ورکنگ کمیٹی دیوان : بلوچستان کے موجودہ جنگ زدہ حالات میں بلوچ خواتین کو یکجاہ ہو کر اپنے حقوق کے لئے جہدوجہد کرنا ہوگا، بلوچ وومن فورم
بلوچ وومن فورم کا ورکنگ کمیٹی دیوان 11 جولائی کو کوئٹہ میں منعقد کیا گیا ، ورکنگ کمیٹی دیوان تین حصوں پر مشتمل تھا جس میں پہلے حصے میں سمّو راج کے کارکنان کے ساتھ بلوچ خواتین کی تاریخی ، سیاسی ، معاشرتی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ۔جبکے دوسرے حصے میں موجودہ دور میں بلوچ وومن فورم ( سمّو راج ) کے قیام کی ضرورت اور مقاصد پر کارکنان کو لیکچر دیا گیا۔
ورکنگ کمیٹی دیوان کے تیسرے حصے میں کارکنان نے سوالات کیے، بلوچ خواتین کے مسائل پر تبصرہ کیا گیا اور فورم کے آنے والے لائے عمل پر غور کیا گیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ورکنگ کمیٹی دیوان میں بلوچ خواتین کی تاریخی حیثیت مہر گڑھ کے قدیم زمانے سے لے کر آج کے جدید دور تک بلوچ عورت کی سیاسی اور معاشرتی کردار تفصیل سے ببان کی گئی ۔
مہرگڑھ میں عورت کے مضبوط کردار سے لے کر آج کے بلوچ سماج میں میں عورت کا مقام تاریخ کے مختلف ادوار اتار چھڑاو کا شکار رہا ہے ۔
چودھویں صدی سے لے کر اٹھاروئں صدی تک بلوچ عورت ایک مہذب معاشرے کا حصہ رہا ہے جس میں وہ گدانوں میں بھی محفوظ رہی ہے لیکن 19 ویں صدی کے نصف سے موجودہ دور میں بلوچ عورت اپنی تاریخی تحفظ ، برابری اور عزت کا مقام کھو چکا ہے اور آج کے بلوچ سماج میں عورت سماجی اور ریاستی جبر کا شکار ہے ۔ آج بلوچ زمیں میں جنگ زدہ حالات میں سب سے زیادہ متاثر بلوچ عورت ہے اور اس جبر کا مقابلہ کرنے کے لئے بلوچ وومن فورم کی تشکیل ناگزیر تھی۔
ورکنگ کمیٹی دیوان میں بلوچ وومن فورم کے مقاصد کے بارے تفصیل سے گفتگو کی گئی اور خواتین کے مختلف مسائل کو زیر بحث لایا گیا، بلوچستان کے موجودہ حالات میں بلوچ خواتین کو یکجاہ کرکے جہدوجہد کرنے پر زور دیا گیا تاکہ اِن جنگ زدہ حالات میں بلوچ خواتین ریاستی جبر کا مقابلہ کرکے اپنے حقوق حاصل کرسکیں ۔


