عثمان کاکڑ کا نظریہ امر رہے گا

تحریر: امان اللہ کاکڑ
جمہوريت کی ایک توانا آواز ،محکوم اور مظوم قوموں کا پُراثر ترجمان، اپنے نظریات پر چٹان کی طرح قائم رہنے والا ،ظلم، جبر اور استعماری قوتوں کا سامنا کرنے والا، نہايت ہی صاف گو، محسن بلوچستان اور ہر دل عزیز پشتون قوم پرست رہنما عثمان خان کاکڑ اس دنیاِ فانی کوچ کر چکے ہیں۔ انھیں مورخہ 23 جون بروز بدھ آہ و سسكیوں، چیخ و پکار، نالہ و فغاں اور رنج و غم میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردخاک کر دیا گیا-
محمد عثمان خان کاکڑ سن 21 جولائی 1961 کو ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں پیدا ہوئے۔ پرائمری اور مڈل تک کی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ اس کے بعد تین سال تک تعمیر نو کالج میں پڑھا اور پھر کوئٹہ کے مشہور سائنس کالج سے FSC کی۔ عثمان كاكڑ نے جامعہ بلوچستان سے MA economic کیا۔ کاکڑ نے کوئٹہ لا کالج سے قانون کی تعلیم بھی حاصل کر رکھی تھی۔ عثمان كاكر ایک مدلل ،صاف گو، بلا جھجھک اور خوف و خطر حقائق سے پردہ اٹھانے والوں میں سے شامل تھے، وہ ہمیشہ سول بالا دستی اور حقیقی جمہوریت کے پیرو کار تھے ۔فوج کا سیاست میں مداخلت کا تو روز اول سے ہی منكر رہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ سیاسی فیصلے پارلیمنٹ کے منتخب نمائندے کرے نہ کے کوئی ریاستی ادارہ۔ باشندگان بلوچستان کے وہ ناقابل فراموش ہستی تھے- یقینا سرزمین بلوچستان میر حاصل خان بزنجو کے بعد ایک اور نڈر، بے باک اور حقیقی ترجمان سے محروم ہوگئی۔ کاکڑ کی بلوچستان کی سیاست میں پیدا کردہ خلا مدتوں تک پر نہیں کیا جاسکے گا۔
عثمان خان كاكڑ مارچ 2015 سے مارچ 2021 تک سینیٹر کے عہدے پر بھی رہے چکے ہیں۔عثمان کاکڑ سے لوگوں کی شناسائی تب ہوئی جب اس کی گرجتی آواز سینیٹ میں گونج اٹھی- بظاہر تو وہ ایک قوم پرست رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے لیکن ان کا دل سب کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ کاکڑ حقوق کی منصفانہ تقسیم پر یقین رکھنے والے انسان تھے۔ ایونِ بالا میں لالا نے بلوچستان کا مقدمہ اتنے تاریخی انداز میں لڑا کہ صوبے کے باشندگان چھونک اٹھے۔ اس نے حیات بلوچ کے لیے ایک ایسے وقت میں آواز اٹھائی جب سبھی قوم پرست رہنما خواب غفلت کی نیند سو رہے تھے۔ لالہ نے نسلی تعصب کو بالاِ طاق رکھتے ھوۓ پسے ہوئے مظوم قوموں کی ایسی آواز بنے جو تاریخ میں امر ہونے کے لیے کافی تھا۔ اس نے ہزارہ نسل کشی، شہید افغان ملت ارمان خان لونی، شہدا آٹھ اگست کے شہیدوں کے قاتلوں کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے دن رات ایک کر دی۔ یقینا ہم جیسے طالبعلموں کو سیاست کے حقیقی معنوں سے تو عثمان خان کاکڑ نے ہی متعارف کروایا، وہ کہا کرتے تھے کہ سیاست کا مطلب چوری، ڈکیتی، دوسروں کے حقوق غضب کرنا نہیں ہوتا بلکہ سیاست کا اصل مطلب تو پسے ہوئے لاچار قوموں کی خدمت کرنا ہوتا ہے، شاید یہی وجہ تھی کہ وہ ادنی سے ادنی سیاسی كاركن کو بھی وہ عزت بخشتا تھا جس کی نظیر نہیں ملتی-
عثمان کاکڑ کے دل کو چو جانے والی باتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کے وہ ہر سیاسی وركر کو تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا تھا کیوں کہ اسے معلوم تھا کے ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔ لالا جاتے جاتے ایک احسان اور کر گیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے غیور عوام کے درمیان محبت، اپنائیت، احساس اور شانتی کا وہ بیج بو دیا جو آنے والے وقتوں میں ایک تناور درخت بن کر ابھرے گا اور برادز اقوام کو يكجا کرکے رکھے گا- یہی وجہ تھی کہ حب سے لے کر چمن تک اور مكران سے لے کر زوب تک لالا کی میت کے استقبال کے لیے لوگوں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ لالا کی ولولہ انگیز استقبال میں ہر آنکھ اشکبار تھی جو یہی ثابت کر رہی تھی کہ جب آپ اپنے اصولوں کا سودا نہیں کرتے، قوم کے حقوق کی جنگ لڑتے ہیں، محکوم قوموں کی آواز بنتے ہیں تو پھر رعایا آپ کو ایسی ہی عزت سے نوازتے ہیں جس طرح لالا کو نوازا گیا-
لوگ کہتے ہیں کہ لالا عثمان کاکڑ جاتے جاتے اپنی موت کے بارے میں کئی وسوسے چھوڑ گیا لیکن میں کہتا ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ پاکستانی سیاست میں دو عظیم سیاست دان ایسے تھے جو اپنی موت سے پہلے ہی اپنے قاتلوں کا نام بتا چکے ہیں، ایک بینظیر بھٹو اور ایک لالا عثمان خان کاکڑ۔ سینٹ سے اپنے الوداعی خطاب میں لالا عثمان نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں، میرے مرنے کے بعد مجھے گم خاطے میں نہ رکھا جاۓ بلکے اس کے ذمہ دار پاکستان کے دو اینٹیلجنس ادارے ہونگے۔ مہ بعد پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور لالا عثمان کے چشم و چراغ خوشحال خان نے بھی واضح طور پر کہا کہ انکے والد صاحب کو شہید کیا گیا ہے- آخر میں بس یہی کہونگا کہ اگر عثمان کاکڑ کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا اور انہیں کڑی سزا نہ دی گئی تو یہ ایک اور المناک ڈھاکہ کے طرز کے سانحے کے لیے راہ ہموار کرے گا جس کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا-