اکیسویں صدی کے اسباق یا اہداف؟

تحریر۔۔۔راحت ملک
اسرائیلی نڑاد امریکی مصنف پروفیسر یوول نوح ہراری کو پی ہنگٹن کی طرح دنیا بھر میں شہرت وپذیرائی ملی ہے اول الذکر کو متازعہ خیالات کے اظہار پر جبکہ ثانی الذکر کو سائنسی اختراعات سے اخذ شدہ حیرت انگیز استد لال اخذ کرنے کی بنیاد پر۔
یول براری کی کتاب
21 lessons for the 21 century.
۔جس کا اردو ترجمہ جناب ناصر فاروق نے۔
اکیسویں صدی کے 21اسباق۔ کیا ہے۔ مترجم نے اپنے ذاتی خیالات جو خالصتا ًدائیں بازو کیرجعتی رجحانات پر مبنی ہیں،ترجمے میں سمو دیا ہے،گویا ترجمہ خالصتاً رہا نہ۔محترم ناصر فاروق کے رخش ٍفکر کا اثبات،
کتاب برادرم آصف صاحب کے ادارے بک ٹائم کرچی نے شائع کی ہے۔
(میرا بصرہ باب اول کے مطالعہ تک محدود ہے)
(باب اول۔۔تاریخ کا ختتام ہوگیا)میں تلخیص کے باعث پروفیسر براری کے استدلال میں ابہام آگیا ہے۔لبرل ازم کی اصطلاح پر بحث و تنقید بالخصوص مبہم ہو گئی ہے۔پندرہویں صدی عیسوی میں یورپ کے عہدے تاریک میں نشاہ الثانیہ کے آثار نمو دار ہوئیتھے، روشن فکری کی تحریک ابھری اور روایتی انداز فکر و نظریات تصورات جن پر مسیحی مبلغین کا غلبہ تھا کے خلاف آزادانہ فکری اظہار کا میلان مستحکم ہوا،اسے فلسفیانہ مباحث میں لبرل ازم کہا جاتا ہے۔آزادی ٍ خیال کے اس ابتدایے میں جبر جہالت اور غیر عقلی غیر سائنسی فکری مزاج کی مزاحمت سے تجربی سائنسی انداز فکر کو عقائد پر فوقیت ملنے لگی زمین کے ساکت ہونے کا خیال۔ خیال ٍ خام ٹھہرا اور زمین کی گردش کا سائنسی تصور عام طور پر قبول کر لیا گیا دلچسپ نقطہ یہ ہے کہ گردش زمین کے خیال کی پھر چرچ نے بھی مخالفت ترک کر دی آج کی جدید سائنسی احتراعات کے ذریعے فاصلوں کا سمٹنا خلاء میں انسان کی تسخیری مہم انہی لبرل سائنسی تجربی فکری میلانات کا حاصل نتیجہ ہے بعد ازاں لبرل ازم کے فکری بطن سے لبرل جمہوریت اور لبرل معاشیات یا آزاد تجارت نے جنم لیا اولین طور پر مغربی ممالک نے لبرل معاشی تصورات کو مقامی سرمایہ کار کے مفاد اور محنت کے استحصال کیلئے نیز زائد صنعتی پیداواری کھپت۔ سستے خام مال اور منڈیوں پر اجارہ داری کیلئے لبرل معاشیات سے استفادہ کیا یہ مغربی سامراج کی قوم پرستانہ تسلط پسندی کا سیاسی تناظر بھی ہے جس کے ردعمل میں نوآبادیات میں پھر قومی آزادی کی تحریکیں پیدا ہوئیں اور قوم پرست کہلائیں۔
لبرل ازم کی آزاد معاشی تشکیل نے استحصال پر مبنی اجارہ دارانہ معاشی حکمت عملیاں اپنائیں نولبرل اکانومی، تھیچر ازم ریگن ازم کو فروغ ملا۔ سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ ہی عالم گیریت اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ذریعے قومی ریاست اور معیشت کو عالمی یا انسانی بنانے کا آغاز ہوا لبرل فکری نظم کی معاشی بنت کاری سے قبل لبرل سیاسی افکار کے ذریعے شہنشاہیت کے مقابل انسانی جمہوری حقوق۔ انسانی برابری۔ خواتین اور محنتکشوں کے استحقاق تسلیم کرنے کی جدوجہد کے علاوہ عوامی تائید و منشا کے ساتھ قانون سازی و حکمرانی جیسے تصورات نے جمہوریت کو مستحکم کیا۔
