وہ تو دوستوں کا عزیز تھا

تحریر: امان اللہ شادیزئی
عزیز بگٹی کا تعلق قبائلی نظام سے تھا اس نے جبر و استدلال کے درمیان عملی دنیا کو منتخب کیا،ادیب تھا مورخ تھا،بلوچستان کا اس کا موضوع تھا جتنا اس کے بس میں تھا اس نے اپنا حصہ ادا کیا اس کی سوچ قبائلی معاشرے میں عملی سفر کو منتخب کیا کالج میں مجھ سے جونیئر تھا اس سے کیسے دوستی ہوئی اب یاد کرتا ہوں تو اس کا نقطہ آغاز رکھ نہیں سکتا جہاں سے عزیز بگٹی نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں اس قریب ہوگیا 1966اور1967کا دور تھا وہ سائنس ڈگری کالج کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا اس سے ملاقات معمول تھا وہ بی ایس او میں اور میں اسلامی جمعیت طلباء سے تعلق رکھتا تھا اس وقت بلوچستان کو صوبے کا درجہ حاصل نہیں ہوا تھا بلوچستان برٹش بلوچستان سے سیاسی سفر کرتاہو ا ڈویژن میں تقسیم ہوگیا تھا برٹش بلوچستان کوئٹہ ڈویژن میں ڈھل گیا اور خان قلات کی بادشاہت قلات ڈویژن کی شکل اختیار کرگیا ان دو ڈویژن کو کمشنر ز چلاتے تھے ان کی حیثیت ایک برٹش لارڈ کی تھی اور ان پر پنجاب کے بالادست حکمران تھے 1954میں ون یونٹ قائمہوگیا۔ون یونٹ پنجاب کے شاطر ذہن کی تخلیق تھا مشرقی پاکستان میں عددی برتری کا خوف ہمیشہ پنجاب کو مضطرب کیا رکھا ون یونٹ ایک شیطانی منصوبہ تھا سب سے حیرت کی بات یہ تھی کہ بلوچستان صوبائی خود مختاری سے محروم رہا ون یونٹ کے فلسفے نے بلوچستان کے حقوق کو 1954سے 1972تک محروم رکھا۔یہ وہ دور تھا جب اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم تھا 1967اور1968میں حلقہ بلوچستان کاناظم تھا جب جنرل یحییٰ خان جنرل ایوب خان کو فارغ کیا اور اقتدار پر قبضہ کیا شاید یہ 1972کا دور تھا جب جنرل یحییٰ خان نے پورے ملک کا دورہ کیا اور ون یونٹ کے حوالے سے سیاسی جماعتوں طلبہ تنظیموں سے رائے لی ہمیں بھی دعوت دی گئی موجودہ گورنر ہاؤس میں جنرل یحییٰ خان سے طلبہ تنظیموں کی لیڈروں نے ملاقات کی میرے وفد میں ضیاء الدین صافی مرحوم،مرزا رشید بیگ تھے بی ایس او کے وفد میں خیر جان بلوچ،عزیز بگٹی اور حکیم لہڑی،سعید اقبال اور دیگر طالب علم تھے۔بسم اللہ خان کاکڑ محمد اکرم کاسی اور دیگر عہدیدارتھے یہ ایک بھر پور نمائندگی تھی اس کے بعد جنرل یحییٰ خان مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے دو سینئر ججز پر مشتمل ایک تربیونل بنایا اس ٹربیونل سے نواب خیر بخش مری،سردار عطاء اللہ خان مینگل،نواب اکبر بگٹی،عبدالصمد خان،جمعیت اسلامی کے مجید خان،مسلم لیگ کے یحییٰ بختیار مرحوم اور دوسرے زعماء شامل تھے نے ملاقاتیں کیں۔
مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ٹربیونل سے ملاقات میں خیر جان بلوچ،جمعیت کی طرف سے میں شامل تھا ٹربیول کے سیکرٹری نے مجھ سے پوچھا کہ آپ علحیدہ ملاقات چاہتے تھے تو میرا جواب تھا نہیں میں بی ایس او کے صوبائی صدر خیر جان بلوچ کے ہمراہ ملاقات کا خواہش مند ہوں اس طرح ہم دونوں اکھٹے ملاقات کی خیر جان بلوچ کے موقف اور میرے موقف میں ہم آہنگی تھی دونوں ججز بڑے حیران تھے جب ایک سوال کے جواب میں میرا موقف وہی تھا جو خیر جان بلوچ مرحوم کا تھا یہ میرا سفر طالب علم کا دور تھا اور ایوب خان کے خلاف تاریخی جدوجہد میں اسلامی جمعیت طلبہ شامل تھی۔اور ہم بی ایس او کے بہت قریب ہوگئے تھے یوں عزیز بگٹی سے بہت زیادہ قربت ہوگئی تھی ان سے ہفتے میں ایک دو بار ملاقات ہوتی اور میرا معمول تھا نماز عصر ہاسٹل کی مسجد میں پڑتا تھا اور پورے ہاسٹل میں طلبہ میں اسلامی جمعیت کے لٹریچر تقسیم کرتا تھا۔یہ وہ دور تھا جب دنیا کے مختلف ممالک میں روس نواز حکومتیں قائم ہورہی تھی مشرقی وسطی میں فوجی جنرلوں اور کرنلوں نے بغاوت کر کے قبضہ کرلیا تھا اس کی پہل کرنل ناصر نے کی اس کے بعد تختہ الٹنے کا دور شروع ہوگیا بلوچستان میں روس نواز قوتیں کام کررہی تھی اور نیپ بھی روس نواز پارٹی تھی مولانا بھاشانی کی نیپ چین نواز پارٹی تھی بلوچستان میں بھاشانی کے اثرات نہ ہونے کے برابر تھے بی ایس او بھی روس نواز تنظیم تھی کمیونزم کے حوالے سے روس نواز دوستوں سے بڑی گرما گرم بحث ہوتی رہتی تھی خاص طور پر عزیز بگٹی کے کمرے میں آتا تو طلبہ ہماری بحث سننے کے لئے کمرے کے باہر جمع ہوتے تھے بڑا رش کش ہوتا ایک حنیف بلوچ نے کہا کہ یہ شادیزئی صاحب آپ بحث میں نرم رویہ اختیار کرتے ہیں اور مخالفین کو اشتعال دلاتے ہیں طلباء آپ کی بحث سے متاثر ہوتے ہیں ایک دن حنیف بلوچ دروازے پر کھڑا ہوگیا اور طلبہ کو کہا کہ آپ بحث نہیں سنیں گے اس پر خوب ہنسا ان سے کہا آپ لٹریچر کو کیسے روک سکیں گے۔اس لئے کہ میرا معمول لٹریچر تقسیم کرنا تھا اور کمیونزم کے حوالے سے میرا مطالعہ بھر پور تھا اس لئے دلائل بھر پور ہوتے یوں طالب علم کا دور آہستہ آہستہ گزر رہا تھا عزیز بگٹی نے عملی دنیا میں قدم رکھا اور لیکچرار لگ گئے میرا بھی مقام کالج میں استاد کا تھا لیکن اس دور میں تعلقات کی دنیا آباد ہی رہی۔عزیز بگٹی نے قلم تھام لیا اور کتابوں کی تخلیق میں چلے گئے اور کئی کتابیں بھی موجود ہیں۔ایران کے انقلاب سے متاثر تھے ایرانی قونصل جنرل سے دوستی تھی تو عزیز بگٹی کو انقلاب کی سالگرہ میں بھجوایا وہ بہت زیادہ متاثر تھے عزیز بگٹی نے کالم بھی لکھے اور بلوچی زبان میں لکھا اردو میں ان کی کئی کتابیں موجود ہیں ترکی بھی گئے لبنان میں بھی رہے جب وہ ترکی سے واپس آئے تو ضیاء الدین نے دعوت کا اہتمام کیا عزیز بگٹی نے ہمیں دلچسپ معلومات فراہم کی عزیزبگٹی وزیراعلیٰ ہاؤس میں سیکرٹری بھی رہے ان سے وہاں بھی ملاقاتیں رہی ان کے ساتھ بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ایم اے کی کلاسز میں ضیاء الدین،عزیز بگٹی اکھٹے تھے اس کے بعد انہوں نے لاء کالج میں داخلہ لیا ہم دونوں اکھٹے تھے جنرل عبدالقادر بلوچ بھی لاء کالج میں اکھٹے تھے وہ اس وقت کرنل تھے اس کے بعد آہستہ آہستہ عزیز بگٹی گوشہ نیشنی کی طرف چلے گئے معلوم نہیں کیوں عزیز نے میرے خلاف ایک کالم لکھا تو اتفاق سے ہم دونوں نواب بگٹی کی محفل میں شریک تھے تو نواب صاحب نے عزیز سے کہا کہ شادیزئی کو جواب دیں اور کالم لکھیں انہوں نے کالم نہیں لکھا میرا کالم کچھ سخت تھا کالم کی سرخی تھی You too bugti۔۔عزیز نے ہتھیار ڈالا دیئے کالم میں دوستوں کے ساتھ نوک جھونک چلتی رہتی تھی ایک کالم پریس کلب کے صدر کو نا گوار گزار تو انہوں نے جوابی کالم لکھا اس پر میرا کالم آیا تو رشید بیگ نے ہتھیار ڈال دیئے اور کہا کہ امان اللہ آج تک کسی صحافی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ میرے خلاف لکھتا۔میرا جواب تھا کہ اگر آپ لکھیں گے تو جواب ضرور دوں گا۔سیز فائر ہوگیا کالم کا جواب ہمیشہ جارحانہ رہا اس لئے بہت کم لکھاری اس طرف آگئے۔بات عزیز بگٹی کے حوالے سے چل رہی ہے نواب بگٹی وزیراعلیٰ ہاؤس سے رخصت ہوئے تو عزیز بگٹی بھی دوسرے محکمے میں چلے گئے لیکن ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا عزیز بگٹی سے بعض دفاع ہاسٹل میں ملاقات ہوتی اور جب وہ کراچی جاتے تو میرا ان دونوں کراچی جانا ہوتا تو ان سے گلشن اقبال کے ایک ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی اور کافی دیر تک اس محفل سے لطف اٹھاتے 2020میں میرا کراچی جانا نہیں ہوا تو عزیز بگٹی سے ملاقات نہ ہوسکی جب ان کی حالات ٹھیک تھی تو میجر (ر)نذر حسین کی دکان پر آتے تو ان سے ملاقات ہوجاتی تھی پھر آہستہ آہستہ ان کی بیماری میں شدت آگئی تھی تو وہ کمرے سے کم نکلتے تھے چند سال قبل ان سے گھر پر ایک بار ملاقات کی جوں جوں ان کی بیماری نے شدت اختیار کر لی تو رابطہ ٹوٹ گیا کئی دفعہ فون کرتا تو جواب نہ آتا وہ نذرحسین سے کہتے کہ مجھے کہیں کہ گھر پر آئے تا کہ ملاقات ہوسکے چند دن قبل صبح سویرے نذر حسین کا فون آیا میں حیران کہ اس وقت فون کیوں کیا اس نے کہا عزیز بگٹی آج صبح فوت ہوگئے ہیں شدید صدمہ ہوا کمرے یں اکیلا تھا آنسوؤں کو روک نہ سکا اورتقریباً نصف صدی کے تعلقات لمحوں میں گزرگئے سب ایک خواب لگا طبیعت بہت ادرس ہوگئی ریلوے کالونی پہنچاتو نماز کے بعد جنازہ تھا جن جن سے ان کے عزیزوں نے رابطہ کیا تو لوگ آچکے تھے بگٹیوں کی تعداد زیادہ تھی 10یا 12دانشور ادیب دوست موجود تھے عزیز کا حلقہ یاراں بہت محدود تھا دانشوروں اور لکھاریوں کا حلقہ مخصوص ہوتا ہے عزیز بہت کم گو تھا اور اسے نام ونمود کی خواہش کبھی بھی رہی اس کا چھوٹا بھائی بشیر بھی بھائی کے نقش قدم پر چلااس نے بھی کالم لکھے شاعری کی وہ بھی ادیب ہے مگر پھر اس نے دنیا سے کنارہ کشی کرلی اب وہ ایک دروشیانہ زندگی بسرکررہے ہیں اسے قبرستان میں دیکھا وہ ایک قبر کے قریب بیٹھا ہواتھا بہت اداس تھا اسے اپنے بھائی سے بڑی محبت تھی وہ عزیز سے چھوٹا تھا اس سے بھی دوستی ہے عزیز بگٹی بھی ملازمت میں تھے ایک دن ان سے کہا کہ نواب کو اپنے علاقہ سے نکل جانا چاہئے جنرل مشرف اور اس کے ہم نواؤں نے جو پالیسی اختیار کی وہ نواب کے موت پر آکر ہی ختم ہوگی 1973ء کے بعد سے نواب قوم پرست حلقوں میں پسندیدہ نہ تھے سلال بگٹی کے قتل کے بعد انہوں نے کوئٹہ ترک کردیاتھا صوبہ بڑاتھا اس مسئلہ پر عزیز سے بات ہوئی توانہوں نے کہا ہم میں کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ ان سے اس مسئلہ پر بات کرسکیں ہم دونوں کو مستقبل کا نقشہ نظرآرہاتھا اور دلچسپی وسیاسی عزیزبہت پریشان تھا عزیز بگٹی کا بیٹا نواب عالی کی نوابی کی تاریخی حلف برداری میں شریک تھا بگٹی قبیلہ کے نواب کی رسم سب سے مختلف ہے اور تاریخی دلچسپ ہے عزیز خاموش تھا اس سے تقریباً نذرحسین کہتاتھا کہ عزیز کا فون آیاتھا آپ کا پوچھ رہا تھا عزیز دوستوں عزیزوں کی دنیا سے چلاگیا اس کی کتابیں اسے پڑھنے والوں کے درمیان اہمیت رکھتے ہیں کئی دفعہ ارادہ کیا کہ ملاقات ہو لیکن نہ ہوسکی جب ریلوے کالونی پہنچاتو جنازہ مسجد میں رکھاہواتھا نماز ظہر ادا کی اس کے بعد اس کے عزیزوں کے پاس تابوت کو نماز جنازہ کی جگہ پہنچادیا صف بندی ہوگئی اور اللہ اکبر کی آواز کے ساتھ نماز جنازہ شروع ہوگئی سامنے تابوت رکھا ہواتھا اورزہن پر خیالات کا ہجوم تھا لمحوں میں ماہ وسال گزررہے تھے 1966ء اور 2021ء تک کے لمحات ایک قلم طرح چل رہے تھے آنسوؤں کو نہ روک سکا نماز جنازہ ختم ہوگئی تو فوراً آگے بڑھا اور دوست عزیز کو کندھادیا اور سفر آخرت کی جگہ تابوت پنچادیاگیا اسے اور دفن کرنے سے پہلے تابوت میں عزیز تھا دوستوں عزیزوں کے الوداعی نگاہ ڈالی اس کے دفن ہونے تک قبر کی جگہ کھڑا رہا اور پھر ہاتھ میں بیلچہ تھاما اور اپنے میت کے تابوت پر مٹی ڈال دی اور علیحدہ ہوگیا اس کی بیٹی کے والد کیلئے مضمون لکھا تاریخی مضمون سے ایک
بیٹی کا باپ پر نوحہ لکھنا یہ آسان نہیں ہے عزیز اپنے خاندان کیلئے شرف رہے گا اس نے دوران ملازمت اپنے دامن کو آلودگیوں سے پاک رکھا اس کی موت پر ایک اور صاحب رشید بلوچ نے کالم لکھا شاید انہیں اندازہ نہیں کہ ایک دانشور اور ادیب پر کیسے کالم لکھا جاتا ہے وہ نہ لکھتا تو بہتر ہوتا اس کے کالم نے نہ جانے کتنے دلوں کو مجروح کردیا وہ جنازے میں شریک نہ تھا شریک ہوتا تو وہ نہ لکھتا کہ”حلقہ احباب کے چارنفوس اور چند بگٹیوں کی بجائے جم غفیر ہوتا“عزیز بگٹی کی تابوت کے لئے بندے کم پڑگئے تھے؛
عزیز بگٹی کی شخصیت کسی کالم کی محتاج نہ تھی انسان کو کردار اور کتاب زندہ رکھتی ہے