تبدیلی سرکار

تحریر: جمشید حسنی
جب زراعت کی بات ہے تو تبدیلی سرکار ایک ہی رٹ ہم مڈل مین کا کردار ختم کردیں گے مڈل مین غلہ منڈی سبزی منڈی مویشی بکرا منڈی کا دلال کمیشن ایجنٹ ماشہ خور آڑتھی جو بھی کہیں ہوتا منڈیاں بر صغیر کے زرعی معاشرہ کا حصہ ہیں کاشتکار فصل نہیں رکھ سکتا اسے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ خود منڈی میں اجناس فروخت نہیں کرسکتا وہ سارا سال کھیتی باڑی میں مصروف ہوتا ہے اسے دلالوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جو اجناس فروخت کر کے اس میں سے اپنا کمیشن وضع کرتا ہے بڑے سرمایہ دار پھر فصلوں کو ذخیرہ کر کے منڈی میں نرخ بڑھاتے ہیں۔ہندوستان میں اندراگاندھی نے ستر کے عشرہ میں دلالوں کا زور توڑا۔امریکہ میں فارم مارکیٹ ہوتے ہیں بڑے شہروں میں ہفتہ میں رخصت کے دن کسان اپنی فصل گاڑیوں پر لاکر ان فارم مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔
ہمیں حکومت کی نیک نیتی پر شبہ نہیں مگر حکومت کے بقول مافیا اور مفاد پرست عناصر اصلاحات کے مخالف ہوتے ہیں وہ حالات کو جاں کا توں STATUS QUOچاہتے ہیں ملک کے ہر شہر میں غلہ منڈی سبزی منڈی بکرا منڈی ہوتی ہے حکومت نے کتنی تحقیق کروائی ہے۔ملک میں محکمہ اعداد وشمار ہے زرعی یونیورسٹیاں ہیں ماہرین زراعت ومعیشت ان منڈیوں سے کتنے لوگوں کا روز گار وابستہ ہے پہلے ہی ملک میں بے روز گاری ہے۔حکومت متبادل روز گار کا کیا بندوبست کرے گی۔منڈیوں میں دلالوں کے توسط کتنی لین دین ہوتی ہے ان کو مجموعی طور پر کتنا منافع ملتا ہے یا ملکی معیشت میں منڈیوں میں کتنی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے منصوبہ بندی اور اس کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔حکومت کے پاس اجناس فروخت کرنے کے لئے کیا متبادل ذرائع ہیں پہلے ہی گنے کے کاشتکاروں اور شوگر مل مالکان کے نرخ پر جھگڑے ہیں۔حکومت چاول گنا کپاس گندم ساری فصل تو خرید نہیں سکتی جو گندم خریدی جاتی ہے کھلی فضاء میں تر پالیں ڈال دی جاتی ہیں وہ برسات میں خراب ہوتی رہتی ہے۔ذخیرہ کرنے سٹور نہیں،جو گندم خریدتی ہے حکومت سبسڈی دے کر فروخت کرتی ہے،چینی کا دو ملین روپیہ کارخانہ دار کی جیب میں بظاہر اتنا آسان معاملہ نہیں کہ جلسوں میں تقریروں سے حل ہو،سیاستدان جاگیردار زمیندار ہیں دلالوں کا اپنا اثر ورسوخ ہے حکومتیں کمزور اپنی بات منوانہیں سکتیں دلال اپنا روزگار اتنی آسانی سے دائر پر لگنے نہیں دیں گے۔دوسری طرف کارپوریٹ فارمنگ کا چرچا ہے بڑی بڑی کمپنیاں زرعی زمینیں اجارہ پر لیں گی ایسا ہوا تو چھوٹا کاشتکار ختم ہوجائے گا۔
دیہات میں کوئی متبادل روزگار نہیں لوگ کھلی مزدوری کیلئے شہروں کا رخ کرتے ہیں وہاں صحت تعلیم آمدورفت گیس بجلی پانی کی سہولیات نہ ہونے کے سبب صحت اور معیار زندگی گرتا رہتا ہے کراچی میں تیس لاکھ بنگالی غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ مقیم ہیں،ان کو کورونا ویکسین نہیں لگے گی انہیں دیگر کوئی سہولت میسر نہیں۔
میں تبدلی کے خلاف نہیں مگر بغیر منصوبہ بندی تبدیلی بدنظمی میں بدل جاتی ہے مہارت تجربہ کے بغیر نئے ادارے کامیاب نہیں ہوتے،ایوب خان کی بنیادی جمہوریت ہو جنرل ضیاء الحق کے بغیر سیاسی پارٹیوں کی پارلیمنٹ/مجلس شوریٰ جنرل مشرف کا ضلعی نظام کوئی بھی حتمی نتیجہ تک نہ پہنچ سکا،جنرل ضیاء نے ایم پی اے ایم این اے فنڈز کی بدعت ڈالی،ملک میں خلفشار بے اطمینانی بداعتمادی بڑھی بھٹو نے قومیات کی پالیسی اپنائی جو ناکام ہوئی،وسائل ضائع ہوئے اب عمران خان ریاست مدینہ اور تبدیلی کے پرچاری ہیں۔مگر تبدیلی عوامی شعور شمولیت کے بغیر ممکن نہیں ثقافت روایات قدروں سے آپ یکسرمنہ نہیں موڑ سکتے اور یوٹرن لینے پڑتے ہیں کابینہ میں پے در پے تبدیلیاں سماجی تفیر کیلئے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ذہن تبدیلی کر نے شعوری ضرورت ہوتی ہے شعور تعلیم کے بغیر نہیں آسکتا،ملک میں جہالت ہے غربت ہے ان کے خاتمہ تک تبدیلی ممکن نہیں،بات چلی تھی مڈل مین ہے ہم چھوٹا منہ بڑی بات حکومت پہلے سروے کروائے کہ معیشت میں منڈیوں کا کتنا حصہ ہے کتنے لوگ وابستہ ہیں کیا حکومت متبادل روز گار دے سکے گی کسان اپنی فصل کیسے بیچے گا،تبدیلی کے کچھ لازمی منفی اثرات بھی ہوتے ہیں اس تمام عمل میں کسان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے اور کیسے۔
بہر حال خیر کی توقع رکھنی چاہیے مایوسی کفر ہے۔