عثمان کاکڑتحقیقاتی جوڈیشل کمیشن
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدرسابق سینیٹرعثمان خان کاکڑ 17جون کو شدید زخمی ہوئے تھے، انہیں زخمی حالت میں کوئٹہ کے نجی اسپتال پہنچایا گیاجہاں صوبے کے ماہر نیورو سرجنز پر مشتمل ایک ٹیم نے کئی گھنٹوں پر مشتمل ان کی ہیڈ سرجری کی تھی۔بعد ازاں (19جون کو)ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا۔لیکن ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود جانبر نہ ہوسکے اور21جون کو آغا خان اسپتال کراچی میں انتقال کر گئے۔ ابتداء میں کہا گیا تھا کہ عثمان خان کاکڑ گر کر زخمی ہوئے ہیں۔مگر اب ان کے بیٹے خوشحال خان کاکڑاور پشتونخوا میپ کی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ ان پر شہبازٹاؤن میں، (ان کی رہائش گاہ میں)، نامعلوم افراد نے حملہ کرکے شدید زخمی کر دیا تھا، حملے کے وقت ان کی چھوٹی بیٹی کے علاوہ اور کوئی شخص نہیں تھا۔الزام عائد کرنے کی بنیاد عثمان خان کاکڑ کے سینیٹ میں الوداعی خطاب میں کئے گئے اس انکشاف کو بنایا ہے جس میں مرحوم نے کہا تھا:
”مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،اور کہا جارہا ہے کہ نہیں چھوڑیں گے“
خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ اگر ایسٹبلشمنٹ یہ سوچتی ہے کہ عثمان کاکڑ کو مارنے سے ان کی سوچ ختم ہو جائے گی تو یہ ان کی بھول ہے، عثمان کاکڑ نے لوگوں کو شعور دیاہے۔عثمان کاکڑ1960 میں پیدا ہوئے، زمانہئ طالب علمی سے سیاست کا آغاز کیااور زندگی کے آخری دم تک پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے وابستہ رہے۔2015سے مارچ2021تک سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ سینیٹ میں انہوں نے اپنی خداد ادصلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا،ان کے لہجے سے قطع نظر ان کی باتوں میں سچائی تھی، الفاظ میں درد تھا،انہوں نے مظلوم طبقات کی ترجمانی کرتے وقت کسی مصلحت یا منفعت کو آڑے نہیں آنے دیا۔بدقسمتی سے سینیٹ میں بلوچستان کی نمائندگی کرنے والوں کی اکثریت نے گونگوں کا کردار ادا کیا مگر کبیر محمد شہی،ڈاکٹر جہانزیب اور عثمان لالا نے اس سکوت کو توڑا،ان میں سب سے دبنگ آوازاور اونچی للکار عثمان لالا کی تھی۔انہوں نے سینیٹ میں ثابت کر دیا کہ کہ وہ کسی ایک طبقہ کے نمائندے نہیں بلکہ پورے بلوچستان اور تمام محکوم اقوام کے نمائندہ ہیں۔انہوں نے انگریزی استعمارسے لے کر موجودہ استعماری مائنڈ سیٹ کوتاریخی اور مستند حوالوں سے چیلنج کیا،جس کی وجہ سے ایک طوفان برپا ہو گیا۔عثمان لالا نے ایوان بالا میں جو زنجیرہلائی تو گویا قیامت برپا ہوگئی۔ایک باشعور مدبر کی حیثیت سے انہوں نے اپنا لوہا منوایالیکن زندگی کی بازی ہار گئے۔لیکن جان تو آنی جانی ہے جس شان وہ مقتل میں گئے وہ شان سلامت رہتی ہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنے صوبائی صدر عثمان خان کاکڑ کی موت کو حادثاتی ماننے سے انکار کردیا،دو ٹوک الفاظ میں کہا: ”انہیں قتل کیا گیا ہے، جرگہ بلائیں گے، موت طبعی نہیں، پہلے ایک شخص اندر گیا اور ایک منٹ کے بعد واپس آیا، اس کے بعد دوسرے لوگ گئے،ہمارے پاس ثبوت ہیں،وقت آنے پر پیش کریں گے، جرگہ تین ماہ بعد بنوں میں ہوگا“۔وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اخبارات کے ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا:”عثمان کاکڑ کی وفات کے معاملے پر لواحقین کے ساتھ تعاون کرنے کوتیار ہیں، ان کے پاس ثبوت ہیں تودیں، کسی دباؤ کے بغیرقاتلوں تک پہنچیں گے“۔حکومت نے موت کی وجہ جاننے کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھا ہے جس میں جسٹس نعیم اختر اور جسٹس ظہیرالدین کاکڑ کوشامل کرنے کی تجویز دی ہے۔وزیر اعلیٰ جام کمال مرحوم کی رہائش گاہ پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کے لئے گئے، انہوں نے اس موقع پر لواحقین سے خطاب کرتے ہوئے کہا:”اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان پر اپنا فضل رکھے،ان کے انتقال کے باعث جو خلاء پیدا ہوا ہیوہ صلاحیت ان کے بیٹے خوشحال خان میں پیدا کرے۔وزیر اعلیٰ نے کہا انہوں نے مرحوم کو ہمیشہ حق اور سچ کے لئے آواز بلند کرتے دیکھا۔وزیر اعلیٰ نے لواحقین کو اپنے تعاون کی یقیندہانی کراتے ہوئے کہا ہے تمام معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔ لیکن عمومی تأثر یہی ہے کہ ملکی تاریخ میں سیاسی رہنماؤں کے قتل کی تحقیقات کا اکثر و بیشتر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔لیاقت علی خان کے قتل سے بینظیر بھٹو کی شہادت تک کوئی قاتل شناخت نہیں کیا جا سکا،کیفر کردار تک پہنچانا تو دور کی بات ہے۔ہمارے ملک کی بد قسمتی یہی ہے کہ یہاں بااثر قاتلوں تک رسائی ممکن نہیں۔عینی شاہدین کو بلاکر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی۔مختصر وقفوں کے بعدکارندے خاموشی سے مار دیئے جاتے ہیں۔ماڈل ٹاؤن (لاہور) تھانے کی حدود میں پولیس افسران اور اہلکاروں نے 17جون2013کو ایک مذہبی سیاسی جماعت کی نہتی خواتین کارکنان، سینئر سٹیزنز کے ساتھ جوکچھ دن دہاڑے جو وحشیانہ سلوک میڈیا کی موجودگی میں کیا، اس واقعے کی رپورٹنگ لمحہ بہ لمحہ کی گئی اور براہ راست تمام چینلز پر نشر ہوتی رہی، مگر سوال یہ ہے کہ 8سال گزرنے کے باوجودان مجرموں میں سے کسی ایک کو سزا دی گئی؟افسران کو کسی نے پھول کی چھڑی سے مارا؟بلکہ انہیں ترقی دی گئی،آج بھی اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔المیہ یہ ہے کہ قاتل کو سزا صرف اس وقت ملتی ہے جب باثر حلقے ان کی سرپرستی نہیں کرتے۔ماڈل ٹاؤن تھانے کے افسران اور اہلکاروں کی بربریت کے تمام شواہد ہر ٹی وی چینل کے پاس دستیاب ہیں۔ایک سویلین گلو بٹ کے علاوہ کسی کو سزا نہیں دی گئی، باقی سب معصوم ہیں، سب پارسا ہیں۔یہ واقعہ پاکستان میں قانون کی عملداری اور عدل کی فراہمی کی ایسی تکلیف دہ مثال ہے جسے بیان کرنے کے لئے نہ زبان میں تاب ہے، اور نہ ہی لکھنے کی کسی قلم میں سکت ہے۔ مقتولین کی تعداد درجنوں میں اور،100کے لگ بھگ شدید زخمیوں میں بعض ایسے بد نصیب بھی شامل تھے جو عمر بھر کے لئے معذور ہوگئے تھے۔موجودہ وزیر اعظم عمران خان بھی اس مظلوم جماعت کے سربراہ مولانا طاہرالقادری کے سیاسی بھائی کی حیثیت سے اپنے کنٹینر سمیت اسلام آباد کے ڈی چوک پرپاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے ہمراہ احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔ وزیر اعظم ہاؤس میں تین سال سے اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں۔ صرف اتنا بتاتے ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کتنی کمی کر سکے، مگرتھانہ ماڈل ٹاؤن(لاہور) کے متأثرین کے آنسو پونچھنے کی ہمت تاحال نہیں کر سکے۔اس خاموشی کی وجہ وہ خود جانتے ہیں،میڈیا سمیت کسی سے شیئر نہیں کرتے۔اس تناظر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی یقین دہانی پر اعتبار کیسے کیا جائے؟ دعا کریں اللہ انہیں عثمان لالا کے خاندان، بیٹے خوشحال کاکڑ،پارٹی سربراہ محمود خان اچکزئی اور دیگر حاضرین کے روبرو کرائی گئی یقین دہانی میں سرخرو فرمائے!