رطورپر استعمال ہوتے ہیں پروفیسر ہراری اپنے تھیسسز کے خدوخال وضع کرتے ہوئے حوالا دیتا ہے کہ ” 1999 میں امریکی صدر کلنٹن نے چین کو اس بات پر لتاڑا کہ وی لبرل سیاسی اقدار کیوں اختیار نہیں کرتا “
یاد رہے کہ ماؤ کے بعد ڈینگ پیاؤ کے دور سے چین کی حکمران جماعت کیمونسٹ پارٹی۔ چینی طرز کا مخصوص سوشلزم تعمیر کررہی ہے اس کے زیادہ واضح خدوخال موجودہ صدر جناب شئی چن پنگ نے پارٹی کے مختلف اجلاسوں میں پالیسی بیانات پیش کیے ہیں جو کتابی صورت میں موجود ہیں۔ جناب شئی انہیں چینی سوشلزم کی اصطلاح کے ساتھ بیان کرتے ہیں جو لبرل معاشیات اور سوشلزم کے اقتصادی تصورات کا ملغوبہ ہے۔
چین لبرل معاشیات کے ایک بڑے حصے کو قبول کرتا ہے جس میں آزادانہ بیرونی سرمایہ کاری۔ بیرونی تجارت میں آزادی۔ نجی جائیداد کا حصول وغیرہ شامل ہیں لیکن چین لبرل سیاست کے تصورات پر عمل نہیں کرتا یہی پہلو کلنٹن کی تنقید کا احاطہ کرتا ہے اس تنقید سے معلوم ہوتا ہے کہ چین سمیت پوری دنیا یا بیشتر ممالک کے لیے تاحال مغربی سیاست و معیشت کا آزاد منڈی کا نظریہ مکمل انداز میں اپنانے پر آمادہ نہیں۔
” دوسری عالمی جنگ کے بعد فاشسٹ کہانی کا خاتمہ ہوا۔ پھر چوتھی دھائی کے اواخر سے آٹھویں دھائی کے اختتام تک دنیا لبرل ازم اور کیمونزم کی دو کہاننیوں کا میدان جنگ بنی رہی”
اس اقتباس میں لبرل کہانی کے الفاظ بہت مبہم چور پر استعمال ہونے ہیں۔ ایک آزاد خیال نظام فکر یا لبرل
سا لبرل ازم فتحیاب ہوا ہے؟؟ کم از کم اس باب میں یہ بات قاری پر نہیں کھلتی۔
جدید سائنسی تحقیق واحتراعات کے موثر و پیچیدہ عمل کے اثرات معاشرتی سیاسی اور معاشی شعبوں میں ظاہر ہورہے ہیں۔ لارڈ رسل نے بیسویں صدی کے وسط میں ” نعاشرے پر سائنس کے تاثرات ” قلمبند کیے تھے پروفیسر ہراری مصنوعی ذھانت کے روز افزوں بڑھتے استعمال کے اثرورسوخ کا حوالہ دے کر اکیسویں صدی میں انسانی حیات اور سماجی کردار پر اس کے منفی اثرات بیان کرتا ہے
” انفوٹیک اور بائیوٹیک کا جڑواں انقلاب معاشیات اور معاشروں کی از سر نوتنظیم وتعمیر کریں گے چناچہ جناب ہراری خدشہ ظاہر کرتت ہیں کہ” بائیوٹیک اور انفوٹیک انقلاب خارجی دنیا کے ساتھ ساتھ داخلی انسانی دنیا پر قابو پاسکے گا یہی وجہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت 2018 سے خود کو عالمی نظام سے لاتعلق ہوتا محسوس کررہی ہے لبرل کہانی عام لوگوں کی کہانی تھی یہ سائی بورگز اور ایلگوریتھم نیٹ ورکس کی دنیا میں کس طرح چل سکتی ہے”
کیا مصنوعی ذہانت اپنی اعلیٰ ترین مساعی کے باوصف روبوٹ یا جدید ترین کمپیوٹر میں شعوری استعداد پیدا کرلے گی؟
جدید کمپیوٹر یا روبوٹک اشیاء انسانی ذہن کی تخلیقات ہیں یہ وہی کردار و امور انجام دیں گی جن کی انسان نے پروگرامنگ کی ہو گی زیر عمل امور کی انجام دی سرعت اور تکمیلیت کے ساتھ انجام پذیر ہونگی
گی اچانک درپیش آمد کسی مشکل کا حل مذکورہ کمپیوٹر از خود تلاش نہیں کر سکیگا۔ چنانچہ بائیوٹیک اشیاء کو انسانی وجود کی حیاتیتی ارتقائی صورت قرار دینا عجلت آمیزی کے سوا کچھ نہیں۔
انفوٹیک روزگار کے مواقع بدلے گی شاید بے روزگاری کے بحران بھی جنم لیں لیکن محنت کی عالمی منڈی تشکیل پا رہی ہے جو کسی کنٹرولنگ مرکز سے محروم ھے گھر بیٹھے آن لائن ملازمت روزگار اور تجارت کے مواقع پیدا ہونے ہیں جن سے ایشیا و لاطینی امریکہ کے ممالک میں بالخصوص معاشی حالات میں تبدیلی آئی ہے اور مزید تبدیلیوں کا وسیع امکان ہے اس کے نتیجے میں سیاسی تبدیلیاں جنم لیں گی محنت کی عالمی منڈی کا ابھرنا اب بعید از قیاس نہیں کہ استعماری عالم گیریت کے برعکس بین الاقوامیت پروان چڑھے گی اور یوں لاتعلقی نہیں بلکہ باہمی قرایت کے مواقع بڑھیں گے۔ افغانستان کی حالیہ صورتحال عالمی ریاستی اور انسانی تعلقات کی باہمی جڑت کی ایک عمدہ مثال ہے حکومتیں افغانستان میں مداخلت پر عمل پیرا ہیں تاکہ معاشی مفادات محفوظ رہ سکیں چاہے پرامن افغانستان ہو یا میدان جنگ ہر دو صورتوں میں معاشی لبرل ازم کا جنگویانہ جنون رقص دکھائی دے رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ جناب ہراری کے دعوے کے برعکس ابھی لبرل معاشیات کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ داخلی مخاصمت کی جدلیاتی کشمکش میں بدل چکا ہے اور اس سے ایک نئی معاشیات و سیاست نمودار ہوگی جس کی تکنیکی شکل و صورت بارے فی الحال حتمی رائے نہین دی جا سکتی البتہ اس کے پائیدار اور عالمی سطح پر قابل قبول ہونے کا لازمی انحصار مندرجہ ذیل امور پر ہو گا۔
1) دنیا بھر میں دولت کی تخلیق کے ذرائع میں جدت کار لائی جائے۔ یعنی فرسودہ پیداواری رشتوں کی جگہ نئے پیداواری تعلقات جنم لیں
2) پیدا شدہ دولت کی تقسیم کم از کم سطح پر اتنی منصفانہ ہو کہ خطٍ افلاس سینیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کی تعداد صفر ہو جائے (مرکر نہیں زندہ رہتے ہوئے)
3) علم و تحقیق کے شعبے میں یر قسم کی اجارہ داریاں ختم ہوں۔
4) استحصالی نظام کے خاتمے کیلئے ہر ملک میں مقامی دولت کی تقسیم و ملکیت پر اسی ملک کے عوام کا حق تسلیم کیا جائے۔
5) ایک عالم گیر انسانی سماج قائم ہو جس میں اپسی روابط باہمی اعتماد و احترام پر قائم ہوں دنیا بھر میں آمدورفت میں حائل قانون رکاوٹیں ختم ہو جائیں اور کرہ ارض حتمی طور پر قوموں کا نہیں بلکہ انسانوں کو مساوی مسکن بن جائے۔
یہ اغراض لبرل ازم کی سیاسی معیشت حاصل نہیں کر سکتی سوشلزم کی آمریت بھی تمام مسائل حل
ہے تاریخ کے ایام ٍگزشتہ سے ” اسباق “اخذ کر کے 21ویں صدی جری ارض کو بیترین انسانی مسکن بنانا ممکن ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں