سونے کی زنجیریں

تحریر: انورساجدی
موضوع چونکہ بہت سنجیدہ ہے اس لئے میں اس کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور پوشیدہ حقائق بتانے سے قاصر ہوں میرا تو کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے اس لئے پیچھے آواز اٹھانے والا بھی کوئی نہیں ہے دوسرا یہ کہ میرے اس موقف سے تمام سیاسی جماعتیں اور رہنما خفا ہیں کہ بلوچستان میں صحیح معنوں میں سیاسی جماعتوں کا وجود نہیں ہے بلکہ جو جماعتیں موجود ہیں ان کی حیثیت این جی اوز کی ہے اس میں قصور سیاسی رہنماؤں کا نہیں ہے کیونکہ جس ریاست میں دستور کا احترام نہ ہو پارلیمان کو سپریم ادارہ تسلیم نہ کیا جاتا ہو جہاں جمہوریت دھکوسلہ ہو قانون کی بالادستی نہ ہو وہاں پر سیاسی جماعتیں پنپ نہیں سکتیں اور جب عام انتخابات کے نتائج اپنی مرضی سے مرتب کئے جاتے ہوں ہر چند سال بعد ایک نئی کنگز پارٹی تشکیل دی جاتی ہو ایسے ماحول میں صحیح سیاسی جماعتیں کیسے قائم ہوسکتی ہیں اور اپنے عوام کی رہنمائی کیسے ادا کرسکتی ہیں۔
بلوچستان کی جماعتوں پر کیا موقوف اس وقت تو جو نام نہاد بڑی جماعتیں ہیں ان کا بھی وہی حال ہے تحریک انصاف حال کی کنگز پارٹی ہے ن لیگ سابقہ کنگز پارٹی ہے جبکہ پیپلز پارٹی لڑتے لڑے اپنی چونچ کھوبیٹھی ہے ان جماعتوں نے موجودہ ہائبرڈ دور میں بہت سارے رنگ بدلے ہیں اور بڑے بڑے یوٹرن لئے ہیں حالات نے ثابت کیا ہے کہ ساری سیاسی قوتیں ایک مدار کے گرد گھوم رہی ہیں اور ان کی اپنی کوئی جداگانہ اور آزادانہ حیثیت نہیں ہے۔
جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 کو جو طویل ترین مارشل لاء لگایا تھا وہ مختلف شکلیں بدلتا ہوا آج بھی نافذ ہے ضیاء الحق چونکہ نہایت ذہین جالندھری تھے اس لئے انہوں نے جو نظام وضع کیا جو ہمیشہ باقی رہے گا یا اس کے اثرات مدتوں باقی رہیں گے دراصل نیا پاکستان نہ بھٹو تشکیل دے سکے تھے اور نہ ہی عمران خان تشکیل دے پائیں گے کیونکہ یہ کام تو ضیاء الحق کرکے گئے تھے افغان جہاد سے لیکر نصاب کی تبدیلی یا آئین میں بنیادی تبدیلیوں تک انہوں نے ریاست کی ازسر نو تشکیل کی بھٹو اگرچہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ تھے لیکن وہ اپنے اتنے پیروکار پیدا نہ کرسکے جو ضیاء الحق نے کئے ضیاء الحق کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ انہوں نے ملا صاحبان جہادی گروپ تابع فرمان سیاستدانوں اور اداروں کو ایک پیج پر یک جا کردیا بھٹو کا دور اقتدار تو محض پانچ سال تھا لیکن ضیاء الحق نے 11 سال براہ راست حکومت کی جبکہ بینظیر کے دو ادوار کے سوا ہمیشہ ان کے حامیوں کی حکومت رہی ایوب خان کے بعد اقتدار پر ایسی گرفت نہ پہلے تھی اور نہ آئندہ ہوگی ضیاء الحق نے ریاست کا حلیہ بدل کر رکھ دیا لاکھوں افغان مہاجرین کو آباد کرکے بلوچستان میں ناقابل تلافی ڈیموگرافی تبدیلی لے آئے خود اپنا دارالحکومت اسلام آباد بھی افغانیوں کے حوالے کردیا جہاں آج ان کی واضح اکثریت ہے انہوں نے ڈالروں کے جہاد میں ساری دنیا کے انتہا پسندوں کو نہ صرف پاکستان کا راستہ دکھایا بلکہ پورے فاٹا کو ایک تجربہ گاہ بنادیا دنیا بھر سے آنے والے جہادیوں نے بڑے مظالم ڈھائے اور وزیروں کو نکال باہر کرکے جنوبی وزیرستان کو غیر قوموں کے حوالے کردیا۔
