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ اٹلی کے آمرمسولینی اور فرانس کے خود ساختہ شہنشاہ نپولین بونارٹ بن جائیں گے لیکن انہیں معلوم نہیں کہ دونوں آمروں کا انجام کیا ہوا تھا۔
اگرمسولینی کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی فاشسٹ پارٹی اور موجودہ تحریک انصاف میں کئی چیزوں کی مماثلت ہے مسولینی ہر بڑے فیصلے کے بعد ایک یوٹرن لے کر اسے بدل دیتے تھے مثال کے طورپر جوانی میں ان کے ہیرو کارل مارکس تھے اور وہ اٹلی میں کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبارات کے ایڈیٹر تھے لیکن جب انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا تو وہ کمیونزم اور کارل مارکس کے بدترین مخالف بن گئے پہلے وہ ٹریڈ یونینوں کے ترجمان تھے لیکن اچانک یوٹرن لے کر ٹریڈ یونین کے مخالف بن گئے مسولینی نے پارٹی بنانے کے بعد 22سا تک دھکے کھائے لیکن کوئی کامیابی نہ ملی اس کے بعد اچانک فوج ان کے ساتھ مل گئی انہوں نے اپنی پارٹی کے دو ونگ بنائے تھے ایک سیاسی اور ایک عسکری اس کا عسکری ونگ سیاہ لباس پہنتا تھا اور مخالفین پر حملے کرتا تھا فوج کے مل جانے کے بعد انہوں نے میلان میں بیٹھ کر اعلان کیا کہ اگر اٹلی کے وزیراعظم نے استعفیٰ نہیں دیا تو وہ روم کی طرف مارچ کریں گے اور وہاں پر بادشاہ وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیں گے حکومتی جواب ملنے سے پہلے فاشسٹ پارٹی نے روم کی طرف مارچ شروع کر دیا اسی دوران بادشاہ نے انہیں ٹیلیگرام کے ذریعے وزیراعظم بننے کی دعوت دی بس پھر کیا تھا جب مسولینی روم پہنچا تو لاکھوں افراد ان کے استقبال کیلئے موجود تھے مخالفین کو سیاہ پوش فاشسٹوں نے مار مار کر قتل کر دیا تھا مسولینی نے وزیراعظم بننے کے بعد ملک کا آئین بدل دیا خود وزیراعظم اور کمانڈر انچیف بن گیا چونکہ اٹلی معاشی طورپر دیوالیہ تھا کیونکہ جنگ عظیم اول میں حصہ لے کر اس کا حلیہ خراب ہو گیا تھا مسولینی نے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے یونان پر حملہ کر دیا لیکن اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی دوران اس نے فرانس اور برطانیہ کو سبق سکھانے کیلئے ہٹلر سے ہاتھ ملا لیا ہٹلر اس وقت جنگ عظیم دوئم کی تیاری کر رہا تھا دوستی کے بعد ہٹلر نے مسولینی کو حکم دیا کہ آسٹریا جرمنی کے حوالے کر دو یہ یورپی ملک جنگ عظیم اول کے دوران اٹلی کے حصے میں آیا اسی دوران مسولینی نے کئی افریقی ممالک پر بھی قبضہ کر لیا۔
لیکن 1945ء میں ہٹلر کی شکست کے بعد وہ بے یارو مددگار ہو گئے انہیں اقتدار سے علیحدہ کیا گیا سردیوں سے پہلے وہ پناہ گزینوں کے اندر چپ کر سوئٹزرلینڈ بھاگ رہے تھے کہ کمیونسٹوں نے اس کوپہچان کر گرفتار کر لیا انہیں پتھر مار مار کر ہلاک کیا گیا اس کی لاش میلان لا گئی جہاں انہیں چوک پر پھانسی پر لٹکا دیا گیا کچھ عرصہ کے بعد ان کی لاش قبر سے نکال کر روم لائی گئی اور اس کی ہڈیوں کو دوبارہ پھانسی پر لٹکایا گیا مسولینی نے اقتدار کی خاطر مسیحی ملاؤں کا تعاون بھی حاصل کیا تھا اور روم شہر کے اندر ویٹی کن سٹی کو ایک آزاد ریاست قرار دیا تھا لیکن آمروں کا انجام اسی طرح نکلتا ہے عمران خان کو چاہئے کہ وہ فاشسٹ پارٹی بنا کر مسولینی کی تقلید سے باز رہیں بلکہ ملک کو صحیح انداز میں چلائیں عوام کی خدمت کریں معیشت کو بحال کریں اور میڈیا کا ناطقہ بند کر کے آمریت کیلئے راہ ہموار نہ کریں کیونکہ آمریت کے قیام کے بعد خود اس میں مدد دینے والے عبرتناک انجام کا شکار ہو جاتے ہیں۔
حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ملک کے آئین پارلیمان اور دیگر اداروں کو مضبوط کریں کیونکہ یہ ریاست ایک دو راہے پر کھڑی ہے غلط فیصلوں سے یہ 1971ء میں بھی دولخت ہوئی تھی وہ بھی آمریت کا دور تھا جبکہ اس وقت حالات اور چیلنجز زیادہ بڑے ہیں اگر غلط فیصلے کئے گئے تو 1971ء سے بھی زیادہ بڑی تباہی آئیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں