تربت میں بجلی بحران، عوام کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، انجمن تاجران تربت
تربت (نمائندہ انتخاب) انجمن تاجران تربت کے قائم مقام صدر نثار آدم جوسکی نے گزشتہ دنوں آبسرکے عوام کے بجلی مسئلہ پر احتجاج کی مکمل حمایت کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ بجلی بحران کے خلاف احتجاج کی پاداش میں آبسرکے سیاسی کارکنوں حاجی غلام یاسین، حاجی عبدالعزیز اورمحمد اقبال بلوچ کے خلاف ایف آئی آردرج کرانے کی کسی بھی سازش اورکوشش کی شدید مزاحمت کی جائے گی، اگر ان کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا تو یہ انتہائی احمقانہ اور منفی اقدام سمجھاجائے گاجس کے خلاف انجمن تاجران کیچ چٹان کی مانند کھڑی ہوگی، انہوں نے کہاکہ کیسکو اور انتظامیہ ٹھنڈے دل سے یہ سوچے کہ ایک ایسی صورتحال میں کہ جب گرمی اپنی زوروں پرہے، کرونا لاک ڈاؤن ہے، عوام کوگھروں پر رہنے پر مجبورکردیاگیاہے گھروں میں دن بھر بجلی نہ ہو، شدید گرمی میں عوام احتجاج نہ کریں توکیا کریں، آبسرکا احتجاج کسی سیاسی پارٹی کی نہیں بلکہ آبسرکے عوام کی احتجاج تھی عوام تنگ آکر اپنے گھروں سے نکلے ہیں اور سیاسی کارکنوں نے اپنے عوام کا ساتھ دیا ہے جو ایک سیاسی کارکن کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے عوام کا ساتھ دے انہوں نے کہاکہ کیسکو اورانتظامیہ کواس بات پر سیاسی کارکنوں کا شکرگزارہونا چاہیے تھا کہ وہ احتجاج میں ساتھ تھے وگرنہ کیسکو گردی کے شکار گرمی کے ستائے بپھرے عوام کچھ بھی کرسکتے تھے، سیاسی کارکنوں نے انہیں پرامن احتجاج کی طرف مائل کیا، انہوں نے کہاکہ حاجی غلام یاسین، حاجی عبدالعزیز اور محمد اقبال بلوچ کو جنہیں ایف آئی آرمیں نامزدکرنے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ سیاسی کارکن کے ساتھ ساتھ دوکاندار بھی ہیں، دوکاندار اور سیاسی کارکن کبھی انتشارنہیں چاہتا، دوکاندار پرامن اور سازگار ماحول کاخواہاں ہوتاہے، جوکچھ ہواہے اس کے ذمہ دار سیاسی کارکن اوردوکاندار نہیں ہیں خود کیسکو ہے، کیسکو سے بازپرس کی جائے کیسکو افسران کی سرزنش کی جائے، بجلی بحران کافوری خاتمہ کیاجائے اورعوام کومختلف حیلوں بہانوں سے تنگ اورہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیاجائے، انہوں نے کہاکہ ایس ای کیسکو سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں، عوام کے جذبات اور اشتعال کس قدرتھے، اب الٹا سیاسی کارکنوں کو انتقامی کاروائی کانشانہ بنانے سے گریزکیاجائے بصورت دیگر انجمن تاجران کیچ اس ایف آئی آر کو انجمن تاجران کے خلاف ایف آئی آرسمجھ کر اس کے خلاف چٹان کی مانند کھڑی ہوکر ہرقسم کے حالات کامقابلہ کرنے کیلئے تیاررہے گی اور انتظامیہ اورکیسکو کے ساتھ تعاون کی اپنی پالیسی پرنظرثانی پرمجبورہوجائے گی۔