ضیاء الحق نے آئین کا تیا پانچہ کرکے اسے اپنے خیالات کے مطابق ڈھالا وہ اتنے بھاری ہوگئے تھے کہ اپنے حلقہ کیلئے بھی عذاب کا باعث بن رہے تھے اس لئے سی 130 طیارے کے حادثہ میں دور دیس چلے گئے وہ اپنے پیچھے جو لوگ چھوڑ کر گئے وہ تاحال ان کے مشن کو لیکر آگے چل رہے ہیں پہلے ان کے جانشین نواز شریف تھے لیکن بڑوں نے عمران خان کو جانشینی کیلئے زیادہ موذوں سمجھا چونکہ غلبہ ضیاء الحق کے اپنے حلقے کا ہے اس لئے عمران خان ہو شوکت عزیز ہو جمالی ہو یا کوئی اور انہیں ڈکٹیشن پر چلنا پڑتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اقتدار کی کرسی پر جنرل ضیاء الحق کی روح بیٹھی ہوئی ہے اور ریاست کو چلا رہی ہے حالانکہ ریاست چل نہیں رہی ہے ایٹمی قوت ہونے کے باوجود یہ جنوبی ایشیاء کی تمام ریاستوں سے پیچھے ہے۔
ضیاء الحق نے سارے نظام کو کینسر زدہ کردیا ہے جس کا علاج بظاہر ناممکن ہے۔
عمران خان نے گوادر میں فرمایا کہ وہ بلوچ عسکریت پسندوں سے بات کرنے کا سوچ رہے ہیں 3 سال کے عرصے میں یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں بات چیت اور گفت شنید کا خیال آیا ہے یقینی بات ہے کہ ان سے کہا گیا ہوگا کہ وہ یہ شوشہ چھوڑیں سوال یہ ہے کہ وہ کس سے بات کریں گے اس کا ایجنڈا کیا ہوگا اور ریاست کس حد تک تیار ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کے بعض مطالبات تسلیم کرلے اس طرح کے مذاکرات ڈاکٹر مالک نے بھی لندن اور جینوا میں کئے تھے لیکن ان کی واپسی پر معاملہ ترک کردیا گیا ڈاکٹر مالک گزشتہ روز بھی ایک انٹرویو میں کہہ رہے تھے کہ حکمران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہیں بلوچستان میں مذاکرات کی حیثیت بہت تلخ ہے مذاکرات کا آغاز تو جنرل پرویز مشرف نے بھی نواب اکبر خان شہید سے کیا تھا لیکن انہیں ادھورا چھوڑ کر انہوں نے سب سے بڑے بلوچ قائد کو تراتانی میں بمباری کرکے شہید کیا تھا۔
مذاکرات تو ایوب خان نے نواب نوروز خان کے ساتھ بھی کئے تھے لیکن پہاڑوں سے اترنے کے بعد ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے ایوب خان نے نوروز خان کو پہاڑوں سے اتارنے کیلئے قرآن مجیدکا سہارا بھی لیا۔
مذاکرات تو جنرل ضیاء الحق نے نواب خیر بخش مری میر غوث بخش بزنجو اور سردار عطا اللہ مینگل سے کئے تھے انہوں نے کوئٹہ اور سبی میں دو مرتبہ ان رہنماؤں سے ملاقات کی تھی جس کے بعد نواب مری اور سردار مینگل نے جلاوطنی اختیار کی تھی یہ ایک راز ہے جسے سردار مینگل افشا کرسکتے ہیں۔
بنیادی بات یہ ہے کہ مزاحمتی رہنما اس وقت کئی گروپوں میں منقسم ہیں چند رہنما لندن اور جینوا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں امکانی طور پر پہاڑوں میں موجود کمانڈر ان کے زیر اثر نہیں ہیں وہ اپنے طور پرایکٹ کررہے ہیں اگر حکومت نوابزادہ براہمداغ اور حیربیار سے بات چیت کرے گی تو اس کا اتنا اثر نہیں ہوگا جو لوگ پہاڑوں سے مزاحمت کررہے ہیں ان تک رسائی مشکل ہے اور بنیادی بات ہے کہ ان سے کون اور کیسے رابطہ کرے گا ضروری نہیں کہ وہ حکومت کا کہا مانیں اور اس کے آگے سرنڈر کریں لہٰذا یہ ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے اور حکومتی کوششوں کی کامیابی کا امکان کم ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعتماد کی فضا کیسے قائم کی جائے گی۔
نواب نوروز خان اور نواب اکبر بگٹی کی مثالیں سامنے ہیں یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ آیا حکومت نے اپنی سابقہ حکمت عملی تبدیلی کرلی ہے یا یہ وقت کے حصول کیلئے ایک نئی چال ہے۔
جہاں تک حکمرانوں کی نئی ڈاکٹرائن کا تعلق ہے اس کا ایک حصہ خفیہ اور دوسرا ظاہری ہے حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کو بروئے کار لائے بغیر ریاست مستحکم نہیں ہوسکتی یا اس کا وجود خطرے میں پڑسکتا ہے بلوچستان کے وسائل کیاہیں سب سے بڑا وسیلہ تو ساحل ہے جس پر حکومت نے قبضہ کررکھا ہے دوسرا بڑا وسیلہ ریکوڈک ہے جسے چلانے کیلئے سیٹھوں کا ایک کنسوریشم تشکیل دیا گیا ہے ریکوڈک اگر آئندہ پانچ سال تک چل پڑے تو اس سے فوری آمدنی شروع ہوسکتی ہے جس سے ریاست کو ریلیف مل سکتا ہے ساحل کو بروئے کار لانے کیلئے طویل عرصہ چاہئے۔
ذہن میں خیال آتا ہے کہ حکومت اس بات سے آگاہ ہے کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟
ماضی میں حکمران ترقی اور پسماندگی کو بلوچستان کا مسئلہ قرار دیتے رہے ہیں جبکہ اصل مسئلہ بلوچ کی قومی شناخت اور حق ملکیت ہے اگر بلوچ کے بغیر حکومت بلوچستان کو ترقی دے گی تو یہ اس طرح کی ترقی ہوگی جو امریکہ میں ریڈانڈین اور آسٹریلیا میں موریوں کے بغیر دی گئی بلوچ مرکزی حکمرانوں سے جو گارنٹی مانگتے ہیں وہ دینے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ حکمران پورے بلوچستان میں آبادی کے توازن کو بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ کام افغانستان میں خانہ جنگی کے بعد نئے مہاجرین کی آمد سے آسان ہوجائیگا۔
کئی مبصرین کا خیال ہے کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے اور بدقسمتی سے جو سیاسی جماعتیں اور رہنما آئین کے دائرہ کار کے اندر کام کررہے ہیں انہیں غیر مؤثر بنادیا گیا ہے جبکہ بلوچستان اپنی تاریخ کے سنگین انسانی بحران سے دو چار ہے ایسی صورتحال میں ایک غیر معمولی قیادت کی ضرورت ہے جوکہ فی الحال پارلیمانی جماعتوں کے اندر موجود نہیں ہے ان جماعتوں کی سنجیدگی اور بالغ نظری کایہ عالم ہے کہ پورا ساحل جارہا ہے یہ نعرہ لگارہے ہیں کہ گوادر کو پانی دو گوادر کا پانی یا مسنگ پرسنز کی واپسی اصل مسئلہ نہیں ہے اصل مسئلہ ہے کہ موجودہ پر خطر حالات میں بلوچستان کی شناخت اور آبادی کے توازن کو کیسے بچایا جائے۔
جب گوادر میں چار کنویں تھے تو بھی وہاں کے لوگ زندہ تھے اور جب فصلیں نہیں تھیں راستے نہیں تھے تو لوگ گزارہ کررہے تھے جو ترقی غیروں کیلئے ہو وہ ترقی نہیں تباہی ہے۔
گوادر کی تقریب کی کمپیئرنگ کرتے ہوئے ایک خاتون نے فرمایا کہ ترقی کی مثال یہ ہے کہ وہ اس تقریب کی کمپیئرنگ کررہی ہیں یہ محکوموں کا وطیرہ ہے کہ وہ چھوٹی سی چیز اور شاباشی پر بھی پھولے نہیں سمائے اور آقاؤں کی خوشنودی کے حصول کیلئے ہر حد پار کرجاتے ہیں۔
میں نے کئی بار کہا ہے کہ ترقی نہیں دو زندہ رہنے کا حق دو جینے دو زنجیروں میں مت جکڑو چاہے یہ سونے کی زنجیریں کیوں نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں