حلوہ مانڈہ اور بذلہ سنجی

تحریر: انورساجدی
عسکری قیادت نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی رہنماؤں کو افغانستان کی نئی صورتحال اور امریکی مطالبات کے بارے میں جوبریفنگ دی وہ یکدم خشک نہیں تھی عسکری قیادت نے کافی بذلہ سنجی سے کام لیا کئی مواقع پر طنز ومزاح کاسماں بھی پیدا ہوگیا ایک موقع پر ن لیگی سینیٹر مشاہد حسین سید نے آرمی چیف کے کان کے قریب آکر کہا کہ زرا ن لیگ پر ہاتھ ”ہولا“ رکھیں تو آرمی چیف نے کہا کہ آہستہ بولئے پیچھے فوادچوہدری کھڑے ہیں 8گھنٹے طویل سیشن چونکہ ٹاپ سیکرٹ تھا اس لئے اس کی زیادہ تر باتیں باہر نہیں آئیں اس سے فائدہ اٹھا کر مخالفین نے مشہور کردیا کہ ایک سوال کے جواب میں جب آرمی چیف نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہیں سارے فیصلے وہی کرتے ہیں تو شہبازشریف بے ہوش ہوگئے اراکین کو ڈانٹ بھی پڑی شنید ہے کہ بلاول نے آرمی چیف سے درخواست کی کہ فاٹا کے مقید ایم این اے علی وزیر کو معاف کردیا جائے تو آرمی چیف نے انکار کیا اور کہا کہ علی وزیر کو فوج کیخلاف بات کرنے پر معافی مانگنی پڑے گی انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور سابق اسپیکر ایازصادق نے ان کی ذات کو نشانہ بنایا تھا اس لئے ان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا لیکن فوج کیخلاف مہم کو برداشت نہیں کیاجاسکتا۔سوشل میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق علی وزیر کے ذکر پر آرمی چیف نے پشتونوں کے بارے میں تفصیلی بات کی انہوں نے کہا کہ ہم پشتونوں کے کیسے خلاف ہوسکتے ہیں جبکہ فوج کی40فیصد تعداد پشتونوں پرمشتمل ہے انہوں نے کہا کہ میرے چھوٹے بیٹے کی شادی جہاں ہورہی ہے وہ پشتون ہیں یعنی میری چھوٹی بہو خود پشتون ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی بریفنگ میں عدم شرکت پر بلاول کے سوال کے جواب میں اسپیکر اسدقیصر نے انکشاف کیا کہ شہبازشریف نے شرط رکھی تھی کہ اگرعمران خان بریفنگ میں آئے تو وہ شرکت نہیں کریں گے اگرچہ ن لیگ نے اس کی تردید کی ہے لیکن کچھ نہ کچھ بات ضرور ہوئی ہوگی۔
بریفنگ کے بعد وزیراطلاعات فواد چوہدری کو شرارت سوجھی اور انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اگرعمران خان شریک ہوتے تو اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کو زیادہ خوشامد کاموقع نہ ملتا کس نے کیا خوشامد کی یہ تو معلوم نہیں البتہ سوشل میڈیا کے مطابق شہبازشریف نے کوئی کسر نہیں چھوڑی وہ ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور فرمایا کہ جو بھی فیصلے آپ کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اگراس بات میں صداقت ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اقتدار سے معزولی خاص طورپر2018ء کے انتخابات کے بعد میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی نے جو بیانیہ بنایاتھا شہبازشریف نے اس کی نفی کردی ہے وہ مقتدرہ کے ساتھ مل کر چلنا چاہتے ہیں اس لئے وہ رحم بھری نظروں سے ان کی جانب دیکھ رہے ہیں شہبازشریف کاعاجزانہ رویہ دیکھ کر ضرور بہتر نظرالتفات ڈالی جائیگی اندازہ ہے کہ عمران خان سے بھی کہہ دیا گیا ہے کہ زرا اپنی زبان کو قابو میں رکھیں ورنہ اس سے پہلے عمران خان علی الاعلان کہتے تھے کہ اپوزیشن چوروں اور ڈاکوؤں پرمبنی ہے اس لئے وہ ان کے ساتھ بیٹھنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں لیکن جب سے انہوں نے جہانگیرترین سمیت اپنے ایک درجن ساتھیوں کو این آر او دیا ہے اپوزیشن کو لعن طعن کرنے کا اخلاقی جوازختم ہوگیا ہے آئندہ آنے والے ادوار میں ان کا شمار بھی نوازشریف اور زرداری کے ساتھ کیا جائیگا ایک تو وہ کوئی تبدیلی نہ لاسکے دوسرا یہ کہ ان کا سارا زور کرپشن پر تھا جو وہ روک نہ سکے یہ مرض اوپر سے لیکر نیچے تک سرایت کرچکا ہے اور اس میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے حالات سے ثابت ہے کہ عمران خان اگر ”دودیس“ نہ گئے تو آئندہ مدت تک ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں ہے خاص طور پر جب آئندہ سال وہ ایک خاص ایکسٹیشن کے حکم نامے پر دستخط کریں گے تو آئندہ انتخابات میں صرف ایک سال رہ جائے گا اس لئے اپنی مدت پوری کریں گے البتہ اپوزیشن کیلئے لمحہ فکریہ ہوگا کہ وہ آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کا مقابلہ کیسے کرے گی کیونکہ یہ تتر بتر ہے اس کی صفوں میں اتحاد کا فقدان ہے اور اس کی کارکردگی بھی عمران خان کی طرح ناقص ہے کہاجاتا ہے کہ موجودہ اپوزیشن پارلیمانی تاریخ کی سب سے کمزور اور چاپلوس اپوزیشن ہے جس طرح حکومت رحم طلب نظروں سے اوپر کی طرف دیکھتی ہے اپوزیشن جھک کر ہاتھ باندھ کر اور پیرپکڑ کر یعنی گرنے کی حد تک لاچار اور محتاج ہوکر رہ گئی ہے۔
شہبازگل نے اسی لئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو اپنا سی وی لیکر امریکہ گئے ہیں تاکہ انہیں نوکری مل جائے حالانکہ امریکہ نے ابھی تک موجودہ حکمرانوں کو نوکری سے برخاست نہیں کیا ہے جس دن حتمی طور پر انہیں فارغ کردیاجائیگا تب بلاول یا شہباز شریف کا سلیکشن ہوسکتا ہے بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی اڈوں کے بارے میں واضح انکار کرکے عمران خان نے ایک خود کش حملہ کیا ہے کیونکہ اگر کل امریکہ کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تو یہ اقدام ان کیلئے شرمندگی کاباعث ہوگا لیکن یوٹرن لینا تو موجودہ حکمرانوں کی عادت ہے لگتا ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی جواز اور بہانہ تراش لیں گے۔
اگرقومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کی یہ بات درست ہے کہ اڈوں کا باب ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان دائمی طور پر چین کے کیمپ میں جارہا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوگا پاکستان سعودی عرب اور امارات سے بھی مزید ڈکٹیشن نہیں لے گا جو امریکہ کے قریبی اتحادی ہیں اگرچہ امریکہ نے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے لیکن فٹیف کی نئی شرائط آئی ایم ایف کی طرف سے سخت اقدامات بچوں کی جبری بھرتی جیسے معاملات امریکہ کے پیداکردہ ہیں اور کچھ ہو نہ ہو امریکی مخالفت کی وجہ سے پاکستان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا اگرچین نے یقین دہانی کروائی ہوکہ وہ ان مشکلات کا ازالہ کرے گا تو معاملات ٹھیک ہوسکتے ہیں لیکن چین تعاون نہ کرے تو آئندہ سال معاشی مسائل دیو بن کر کھڑے ہونگے امریکہ کی مخالفت مول لیکر ضرور حکمرانوں نے کوئی متبادل تلاش کرلیا ہوگا۔
پارلیمانی بریفنگ کا بلوچستان کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ سات لاکھ کے قریب جو افغان پناہ گزین آئیں گے انہیں کیمپوں میں رکھاجائیگا پہلے تو یہ طے نہیں کہ خانہ جنگی کے نتیجے میں پناہ گزین کتنی تعداد میں آئیں گے اور اگر آگئے تو وہ کیمپوں میں کیسے رہیں گے کیونکہ 1981ء میں جو پناہ گزین آئے تھے وہ تو شہروں میں رہ رہے ہیں اور صاحب جائیداد ہیں ویسے بھی عمران خان افغان پناہ گزینوں سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں گزشتہ سال انہوں نے حکم جاری کیا تھا کہ انہیں بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنے اور کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے عمران خان کااصولی موقف ہے کہ جس طرح مغربی ممالک ایک خاص مدت کے بعد ایگریمنٹس کو شہریت دیتے ہیں پاکستان کو بھی ویسا کرلینا چاہئے اگر حکومت کا ایسا ارادہ ہے تو نئے آنے والے پناہ گزینوں کو صوبہ پشتونخوا میں رکھاجائے بے شک وہاں پر انہیں شہریت دے کر کاروبار کی اجازت دیدی جائے اگر انہیں بلوچستان میں رکھا گیا تو آبادی کا توازن بری طرح سے متاثر ہوگا جس کے نتیجے میں بلوچستان کی صورتحال مزید خراب ہوجائیگی بلوچستان کا اس وقت یہ عالم ہے کہ ساری اپوزیشن ضد کرکے کئی دن سے ایک تھانے میں بیٹھی ہوئی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ اسے بھی حلوہ مانڈے میں اتنا حصہ دیاجائے جتنا کہ حکومتی جماعت کو دیاجارہا ہے لیکن جام صاحب نے ضد پکڑی ہے کہ سارا حلوہ مانڈہ اس کی جماعت کے لوگ ہی کھائیں گے دوسروں کو بس تھوڑا ساحصہ ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں